Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت روہت پوار کے سوالات کے جواب کیوں نہیں دے رہی ہے ؟

Updated: March 06, 2026, 8:40 AM IST | Mumbai

ہوائی کمپنی کے ۴؍ جہازوںکو گرائونڈ کرنے کا حکم دیا گیا لیکن انہی جہازوں کے تعلق سے پوچھے گئے سوالات پر خاموشی اختیار کر لی گئی ۔

The remains of the plane and police officers at the crash site (file photo)
جائے حادثے پر جہاز کے باقیات اور پولیس اہلکار( فائل فوٹو)

سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی ناگہانی موت کے بعد ہر کوئی ششدر تھا۔ طیارہ حادثے کے تعلق سے کئی سوالات اٹھ رہے تھے لیکن اجیت پوار کے چچا اور این سی پی کے بانی شرد پوار نے خود ہی حادثے والے روز ہی میڈیا میں یہ بیان جاری کر دیا تھا کہ ’’ یہ ایک حادثہ ہی تھا۔ اس پر کوئی سیاست نہ کی جائے۔‘‘ لیکن شرد پوار کے پوتے اور انہی کی پارٹی کے رکن اسمبلی روہت پوار نے اجیت پوار کی موت کے ۱۳؍ دنوں بعد ( جیسا کہ انہوں نے کہہ رکھا تھا) اس معاملے میں آواز اٹھانی شروع کی۔ شروع میں ان کے سوالات کو ’جذبات ‘ کی رو میں آنے والے خیالات تصور کیا گیا کیونکہ وہ اجیت پوار کے بھتیجے ہیں اور ان سے جذباتی لگائو رکھتے تھے لیکن جب محکمہ ہوا بازی نے یہ اطلاع جاری کی کہ حادثے کا شکار ہونے والے اجیت پوار کے طیارے میںکا بلیک باکس جل گیا ہے اور اس کے اندر کا ریکارڈ مٹ گیا ہے تو جن لوگوں کی توجہ اس جانب نہیں تھی ان کے کان بھی کھڑے ہو گئے۔  

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز بحران: ہندوستان میں ایل پی جی سپلائی متاثر، صرف ۳۰؍ دنوں کا اسٹاک

 یاد رہے کہ این سی پی ( اجیت) کے رکن اسمبلی امول مٹکری پہلے روز سے اس حادثے کے تعلق سے سوال پوچھ رہے تھے انہوں نے سوشل میڈیا پر اٹھنے والے اس سوال کو کئی بار دہرایا کہ جب طیارہ زمین پر گرنے کے بعد خاکستر ہو گیا۔ اندر موجود لوگوں کی لاشیں پہچانی نہیں جا رہی تھیں تو پھر اجیت پوار کے ہاتھ میں جو فائل یادیگر کاغذات تھے وہ طیارے کے آس پاس بغیر جلی ہوئی حالت میں کیسے ملے؟ ممکن ہے اس کی کوئی سائنسی وجہ رہی ہو۔ لیکن جیسا کہ روہت پوار نے سوال اٹھایا کہ اگر اجیت پوار کی موت حادثاتی تھی تو مرکزی وزیر برائے ہوا بازی نے جانچ ہونے سے پہلے ہی ہوائی کمپنی کو کلین چٹ کیوں دیدی؟ روہت پوار باقاعدہ الزام لگا رہے ہیں کہ مرکزی وزیر ہوائی کمپنی کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر برائے شہری ہوابازی نائیڈو کوبرطرف کرنےکا بھی مطالبہ کیا ہے۔ 
 دراصل اس پورے معاملے میں سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب محکمہ ہوا بازی نے یہ اطلاع جاری کی کہ اجیت پوار کے طیارے کا بلیک باکس جل چکا ہے اور اس میں سے ریکارڈ ملنا مشکل ہے۔ حالانکہ محکمہ نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ ایک دیگر ٹیکنالوجی کے ذریعے ریکارڈ ڈائون لوڈ کیا گیا ہے اور اسکی جانچ کی جا رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بلیک باکس کا جل جانا اپنے آپ میں ایک بہت بڑا (بلکہ تاریخی ) واقعہ ہے ۔ کیونکہ بلیک باکس کی خاصیت ہی یہ ہے کہ کتنا ہی بڑا حادثہ کیوں نہ ہو جائے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ امریکہ میں ہوئے ۱۱؍۹؍ کے حملے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دونوں عمارتیں مسمار ہو گئیں ، طیارے جل کر خاک ہو گئے لیکن بلیک باکس محفوظ رہا۔ اسکے ریکارڈ کا استعمال بھی کیا گیا۔ پھر اس چھوٹے سے حادثے میں کیسےبلیک باکس جل کر خاک ہو گیا؟ 
 ہر چند کہ یہ بات ضروری نہیں ہے کہ اس حادثے میں کوئی سازش ہو لیکن اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو بلیک باکس کے جل جانے کی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئے۔ اسکے بعد ہوائی کمپنی اور بھی سوالوں کے گھیرے میں آجاتی ہے۔ اسکی تحقیقات تو عالمی سطح پر کی جانی چاہئے جیسا کہ روہت پوار نے مطالبہ بھی کیا ہے۔ بلیک باکس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد خود اجیت پوار کی بیوہ سونیترا پوار جو اب ان کی جگہ نائب وزیر اعلیٰ ہیں اور ان کی پارٹی کے سینئر لیڈران سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل وغیرہ نے وزیر اعلیٰ سے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کروانے کا مطالبہ کیا جسے قبول کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مرکز کو اس کی سفارش بھیج بھی دی ہے۔ لیکن نہ ہی مرکزی وزارت برائے شہری ہوا بازی اور نہ ہی ہوائی کمپنی نے اس تعلق سے اب تک اپنی زبان کھولی ہے۔ اس پر نہ کوئی پریس کانفرنس کی گئی نہ ہی روہت پوار کے سوالات کے جواب دیئے گئے۔ البتہ ہوائی کمپنی کے ۴؍ طیاروں کو گرائونڈ کرنے کا حکام ضرور دیا گیا ہے لیکن روہت پوار کے سوالات کے جواب کوئی نہیں دے رہا ہے۔ حیران کن طور پر مہاراشٹر بی جے پی یا اس کی حلیف شیو سینا ( شندے) کے لیڈران نے بھی اپنی زبان بند کر لی ہے۔  حالانکہ روہت پوار نے اس معاملے میں وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام خط بھی لکھا ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی میں بجٹ سیشن کے آغاز پر ایوان میں اجیت پوار کو خراج عقیدت پیش کیا گیا لیکن ان کی حادثاتی موت کی جانچ کے تعلق سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ وزیر اعلیٰ فرنویس نے انہی باتوں کو دہرایا جو محکمہ ہوا بازی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ریکارڈ مل گیا ہے اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں۴؍ کروڑ سے زیادہ بچے موٹاپے کا شکار، ملک دنیا میں دوسرے نمبر پر

 ادھر روہت پوار کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بلیک باکس میں موجود ریکارڈ کی معلومات ہے اگر حکومت نے فوری طور پر کوئی اقدام نہیں کیا تو وہ عوام کے سامنے ساری باتیں پیش کریں گے کہ اجیت پوار کی موت کے پیچھے کون سی سازش تھی اور اس میں کون کون ملوث ہو سکتا ہے۔ ان کے اس بیان سے کھلبلی تو مچی ہوئی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک اس معاملے کو اٹھا پاتے ہیں کیونکہ این سی پی ( اجیت ) کے اہم لیڈران اس معاملے میں خاموش ہیں۔ خود اجیت پوار کی بیوہ نے بھی اس پر زبان بند کر رکھی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK