• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے ڈی ایم سی میونسپل الیکشن:شیوسینا( شندے) کے ۳؍اور بی جے پی کے ۲؍ امیدوار بلا مقابلہ منتخب

Updated: January 02, 2026, 4:14 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

شیوسینا ( ادھو)، ایم این ایس اور کانگریس کے خیموں میں شدید بے چینی جبکہ حکمراں اتحاد نے اسے اپنے لئے بڑھتے عوامی اعتماد کا نتیجہ قرار دیا۔

The election battle for control of KDMC is intensifying. Picture: INN
کے ڈی ایم سی پر قبضے کے لئے انتخابی جنگ میں شدت آرہی ہے۔ تصویر: آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) انتخابات سے قبل ہی سیاسی منظرنامہ یکسر بدل گیا ہے۔ مہایوتی نے مخالفین پر ایسی سبقت حاصل کی ہے کہ باضابطہ ووٹنگ سے پہلے ہی بی جے پی اور شندے گروپ کے۹؍ امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو گئے ہیں۔ اس غیر متوقع کامیابی نے شیوسینا ( ادھو) ایم این ایس اور کانگریس کے خیموں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہےجبکہ حکمراں اتحاد نے اسے اپنے لئے بڑھتے عوامی اعتماد کا نتیجہ قراردیا ہے۔
انتخابی عمل کے تحت جمعرات کو نامزدگی واپس لینے کا پہلا دن تھا۔ اسی مرحلے میں بی جے پی کے پانچ اور شندے گروپ کے چار امیدواروں کے حق میں کوئی مقابل امیدوار نہ رہنے کے سبب وہ بلامقابلہ کامیاب قرار پائے۔ مخالف پارٹیوں کے امیدواروں نے یا تو اپنے کاغذات واپس لے لیے یا بعض حلقوں میں کسی نے نامزدگی داخل ہی نہ کی۔تفصیلات  کے مطابق بی جے پی کی جانب سے پینل ۱۸(اے) سے ریکھاچودھری، ۲۶(اے) سے آساوری نورے، ۲۶(بی) سے رنجنا پینکر، ۲۷(اے) سے مندا پاٹل اور ۲۴ (اے) سے جیوتی پاٹل بلا مقابلہ منتخب ہوئیں اسی طرح شندے گروپ کے چار امیدواروں نے بھی آسان کامیابی حاصل کی۔ پینل ۲۸(اے) سے رکن اسمبلی راجیش مورے کے فرزند ہرشل مورے جبکہ پینل ۲۴ سے رمیش ماترے، ویشالی جوشی اور وشوناتھ رانے بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ تین وارڈوں میں بی جے پی امیدواروں کے مقابلے میں کوئی واحد نامزدگی بھی داخل نہیں ہوئی تھی۔ دیگر ۶؍ نشستوں پر مختلف مخالف امیدواروں اور چند آزاد امیدواروں نے اپنا نام واپس لے کر میدان مہایوتی کے امیدواروں کے حق میں خالی چھوڑ دیا۔سیاسی مبصرین اس ابتدائی برتری کو مہایوتی کے لیے اہم  فتح قرار دے رہے ہیں جبکہ اپوزیشن کیلئے یہ صورتحال یقینا بڑی دھچکا ثابت ہوئی ہے۔ انتخابی تصویر ابھی مکمل نہیں مگر ابتدائی نتائج نے سیاسی ماحول کو خاصا گرم کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK