• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک محفوظ ، کانگریس متحد،سدارمیا اور شیو کمارساتھ ساتھ

Updated: November 30, 2025, 9:23 AM IST | Bangalore

دونوں ہی لیڈروں نے پریس کانفرنس میں خوشگوارموڈ میں کہا کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور ہماری نظر ۲۰۲۸ء کے اسمبلی انتخاب پر ہے

Karnataka Chief Minister Siddaramaiah and Deputy Chief Minister DK Shivakumar during a press conference. (Photo: PTI)
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار پریس کانفرنس کے دوران ۔(تصویر: پی ٹی آئی )

 جنوبی ریاست کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے  درمیان  اقتدار کی کشمکش کی خبروں  اور ریاست میں جلد ہی کرسی کی تبدیلی کی افواہوں کے  درمیان دونوں سنیچر کی صبح کانگریس پارٹی کے ساتھ ساتھ مخالفین کے لئے بھی خوشگوار حیرت لے کر آئی ۔وزیر اعلیٰ سدارمیا اور ان کے نائب شیو کمار نے  وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر اڈلی اور سانبر سے سجے ناشتے کی میز پر اس معاملے پر بات چیت کرکے سب کچھ ٹھیک ہے کا پیغام دیا اور کہا کہ اب ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ ان کی نظریں ریاست کے عوام کے مسائل حل کرنے پر ہیں۔ دونوں ہی لیڈروں نے ناشتے پر خوشگوار ماحول میں کافی دیر تک گفتگو کی اور تصاویر بھی کھنچوائیں۔  اس کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں کئی سخت سوالوں کے جواب بھی دئیے اور وہ بھی نہایت خوشگوار انداز میں۔   
 وزیر اعلیٰ کے ساتھ کاویری رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد ڈی کے شیوکمار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دونوں لیڈر ریاست کے عوام کے  لئےمکمل تال میل کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور عوام سے  کئے گئے ہر وعدے کو پورا کرنے کیلئے پابند عہد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اور سدارمیا کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ وہ جلد ہی ناشتے پر دوبارہ ملیں گے۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے اختلاف کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدارمیا آنے والے دنوں میں ان کی رہائش گاہ پر جائیں گے اور دونوں کے درمیان تال میل اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ 
  ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ کرناٹک کے عوام نے انہیں مکمل اکثریت دی ہے اور وہ اس کا پورا احترام کرتے ہیں۔ اسی لئے سدارمیا کے  ساتھ مل کر عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں گے۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہائی کمان کی ہر ہدایت پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ ہمیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے اس لئے ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے کرناٹک کے مینڈیٹ کی توہین ہو ۔
 وزیر اعلیٰ سدا رمیا  کے مطابق کرناٹک کے عوام نے کانگریس پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے زبردست مینڈیٹ دیا ہے اور دونوں لیڈروں کا فرض ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو موثر حکمرانی کے ذریعے پورا کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومی چیلنجوں کے باوجود کانگریس ریاست میں ۲۰۲۸ء کے اسمبلی انتخابات اور  ۲۰۲۹ء میں پارلیمنٹ کے عام انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔   وزیر اعلیٰ نے سوالوں کے جواب میں کہا کہ حکمراں جماعت کے طور پر ہم ایوان اور حکومت دونوں کو چلانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور ہر سوال کا جواب دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔ کرناٹک کے عوام کے اعتماد پر پورا اترنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم مل کر عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو ہم  پورا کریں گے۔
 دریں اثناءڈی کے شیوکمار نے وزیراعلیٰ سدا رمیا سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ ’’ہم نے کرناٹک کی ترجیحات اور آگے بڑھنے کے راستے پر مفید بات چیت کی۔ وزیر اعلیٰ سدارمیا نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کمان کی ہدایات پر عمل کرنے کا عہد کیا ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک  سے گنے کی قیمتوں کے تعین، آبپاشی کے منصوبوں اور دیگر زیر التواء مسائل پر تعاون نہیں کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پہلے ہی وزیراعظم کو میمورنڈم دیا ہے لیکن اب ہم تحریک چلائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK