کشمیر کے نوجوان عرفان احمد لون کی یوپی ایس سی امتحان میں کامیابی کے ہر سوچرچے ہیں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ عرفان بینائی سے متاثر ہیں، باوجود اسکے انہوں نے اس محرومی کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 10:16 AM IST | Srinagar
کشمیر کے نوجوان عرفان احمد لون کی یوپی ایس سی امتحان میں کامیابی کے ہر سوچرچے ہیں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ عرفان بینائی سے متاثر ہیں، باوجود اسکے انہوں نے اس محرومی کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
کشمیر کے نوجوان عرفان احمد لون کی یوپی ایس سی امتحان میں کامیابی کے ہر سوچرچے ہیں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ عرفان بینائی سے متاثر ہیں، باوجود اسکے انہوں نے اس محرومی کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے علاقے منز پورہ نائد کھئی کے عرفان احمد لون مرکزی سول سروس امتحان۲۰۲۵ء میں ۹۵۷؍ واں رینک حاصل کیا ہے۔ نتائج کے اعلان کے بعد علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگ بڑی تعداد میں ان کے گھر پہنچ کر خاندان کو مبارک باد پیش کرنے لگے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق عرفان احمد نے بچپن میں اسکول کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے میں اپنی ایک آنکھ کی روشنی کھو دی تھی۔ تاہم اس مشکل کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور برسوں کی محنت کے بعد اس اہم امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم دہرادون میں بصارت سے محروم افراد کے لیے قائم ایک تعلیمی ادارے سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے دہلی کے ایک معروف کالج سے گریجویشن مکمل کی اور پھر نئی دہلی کی ایک مرکزی جامعہ سے سیاسیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ عرفان کے رشتہ داروں کے مطابق وہ کئی برسوں سے اس امتحان کی تیاری کر رہے تھے اور اپنی محنت اور ثابت قدمی کے باعث بالآخر کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عرفان کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ مستقل محنت اور مضبوط ارادہ انسان کو ہر مشکل پر قابو پانے کی طاقت دیتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق نتائج کے اعلان کے بعد آس پاس کے علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں عرفان کے گھر پہنچے اور ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایک پڑوسی نے بتایا کہ عرفان کے والد ایک مزدور ہیں لیکن مالی مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے کی تعلیم میں کبھی رکاوٹ نہیں آنے دی۔ واضح رہے کہ مرکزی سول سروس کا تحریری امتحان گزشتہ سال اگست میں منعقد ہوا تھا جبکہ امیدواروں کے انٹرویوز دسمبر۲۰۲۵ء سے فروری۲۰۲۶ء تک لئے گئے تھے، جس کے بعد حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا۔ عرفان احمد لون کی کامیابی کو علاقے کے نوجوانوں کیلئے ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔