Inquilab Logo Happiest Places to Work

تحفظ قانون حکومت کوعوامی مفاد کیلئے عبادت گاہ کے حصول سے نہیں روکتا: ہائی کورٹ

Updated: July 03, 2026, 7:05 PM IST | Allahabad

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ عبادت گاہ کے تحفظ کے قانون کا نفاذ عوامی مفادات کیلئے حاصل کی جانے والی عبادت گاہ پر نہیں ہوگا، عدالت کا یہ فیصلہ کاشی وشوناتھ کوریڈور کی تعمیر کے سلسلے میں آیا جس کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیاتھا۔

Allahabad High Court. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

لائیو لاء کی ایک رپورٹ کے مطابق الٰہ آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلے میں کہا کہ اگرچہ عبادت گاہوں کا قانون (پلیس آف ورشپ ایکٹ) کسی عبادت گاہ کے مذہبی کردار کو ایک عقیدے سے دوسرے عقیدے میں تبدیل کرنے سے منع کرتا ہے، تاہم یہ قانون ریاست کو حقیقی عوامی مفاد کے لیے ایسی جائیدادوں کو حاصل کرنے سے نہیں روکتا۔ جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ارون کمار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ موقف اس وقت پیش کیا جب انہوں نے وارانسی کے دال منڈی علاقے کے چھ دکان داروں اور کرایہ داروں کی درخواست کو مسترد کردیا۔ان درخواست گزاروں نے اتر پردیش حکومت کے شری کاشی وشوناتھ دھام کوریڈور سے منسلک سڑک کی توسیع اور خوبصورتی کے منصوبے کو روکنے کی کوشش کی تھی۔درخواست گزاروں نے اپنی بے دخلی کے خلاف تحفظ کی استدعا کی اور عدالت سے درخواست کی کہ وہ ریاست کو اس علاقے میں موجود چھ مساجد کو حاصل کرنے سے روکے۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ مساجد۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے موجود تھیں، لہٰذا وہ عبادت گاہوں کے قانون کے تحت محفوظ ہیں۔یہ چھ مساجد یہ ہیں: انجمن انتظامیہ مسجد، مسجد رنگیلے شاہ، مسجد علی رضا خان، مسجد کریم اللہ بیگ، مسجد نثاراں اور مسجد سنگ مرمر۔

یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش: لنچنگ فیصلے کے بعد جج کو دھمکی، ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا

بعد ازاں درخواست گزاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں افراد کی روزی روٹی، گھر اور عبادت گاہیں ختم ہو جائیں گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ حصول من مانی ہے اور اس کا مقصد ایک مخصوص معاشرے کو نشانہ بنانا ہے۔ تاہم درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ۱۹۹۱ء کا قانون اس لیے بنایا گیا تھا کہ عبادت گاہوں کا مذہبی کردار جیسا۱۵؍ اگست۱۹۴۷ء کو تھا، ویسا ہی محفوظ رہے اور اسے ایک مذہبی فرقے سے دوسرے میں تبدیل نہ کیا جائے۔ جبکہ عدالت نے وضاحت کی کہ اس قانون کا مقصد ریاست کے اس اختیار کو محدود کرنا نہیں کہ وہ سیکولر اور عوامی مقاصدجیسے سڑک کی تعمیر یا انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے زمین حاصل کر سکے، بشمول مذہبی جائیدادیں۔ مزید برآں بنچ نے کہا کہ یہ حصول مالک کے منصفانہ اور مناسب معاوضہ حاصل کرنے کے حق کے تابع ہوگا۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی پایا کہ درخواست گزار، جائیدادوں کے مالک نہ ہو کر کرایہ دار ہونے کی حیثیت سے، اس حصول کو چیلنج کرنے کے لیے محدود اختیار رکھتے ہیں۔ عدالت نے کہا، ’’ہمارا خیال ہے کہ درخواست گزار اپنے کاروبار اور روزی روٹی کے ذریعے کو بچانے کے لیے یہاں ہیں، نہ کہ ملکیتی حقوق کی خاطر۔

یہ بھی پڑھئے: پربھنی : ۲؍ نوجوانوں کی حاضر دماغی سے بچے کی جان بچ گئی

مزید برآں، عدالت نے درخواست گزاروں کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ وہ بطور مسلمان ان مساجد کے لیے تحفظ کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ عمارتیں رجسٹرڈ وقف جائیدادیں ہیں اور ان کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ متولیوں اور وقف بورڈ پر عائد ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ متولی وہ شخص ہوتا ہے جو وقف کی انتظامیہ اور نگرانی کا ذمہ دار ہوتا ہے، وقف وہ جائیداد ہے جو اسلامی قانون کے تحت مذہبی، خیراتی یا نیک مقاصد کے لیے مستقل طور پر وقف کی گئی ہو۔ علاوہ ازیں عدالت نے اس الزام کو بھی حیرت انگیز قرار دیا کہ یہ حصول کسی خاص معاشرے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK