میئر ہرشالی چودھری نے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو فوری اقدامات کی ہدایت دی۔
دورے کے موقع پر میئر ہرشالی چودھری۔ تصویر:آئی این این
مسلم اکثریتی علاقے جیسےگووندواڑی، ریتی بندر اور قافلہ کے مکیں برسوں سے مانسون کے دوران کھاڑی کا پانی گھروں میں داخل ہونے، گندگی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہیں۔ شہریوں کی جانب سے بارہا شکایات کے باوجود ان مسائل کا مستقل حل نہ نکلنے پر اب مقامی عوام نے کھاڑی کے کنارے حفاظتی دیوار تعمیر کرنے کا مطالبہ شدت سے اٹھایا ہے۔اس پس منظر میں جمعرات کو کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن(کے ڈی ایم سی) کی میئر ہرشالی چودھری نے مذکورہ علاقوں کا دورہ کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو فوری اقدامات کی ہدایت دی۔
اس دورےمیں شہریوں نے میئر کو بتایا کہ کلیان کھاڑی کے کون گاؤں کی جانب حفاظتی دیوار تعمیر کئے جانے کے بعد پانی کا دباؤ گووندواڑی اور ریتی بندر کی سمت بڑھ گیا ہے جس کے نتیجے میں طغیانی کے وقت کھاڑی کا پانی رہائشی بستیوں میں داخل ہو جاتا ہے اور متعدد گھروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ مقامی کارپوریٹروں اور مکینوں نے مطالبہ کیا کہ ریتی بندر کے کنارے بھی مضبوط حفاظتی دیوار تعمیر کی جائے تاکہ ہر سال بارش کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے مستقل نجات مل سکے۔ اس پر میئر ہرشالی چودھری نے میونسپل افسران کو ہدایت دی کہ آئندہ مانسون سے قبل حفاظتی دیوار کی تعمیر کے لئے ضروری منصوبہ بندی اور کارروائی مکمل کی جائے۔اس دورےمیں مسلم اکثریتی علاقوں میں کچرے کے ڈھیر بھی میئر کی توجہ کا مرکز بنے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کچرا کھلے مقامات پر پھینکنے کے بجائے صرف میونسپل کارپوریشن کی کچرا گاڑی میں ہی ڈالیں۔ ساتھ ہی متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ عائد کیا جائے۔میئر نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ مانسون کے اختتام کے بعد گووندواڑی کے اندرونی راستوں پر موجود گڑھوں کی مرمت کے بجائے مرحلہ وار منصوبہ بندی کے تحت سیمنٹ کنکریٹ کی پائیدار سڑکیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ علاقے کے شہریوں کو بہتر بنیادی سہولیات میسر آسکیں اور انہیں بارش کے موسم میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔