کیجریوال نے مودی کے مشیرکا نام لے کر میڈیا پر سرکاری کنٹرول کا الزام لگایا

Updated: September 19, 2022, 10:59 AM IST | Agency | New Delhi

دعویٰ کیا کہ ہرین جوشی میڈیا چینلوں  کے ذمہ داران کو دھمکیاںاور گالیاںدیتے ہیں، بی جے پی پر گجرات کی ہارسے بچنے کیلئے ’آپ‘ کوختم کردینے کی سازش کا الزام

Kejriwal and Sisodia during the national meeting of AAP legislators..Picture:PTI
آپ‘ کے قانون سازوں کے قومی اجلاس کے دوران کیجریوال اور سیسودیا۔ تصویر:پی ٹی آئی

 عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے بی جےپی اور مودی سرکارپر حملے تیز کرتے ہوئے اتوار کو الزام لگایا کہ پی ایم او میں  وزیراعظم کے میڈیا صلاح کار ہرین جوشی ملک کے بڑے بڑے نیوز چینلوں کے ذمہ داران اور ایڈیٹرس کو فون کرکے دھمکیاں دیتے ہیں  اور عام آدمی پارٹی کی خبریں دکھانے پر گالم گلوج کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بی جےپی پر الزام لگایا کہ وہ گجرات میں عام آدمی پارٹی سے اپنی ممکنہ شکست سے خوفزدہ  ہےا وراس سے بچنے کیلئے ’’بدعنوانی کے خلاف جانچ‘‘ کے نام پر ’’آپ ‘‘ کو ختم کردینا چاہتی ہے۔  دہلی میں وہ   ملک کی ۲۰؍ ریاستوں میں منتخؓ ہونے والے عام آدمی پارٹی کےکم وبیش ۱۵؍ سو عوامی نمائندوں  سے خطاب کررہے تھے۔ یہ اپنے  طرز کی پہلی میٹنگ ہے جس میں  پنجاب، گوا اور ہریانہ سمیت  پورے ملک میں الیکشن جیتنے والے عام آدمی پارٹی کے نمائندے مدعو تھے۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ بی جےپی گجرات میں ’آپ‘ کی مقبولیت کو ہضم نہیں کرپارہی ہےا س لئے اس کے وزیروں اور اراکین اسمبلی کو بدعنوانی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’وزیراعظم   کے میڈیا ایڈوائزر ہرین جوشی نے بڑے بڑے ٹی وی چینلوں کے مالکان اور ایڈیٹرس کو دھمکی دی ہے کہ وہ عام آدمی پارٹی کی خبریں نہ دکھائیں۔ ‘‘ کیجریوال کے مطابق’’ان میں سے کئی مجھے وہ میسیج دکھارہے تھے جو انہیں بھیجے گئے ہیں۔ انہوں  (ہرین  جوشی نے)  ٹی وی چینلوں  کے مالکوں اور ایڈیٹرس کو گندی گندی گالیاں لکھی ہیں  اور دھمکیاں   دیں کہ اگر انہوں نے عام آدمی پارٹی اور کیجریوال  کو دکھایا تو یہ کردیں اور وہ کردیں گے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK