عام آدمی پارٹی ان مقاصد سے بھٹکنے لگی تھی جن کے لئے اس کی تشکیل ہوئی تھی۔ جب یہ پارٹی بھی دوسری پارٹیوں کی طرح ہوگئی اوران جیسا ہی برتاؤ کرنے لگی تو جو ہوا وہ فطری طورپر ہونا ہی تھا ۔
راگھو چڈھا اور دیگر۔ تصویر:آئی این این
یہ ہونا ہی تھا۔ مجھے حیرت نہیں ہےکہ عام آدمی پارٹی(آپ) کیوں ٹوٹ گئی ، حیرت اس پر ہےکہ پارٹی کو ٹوٹنے میں ا تنی دیر کیوں لگ گئی !آپ پارلیمانی پارٹی کی تقسیم ایک ایسی خبر ہے جس کا میں خود منتظر تھا۔ آپ کے۷؍ راجیہ سبھا ممبران پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ ان سات میں سے ۳؍ کبھی پارٹی لیڈر اروند کیجریوال کی آنکھ اور کان ہوا کرتے تھے۔ وہ اتنی طاقت اور اثر ورسوخ رکھتے تھے کہ پارٹی کے سینئر ترین ممبران بھی ان سے رشک کرتے تھے۔ کیجریوال بھی ان ہی سنتے تھے، لیکن، انہی لوگوں نے بغاوت کردی جنہیں پارٹی نے بنایا ، سنوارا اور کم عمر میں ہی پہچان دی ۔ یہ سن کر بیرونی لوگ حیران ہوسکتے ہیں لیکن کیجریوال کے پارٹی چلانے کے انداز سے واقف افراد جانتے ہیں کہ ایک دن ایسا ہونا ہی تھا۔ درحقیقت آپ ان مقاصد سے بھٹکنے لگی تھی جن کیلئے اس کی تشکیل ہوئی تھی۔ جب یہ پارٹی بھی دوسری پارٹیوں کی طرح ہوگئی اوران جیسا ہی برتاؤ کرنے لگی تو جو ہوا وہ فطری طورپر ہونا ہی تھا ۔
جب ’آپ‘ بنی اور مجھ جیسے لوگ اس میں شامل ہوئے تو نعرہ تھا کہ ہم سیاست کرنے نہیں بلکہ سیاست بدلنے آئے ہیں لیکن جیسے جیسے کارواں بڑھتا گیا، سیاست کے کھیل سے جڑتا گیا ، ویسے ویسے یہ نعرہ پھیکا پڑتاگیا۔ جو روایتی سیاست کو بدلنے آیا تھا وہ خود روایتی سیاست کا شکار ہوگیا۔ آج ’آپ اور دوسری پارٹیوں میں کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔ ’عام آدمی پارٹی‘صرف پارٹی نہیں تھی بلکہ کروڑوں لوگوں کا خواب تھی۔ایک ایسا خواب جو اس ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے دیکھا گیا تھا ، ایک ایسا خواب جس میںدیکھا گیاتھاکہ عام اور اشرافیہ میں کوئی فرق نہ ہو اور جس کے لیڈر عام لوگوں کی طرح زندگی گزاریں۔ ’انا‘ تحریک نے اس خواب کو پرواز دی۔ جیسے جیسے تحریک بڑھی، لاکھوں لوگوں نے محسوس کیا کہ ملک اب کرپٹ نظام سے آزاد ہو جائے گا، عام آدمی کے ساتھ انصاف کیا جائے گا، فیصلے اس کی رضامندی سے کئے جائیں گے اور یہ کہ ملک حقیقی معنوں میں ایک جمہوری ملک ہو گا۔ یہ خواب نیا نہیں تھا۔ یہ وہ خواب تھا جو گاندھی، نہرو اور ہزاروں مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا۔ گاندھی کا بھی ایسا ہی نعرہ تھا جنہوں نے آخری قطار میں بیٹھے شخص کے آنسو پونچھنےکی بات کی تھی۔ یہ نظریات آزادی کے بعد چند سال تک قائم رہے لیکن اقتدار کے بھوکے افراد نے جلد ہی پورے نظام کو ہائی جیک کر لیا۔ انا تحریک اس نظام سے آزاد ہونے کی جدوجہد کا مظہر تھی۔ جب اس تحریک نے سیاسی جماعت کی شکل اختیار کی تو لوگوں کو لگا کہ ان کے خواب پورے ہوں گے۔ کسی پارٹی کا اپنے قیام کے ڈیڑھ سال کے اندر دہلی میں حکومت بنانا، ۱۰؍ سال کے اندر پنجاب میں برسراقتدار آنا اور قومی پارٹی کا خطاب حاصل کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی، لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے ، طاقت بدعنوان بنادیتی ہے اور مطلق طاقت بالکل کرپٹ کردیتی ہے۔آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔آپ کے لیڈروں کو اقتدار کے لالچ نے ڈس لیا ۔ جو اس انقلاب کا حصہ تھے، وہ پارٹی چھوڑتے گئے اور پارٹی پر ایک آدمی کا قبضہ ہوگیا۔ جس شخص نے پارٹی کی تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کیا ، اسی نے اسے نپٹانا شروع کردیا ۔
جو پارٹی سنگٹھن اور سرکارمیں شفافیت کی بات کرتی تھی ، پالیسی سازی میں عوام کی شرکت کی وکالت کرتی تھی، جوہائی کمان کلچر کی مخالف تھی اور ہر سطح پر جمہوریت کی حامی وہ علمبردارتھی ،وہ ایک آدمی تک محدود ہو گئی۔ اس سے اختلاف کا مطلب خاتمہ تھا۔ یہ انا تحریک کے اہداف کے برعکس تھا ۔کہا جاسکتا ہےکہ کیجریوال کے علاوہ پارٹی میں ہر کوئی روبوٹ بن کر رہ گیا تھا۔ وہ صرف اتنا ہی کام انجام دیتا تھا جتنا سافٹ ویئراس میں انسٹال کیا گیا تھا ،اپنے طورپر کچھ کرنے کیلئے اسے مزید اپ ڈیٹس کا انتظار کرنا پڑتا تھا ۔ پارٹی کے اندر جمہوریت ختم ہونے کے ساتھ ہی خود غرض افراد جمع ہونے لگے تھے ۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ لیڈر کے قریب رہواور ایم ایل اے ، ایم پی اور وزیر بنو۔
پارٹی میںقیادت کیلئےافراد کا استعمال اعلیٰ ترین قدر بن گئی۔ چونکہ قیادت کو مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر مشین کی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے، اس لئے ہر لیڈر، چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کی ایکسپائری ڈیٹ طےکی گئی اور جب وہ تاریخ آئی تو وہ بے کار ہو گئے۔ اس ’’استعمال کرو اور پھینکو‘‘ سیاست کا نتیجہ ہے کہ راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور سواتی مالیوال جیسے لیڈر جو کبھی پارٹی میں انتہائی طاقتور تھے، اپنی میعاد ختم ہونے کے بعدناکارہ ہو گئے۔ وہ لوگ جن کا سربراہ کے گھر میں داخلہ مفت تھا اور وہ ہر جلسے میں شریک ہوتے تھے، بعدمیں فون کالز کیلئے ترس گئے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب بھی کوئی پارٹی کسی ایک شخص تک محدود ہوجاتی ہے۔ دنیا بھر میں اس کی سیکڑوں مثالیں ہیں اور ہندوستان میں بھی۔ جب کوئی طاقتور لیڈر خود اپنی پارٹی میں رہتے ہوئے سڑک پرآجاتا ہے تو اس کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں، یا تو ذلت برداشت کرتے رہیں یا پارٹی چھوڑ دیں۔
قیادت کو سمجھنا چاہئے کہ پارٹی ایک زندہ ادارہ ہے جو اپنے اندر حساسیت رکھتا ہے۔ افراد مشین نہیں ہو سکتے۔ ان میںبھی جان ہوتی ہے، عزت نفس ہوتی ہے۔ جب ان کے نفس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ردعمل ظاہر کرتے ہیںاور جو لوگ کریئر بنانے کیلئے سیاست میں آئے ہیں وہ نئے مواقع تلاش کریں گے، پارٹی چھوڑ دیں گے اور نتیجتاً پارٹی بکھر جائے گی ۔ اب تک بہت سے لوگ پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ لیکن اب پانی سر سے اوپرہو چکا ہے اور پارٹی ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر ہے۔ جو اصول پرست تھے انہوں نے نیا راستہ چنا ہے، لیکن جنہیںسیاسی کریئر کی فکر تھی وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے۔
میرا یہ کہنا نہیں کہ پارٹی میں اچھے لوگ باقی نہیں رہے۔ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو بے لوث کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ پارٹی ملک کو بدل سکتی ہے۔ وہ اس خواب کو پورا کرنےکیلئے بے لوث خود کو وقف کر رہے ہیں، ا نہیںبدلے میں کچھ نہیںچاہئے۔ پارٹی کو ایسے لوگوں کا احترام کرنا چاہئے تبھی وہ آگے بڑھ سکے گی۔ اگر پارٹی کو ترقی کرنی ہے تو اسے ایک بار پھر افراد کا احترام کرنا ہوگا، مخالف آوازوں کو سننے کی عادت ڈالنی ہوگی، پارٹی میں جمہوریت لانی ہوگی، اپنی توجہ افراد سے تنظیم کی طرف منتقل کرنی ہوگی اور نئی حکمت عملی بنانی ہوگی۔ انقلابی جدوجہداتنی آسانی سے دم نہیںتوڑ سکتی ،مگراس کیلئے قربانیاں درکارہوتی ہیں، کیا کیجریوال خود کو بدلنے کے لئے تیار ہیں؟