Updated: October 15, 2026, 1:39 PM IST
| Karanja
مہاراشٹر کے کارنجہ شہر کے دو اردو پرائمری اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروں سمیت تین افراد کی سڑک حادثے میں موت ہوگئی۔ یہ المناک حادثہ بدھ، ۱۴؍ اکتوبر کو شیلوبازار کے قریب تپوون پھاٹے پر پیش آیا، جہاں دو موٹر سائیکلوں کے درمیان تصادم میں دونوں اساتذہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس حادثے سے تعلیمی حلقوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔
کارنجہ میونسپل کونسل کے زیرِ انتظام اردو پرائمری اسکول نمبر ایک اور اسکول نمبر۲؍ کے دو ہیڈ ماسٹروں سمیت ۳؍ افراد کی ایک بھیانک سڑک حادثے میں موت ہوگئی۔ یہ افسوسناک حادثہ بدھ،۱۴؍ اکتوبر کو دوپہر تقریباً۱۲؍ بجے شیلوبازار کے قریب تپوون پھاٹے پر پیش آیا ہے۔ اس واقعے سے کارنجہ شہر کے تعلیمی حلقوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انکیتا کے والدین کا دہلی میں احتجاج، راہل اور پرینکا ملنے پہنچے
حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق اس بھیانک سڑک حادثے میں اردو پرائمری اسکول نمبر ایک کے ہیڈ ماسٹر سید عابد حسین سید رؤف(۵۶) اور اردو پرائمری اسکول نمبر۲؍ کے ہیڈ ماسٹر ناظم محمد نور محمد(۵۷) کے علاوہ بجاج پلسر موٹر سائیکل کے سوار کی بھی موت ہوگئی۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، دونوں ہیڈ ماسٹر اسکول کی سَنمانیتا (منظور شدہ تدریسی و انتظامی عملے کی تفصیلات) سے متعلق کام کے سلسلے میں کارنجہ سے واشم کے محکمۂ ابتدائی تعلیم کے دفتر بذریعہ موٹر سائیکل جا رہے تھے۔ اسی دوران شیلوبازار کے قریب تپوون پھاٹے پر سامنے سے تیز رفتار سے آنے والی بجاج پلسر موٹر سائیکل نے ان کی دو پہیہ گاڑی کو زور دار ٹکر مار دی۔ اس بھیانک حادثے میں دونوں ہیڈ ماسٹروں سمیت پلسر موٹر سائیکل کے سوار کی بھی موت ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی ایس آئی آر میں ’منطقی تضاد‘ کی زد پرسب سے زیادہ مسلم ووٹرآئے
حادثے کی اطلاع ملتے ہی کارنجہ میونسپل کونسل کے گروپ لیڈر بلال پنجوانی، نائب صدر ایڈوکیٹ فیروز شیکووالے، تعلیمی کمیٹی کے چیئرمین ذاکر شیخ اور منصوبہ بندی کمیٹی کے چیئرمین ندیم راج سمیت متوفین کے اہلِ خانہ اور اساتذہ جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ بعد ازاں ضروری کارروائی کے لئے تینوں کو منگرول پیر کے دیہی اسپتال منتقل کیا گیا۔ بتایا گیا کہ دونوں ہیڈ ماسٹر کارنجہ میونسپل کونسل کے محکمۂ تعلیم سے وابستہ تھے۔ دورانِ سرکاری کام سفر کرتے ہوئے پیش آنے والے اس المناک حادثے نے میونسپل انتظامیہ اور تعلیمی حلقوں کو گہرے صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ ان کے انتقال پر اساتذہ برادری میں رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔