ٹرمپ کی ایران پر حملے کی دھمکی کے ردعمل کے طور پر ایران نے ایک بیان میں کہا کہ پر امن جوہری توانائی کے حق پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، جبکہ ۲۶؍ فروری کو جینیوا میں ہونے والے مذاکرات کو جنگ ٹالنے کی آخری کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 7:00 PM IST | Tehran
ٹرمپ کی ایران پر حملے کی دھمکی کے ردعمل کے طور پر ایران نے ایک بیان میں کہا کہ پر امن جوہری توانائی کے حق پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، جبکہ ۲۶؍ فروری کو جینیوا میں ہونے والے مذاکرات کو جنگ ٹالنے کی آخری کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ وہ نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے، اس معاہدے کو ’’عالمی عدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ کی بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے، پرامن جوہری توانائی رکھنے کے بین الاقوامی طور پر منظور شدہ حق پر زور دیا ہے۔سوئٹزرلینڈ میں جینیوا تخفیف اسلحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے، نائب وزیر خارجہ کاظم غریب عابدی نے کہا کہ ایران کا پرامن ایٹمی توانائی کا حق فطری، غیر مذاکراتی اور بین الاقوامی سطح پرمنظور شدہہے اور اسے مذاکرات کے لیے پیشگی شرط کے طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔واضح رہے کہ ایران اور امریکہ جمعرات کو جینیوامیں دوبارہ اکٹھے ہوں گے تاکہ، بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور امریکہ کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کے قریبی قیاس آرائیوں کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔
یہ بھی پرھئے: امریکہ-ایران تنازع: فوجی کشیدگی میں اضافے کے درمیان جوہری مذاکرات جمعرات کو متوقع
بعد ازاں ایران کی مذاکراتی ٹیم کے رکن غریب عابدی نے اصرار کیا کہ’’ تہران نہ جوہری ہتھیار رکھتا ہے، نہ ان کے حصول کی کوشش کی ہے، اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘انہوں نے مکمل تخفیف اسلحہ اور این پی ٹی کے غیر امتیازی نفاذ کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے تبصرہ کیا کہ ’’اسرائیل کا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ جوہری ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطیٰ کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔‘‘ سینئر ایرانی سفارت کار نے اس بات پر زور دیا جسے انہوں نے مؤثر کثیر الجہتی، حقیقی تخفیف اسلحہ، اور بین الاقوامی قانون کا غیر مشروط احترامقرار دیا۔غریب عابدی نے کہا کہ ’’جوہری ہتھیار انسانیت اور تہذیب کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ کچھ ممالک کا اپنے سلامتی کے نظریات میں ان ہتھیاروں پر انحصار ان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ واضح تضاد ہے اور عدم پھیلاؤ کے نظام کی اخلاقی اور قانونی بنیادوں کو مجروح کرتا ہے۔‘‘انہوں نے عمان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری بالواسطہ جوہری سفارت کاری پر بھی روشنی ڈالی، اور اسے مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کا ’’ایک نیا موقع‘‘ قرار دیا۔انہوں نے تبصرہ کیا کہ کسی بھی پائیدار مذاکرات کی بنیاد باہمی احترام، مساوی سلوک، اور بین الاقوامی قوانین کے غیر متعصب نفاذ پر ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی ذمہ داریاں علی لاریجانی کو سونپ دیں !
نائب وزیر نے کہا کہ’’ ایران سفارت کاری کا پابند ہے، اور اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے عوام کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے، اور اگر ضروری ہوا تو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جائز دفاع کے اپنے فطری حق کا استعمال کرے گا۔کسی بھی نئی جارحیت کے نتائج ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے اور ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگی جو اس طرح کی کارروائیاں شروع کرتے ہیں یا ان کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ غریب عابدی نے ’’بین الاقوامی تخفیف اسلحہ کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کی طرف بڑھنے کے لیے ریاستوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے ایران کی تیاری کا اعادہ کیا۔انہوں نے جوہری ہتھیاروں سے پاک ممالک کے لیے قانونی طور پر پابند سلامتی کی یقین دہانیاں پیش کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک پر زور دیا۔تخفیف اسلحہ فورم میں چین کے سفیر شین جیان نے کہا کہ ایران کا جوہری معاملہ ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم بین الاقوامی تعلقات میں یکطرفہ دھونس اور طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے جاری سفارتی کوششوں کے لیے سازگار ماحول پر زور دیا۔شین نے مزید کہا، ایران کے جوہری معاملے کو تصادم کی طرف دھکیلنے یا نئے تنازعات کو ہوا دینے سے گریز کریں۔‘‘ غریب عابدی کے یہ تبصرہ ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں۔امریکی عہدیداروں اور اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری ہتھیار کی تیاری صرف ہفتوں کی دوری پر ہے۔ ‘‘
تاہم ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، بشمول بجلی کی پیداوار۔یاد رہے کہ مذاکرات کا نیا دور خلیج فارس میں امریکی فوجی تعیناتی میں بے مثال اضافے اور حالیہ دنوں میں ایران کے پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے فوجی مشقوں کے ایک سلسلے کے درمیان ہو رہا ہے۔ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر۱۰؍ سے ۱۵؍ دنوں میں معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔