Updated: May 05, 2026, 12:59 PM IST
| New York
کرن جوہر نے میٹ گالا ۲۰۲۶ءمیں اپنی پہلی شرکت کے دوران منیش ملہوترہ کے تیار کردہ لباس کا انتخاب کیا، جو راجہ روی ورما سے متاثر تھا۔ اس لباس میں ہندوستانی ڈریپنگ، ہاتھ سے بنائی گئی سنہری آرٹ ورک اور ذاتی کہانی کو یکجا کیا گیا تاکہ عالمی فیشن اسٹیج پر ورثہ، ہنر مندی اور سنیما کی جذباتیت کو پیش کیا جا سکے۔
کرن جوہر نے میٹ گالا ۲۰۲۶ءمیں اپنی پہلی شرکت کے دوران منیش ملہوترہ کے تیار کردہ لباس کا انتخاب کیا، جو راجہ روی ورما سے متاثر تھا۔ اس لباس میں ہندوستانی ڈریپنگ، ہاتھ سے بنائی گئی سنہری آرٹ ورک اور ذاتی کہانی کو یکجا کیا گیا تاکہ عالمی فیشن اسٹیج پر ورثہ، ہنر مندی اور سنیما کی جذباتیت کو پیش کیا جا سکے۔
کرن جوہر، جوہندوستان کے نمایاں فلم ساز اور دھرما پروڈکشنز کے پروڈیوسر ہیں، اس سال میٹ گالا میں پہلی بار شریک ہوئے۔ یہ ایک اہم لمحہ تھا کیونکہ وہ اس تقریب میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے پہلے ہندوستانی ہدایتکار بنے۔ جدید ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے کے لیے مشہور جوہر، میٹ گالا میں ایک ایسے نقطہ نظر کے ساتھ پہنچے جو نہایت ذاتی بھی ہے اور ان کی جڑوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
کرن جوہر کے راجہ روی ورما سے متاثر لُک کی تفصیل
یہ لباس، جسے منیش ملہوترہ نے ڈیزائن کیا، براہ راست راجہ روی ورما کی پینٹنگز سے متاثر ہے۔ اس میں ڈریپ، روشنی اور زیور کے روایتی انداز کو جدید فیشن کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس کی ساخت کلاسیکی ہندوستانی ڈریپنگ پر مبنی ہے، جسے اس مہارت سے تیار کیا گیا کہ کپڑا جسم کے ساتھ حرکت کرے مگر اپنی مجسماتی خوبصورتی برقرار رکھے۔یہ لباس راجہ روی ورما کی مشہور پینٹنگز جیسے ’’ہمسہ دمینتی‘‘،’’کدامبری‘‘، ’’ارجن اور سبھدرا‘‘ اور ’’دیر کمز پاپا‘‘ سے متاثر ہے۔ ان کا انتخاب صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ ان میں موجود گہری جذباتی سچائی کی وجہ سے کیا گیا۔ اس لباس کی خاص بات اس کی سطح ہے: سنہری رنگ میں ہاتھ سے کی گئی پینٹنگ، جو روایتی کاریگروں نے براہ راست کپڑے پر بنائی۔ یہ برش اسٹروکس نہایت باریک، روشن اور منفرد ہیں، جو روی ورما کی پینٹنگ کی قربت کو لباس میں منتقل کرتے ہیں۔
نتیجتاً، یہ لباس نہ صرف ایک ملبوس ہے اور نہ ہی محض روایتی فیشن، بلکہ دونوں کے درمیان ایک تخلیق ہے۔ایک ایسا روپ جو تاریخ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور پہننے پر ایک نئی زندگی پاتا ہے۔کرن جوہر کہتے ہیںکہ ’’میں یہاں آ کر ہندوستان کی وضاحت نہیں کرنا چاہتا تھا۔میں صرف خود بن کر آنا چاہتا تھا، اور وہ خود بخود میرے پس منظر کو ساتھ لے آتا ہے۔‘‘
کرن جوہر کے لیے راجہ روی ورما کا حوالہ ایک فطری انتخاب تھا۔ روی ورما کی تصاویر ہندوستانی بصری یادداشت میں اس حد تک شامل ہیں کہ اکثر شعوری پہچان سے پہلے ہی ذہن میں بس جاتی ہیں۔ دیوی کا ساڑی تھامنے کا انداز، چہرے پر پڑتی روشنی، اور وہ سکون جس میں حرکت بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نوشاد کی دھنیں آج بھی براہ راست دل میں اترجاتی ہیں
یہ لُک اسی روایت کو فیشن میں ڈھالتا ہے، جہاں ڈریپ ایک سلہوٹ بن جاتا ہے، برش اسٹروک کڑھائی میں بدل جاتا ہے اور جسم ایک کینواس بن جاتا ہے۔ روی ورما کی خاصیت یہ تھی کہ وہ عظیم کہانیوں کو ذاتی بنا دیتے تھےاور یہی خصوصیت کرن جوہر کی فلموں میں بھی گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید
لباس کے بارے میں کرن جوہر کی رائے
کرن جوہر نے کہاکہ ’’میرے لیے ضروری تھا کہ یہ ذاتی محسوس ہو، اور جب یہ ذاتی بن گیا تو وہ خود بخود ہندوستانی بھی ہو گیا کیونکہ میری ہر چیز کی جڑ یہی ہے۔ میری ہر کہانی، ہر فلم اور ہر جذبہ اسی جگہ سے آیا ہے۔ راجہ روی ورما کا انتخاب اس لیے درست لگا کیونکہ ان کا کام وہی کرتا ہے جو میں سنیما میں کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔وہ جذبات کو پینٹ کرتے تھے۔ ساڑی کا انداز، جسم کی ساخت، چہرے پر روشنی سب کچھ ایک ساتھ دیوی جیسا بھی اور انسانی بھی۔ میں ان تصاویر کے ساتھ پلا بڑھا ہوں، چاہے مجھے اس کا شعور نہ بھی ہو۔ یہ میرے لیے اس ورثے کو پہننے کا ایک طریقہ ہے، اور میرے پہلے میٹ گالا کے لیے اس سے زیادہ سچا کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘