Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی مظاہرین: سپریم کورٹ کا تمام ریاستوں کو کارروائی پر روک لگانے کا حکم

Updated: July 28, 2026, 5:36 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے حالیہ طلبہ احتجاج کے معاملے میں تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کی مزید جابرانہ کارروائی نہ کی جائے ۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تمام نابالغوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے منگل کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں دہلی کے جنتر منتر اور ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے حالیہ طلبہ احتجاج سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے مظاہرین کو اہم عبوری ریلیف فراہم کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ احتجاج میں شریک افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی مزید جابرانہ یا سخت کارروائی نہ کی جائے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت ، جسٹس جوی مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے تمام ریاستی حکومتوں اور پولیس حکام کو ہدایت دی کہ احتجاج کے دوران گرفتار یا حراست میں لیے گئے ۱۸؍ سال سے کم عمر تمام طلبہ اور نابالغوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکم ان افراد پر لاگو نہیں ہوگا جن کا مجرمانہ پس منظر موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کیرالا: آر ایس ایس لیڈر کے جنتر منتر کے متنازع بیان پر پولیس تحقیقات کا حکم

عدالت نے پولیس کارروائی کے دوران مظاہرین سے ضبط کیے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ہارڈ ڈرائیوز، کیمروں اور دیگر ڈجیٹل آلات اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق بھی اہم ہدایات جاری کیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ تمام ڈجیٹل مواد محفوظ رکھا جائے اور کسی بھی فرد کا ذاتی یا ڈجیٹل ڈیٹا عوامی طور پر ظاہر نہ کیا جائے۔ سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کارروائی سے متعلق سنگین الزامات کا بھی نوٹس لیا۔ بنچ نے ریمارکس دیے کہ ’’جس کسی نے بھی حد سے تجاوز کیا ہے، اسے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘‘ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ احتجاج جمہوری نظام کا ایک بنیادی حصہ ہے اور ریاستی اداروں کو قانون نافذ کرتے وقت شہری آزادیوں اور آئینی حقوق کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھنا چاہیے۔

یہ مقدمہ ان متعدد درخواستوں پر مشتمل ہے جن میں الزام لگایا گیا کہ ۲۰؍ جولائی کو دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے CJP احتجاج اور اس کے بعد مختلف ریاستوں میں طلبہ کے خلاف پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں، لاٹھی چارج کیا، پیلٹ گن استعمال کی گئی اور متعدد نابالغوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران دہلی میں RAF کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال، بہار میں سیکڑوں مظاہرین کی گرفتاری، اور مختلف ریاستوں میں درج ایف آئی آرز بھی قومی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبرا میں دوسری منزلہ کی چالی کا حصہ پہلے منزلہ پر گرا، ۱۵؍سالہ لڑکی کی موت

عدالت نے مرکز، دہلی حکومت اور دیگر متعلقہ ریاستوں سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر مقرر کی ہے۔ عبوری حکم کے مطابق اس دوران احتجاج میں شریک افراد کے خلاف نئی سخت کارروائیاں نہیں کی جائیں گی، جبکہ نابالغ زیر حراست افراد کی رہائی فوری طور پر یقینی بنائی جائے گی۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب گزشتہ روز مختلف ریاستوں میں احتجاجیوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے اور گرفتار افراد کی رہائی کے مطالبات مزید زور پکڑ گئے تھے۔ بعض ریاستی حکومتوں نے پہلے ہی احتجاج سے متعلق ایف آئی آرز واپس لینے یا زیر حراست افراد کو رہا کرنے کے اعلانات کیے ہیں، جبکہ دیگر ریاستوں میں یہ معاملہ اب بھی زیرِ غور ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK