اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا مودی حکومت پراسٹرٹیجک خودمختاری سے دست برداری اختیار کرنے کاالزام ،یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ ایک سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں ؟
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 8:36 AM IST | New Delhi
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا مودی حکومت پراسٹرٹیجک خودمختاری سے دست برداری اختیار کرنے کاالزام ،یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ ایک سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں ؟
ایران اسرائیل جنگ کے نتیجے میںمشرق وسطیٰ میںپھیلی کشیدگی پر راہل گاندھی نے حکومت کی خاموشی پر ایک بار پھر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایک غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حالات مزید خراب ہونے والے ہیں لیکن ہندوستان اب بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔کانگریس لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’دنیا ایک غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، آگے طوفانی سمندر ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ ہندوستان کی تیل سپلائی خطرے میں ہے، کیونکہ ہماری درآمدات کا۴۰؍ فیصد سے زیادہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ایل پی جی اور ایل این جی کے معاملے میں صورتحال اس سے بھی بدتر ہے۔‘‘راہل گاندھی نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’تنازع ہمارے دروازے تک پہنچ چکا ہے اور بحر ہند میں ایک ایرانی جنگی جہاز ڈبو دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعظم نے کچھ نہیں کہا۔ ایسے نازک وقت میں ہمیں قیادت میں ایک مضبوط اور ثابت قدم ہاتھ کی ضرورت ہے۔ اس کے بجائے، ہندوستان کے پاس ایک ایسا ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم ہے جس نے ہماری اسٹرٹیجک خودمختاری سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز بحران: ہندوستان میں ایل پی جی سپلائی متاثر، صرف ۳۰؍ دنوں کا اسٹاک
اس سے قبل راہل گاندھی نے منگل(۳؍ مارچ) کو بھی وزیر اعظم مودی سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ ’سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں؟‘ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’بین الاقوامی قانون اور انسانی جانوں کے دفاع میں ہمیں صاف اور دو ٹوک انداز میں بات کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔ ہماری خارجہ پالیسی خود مختاری اور تنازعات کے پُرامن حل پر مبنی ہے اور اسے اسی تسلسل کے ساتھ برقرار رہنا چاہئے۔ وزیر اعظم مودی کو بولنا چاہئے۔ کیا وہ عالمی نظام کی تشکیل کے ایک طریقے کے طور پر کسی سربراہِ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں؟ اس وقت کی خاموشی ہندوستان کے عالمی وقار کو کمزور کرتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: ۲۰۲۶ء میں تنخواہوں میں ۱۰؍ فیصد اضافہ متوقع: رپورٹ
خلیجی ممالک میں موجود کچھ ہندوستانیوں کی موت سے متعلق خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے موجودہ عالمی صورت حال میں مودی حکومت کی خاموشی کو تشویشناک بتایا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان کے مہمان ایرانی جہاز پر امریکی حملہ کے بعد مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ کھرگے نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ’’مودی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے اسٹرٹیجک اور قومی مفادات کے تعلق سے لاپروائی سب کے سامنے ہے۔‘‘ یہ لکھنے کے بعد کھرگے نے۳؍ حقائق کو سامنے رکھ کر وزیر اعظم مودی کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پہلا معاملہ ایرانی جہاز پر امریکی حملہ سے متعلق ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ایک ایرانی جہازجو ہندوستان کا مہمان تھا، ہمارے زیر اہتمام منعقدہ ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو ۲۰۲۶ء‘ میں شرکت کے بعد غیر مسلح حالت میں واپس جا رہا تھا، اس پر بحر ہند کے خطہ میں ٹارپیڈو سے حملہ کیا گیا۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’اس معاملہ میں حکومت ہند کی جانب سے نہ کسی تشویش کا اظہار کیا گیا اور نہ تعزیت کا۔ وزیر اعظم مودی خاموش ہیں۔‘‘ اس رویہ پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’جب آپ اپنے ہی آس پاس ہونے والے واقعات پر رد عمل ظاہر نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں ’مہاساگر‘ کے نظریے اور بحر ہند کے خطہ میں ہندوستان کے ’نیٹ سیکوریٹی پرووائیڈر‘ ہونے کے دعوؤں پر لیکچر کیوں دیتے ہیں؟‘‘کھرگے نے دوسری بات آبنائے ہرمز میں پھنسے ہندوستانی جہاز سے متعلق بتائی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’خلیج ہرمز میں ۳۸؍ ہندوستانی پرچم بردار تجارتی جہاز اور تقریباً۱۱۰۰؍ ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔ خبروں کے مطابق۲؍ ہندوستانی ملاح جن میں کیپٹن آشیش کمار بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں ۔ آخر سمندری دفاع یا امدادی کارروائی کیوں شروع نہیں کی گئی؟‘‘ تیسرا معاملہ کانگریس صدر نے خلیجی ممالک میں کچھ ہندوستانیوں کے لاپتہ ہونےکی خبروں سے متعلق اٹھایا ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کی وزارت خارجہ نے۳؍ مارچ۲۰۲۶ء کو جو بیان دیا ہے، اس کے مطابق کچھ ہندوستانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں یا لاپتہ ہیں۔ کھرگےنے پوچھاکہ وہاں جو پھنسے ہوئے ہیں،کیا ان کے انخلاء کا کوئی منصوبہ تیار ہے؟