چارسدہ کی معروف مذہبی شخصیت، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس ترنگزئی قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔مولانا محمد ادریس پر فائرنگ کا واقعہ ضلع چارسدہ کے علاقے اتما نزئی میں پیش آیا۔ واقعہ میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
EPAPER
Updated: May 05, 2026, 12:02 PM IST | Karachi
چارسدہ کی معروف مذہبی شخصیت، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس ترنگزئی قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔مولانا محمد ادریس پر فائرنگ کا واقعہ ضلع چارسدہ کے علاقے اتما نزئی میں پیش آیا۔ واقعہ میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
چارسدہ کی معروف مذہبی شخصیت، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس ترنگزئی قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔مولانا محمد ادریس پر فائرنگ کا واقعہ ضلع چارسدہ کے علاقے اتما نزئی میں پیش آیا۔ واقعہ میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ مولانا محمد ادریس دورۂ حدیث درس دینے کے لیے دارالعلوم اتمانزئی جارہے تھے کہ یہ واقعہ رونما ہوا، ان کی نعش ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دی گئی، جہاں اطلاع ملتے ہی ان کے ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند پہنچ گئے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کا شمار پاکستان کے نامور اور جید علماء کرام میں ہوتا تھا، پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی تھی، واقعہ کے بعد انہیں فوری طور پراسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے، فائرنگ کے واقعہ کے بعد ملزمین موقع سے فرار ہوگئے۔ آئی جی خیبرپختونخوا نے ملزمین کی فوری گرفتاری کیلئے احکامات جاری کردیے ہیں۔
مولانا محمد ادریس کی نماز جنازہ ۵؍ مئی ۲۰۲۶ء بروز منگل سہ پہرساڑھے ۵؍ بجے ان کے آبائی گاؤں ترنگزئی ضلع چارسدہ میں اداء کی جائے گی۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مولانا ادریس کی قاتلانہ حملہ میں شہادت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی۔
فیصل کریم کنڈی نے شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کو ملک کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا، انہوں نے کہا کہ شہید کی زندگی دین کے پرچار اور امن کے فروغ میں صرف ہورہی تھی۔ مولانا کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی قاتلوں کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے گا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا محمد ادریس کی شہادت افسوسناک ہے، مشکل کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ڈونالڈ ٹرمپ کا ایران کو دوٹوک پیغام، معاہدہ یا جنگ کا انتخاب
سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس دلخراش سانحہ پر اہلِ خانہ اور تمام لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال لمحۂ فکریہ ہے۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے، مگر مسلسل ایسے واقعات حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔