• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیرالا ۲۰۳۱ء تک دودھ کی پیداوار میں خود کفیل ہو جائے گا

Updated: February 22, 2026, 3:10 PM IST | New Delhi

کیرالا نے دودھ کی پیداوار میں۱۴؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے اور اس وقت ریاست میں سالانہ۲۷ء۲۵؍ لاکھ میٹرک ٹن دودھ پیدا ہو رہا ہے۔

Milk Production.Photo:INN
کیرالا میں دودھ کی پیداوار۔ تصویر:آئی این این

 کیرالا نے دودھ کی پیداوار میں۱۴؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے اور اس وقت ریاست میں سالانہ۲۷ء۲۵؍ لاکھ میٹرک ٹن دودھ پیدا ہو رہا ہے۔ مویشی پالن اور ڈیری ترقی کی وزیر جے چنچورانی نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ریاست ۲۰۳۱ء تک دودھ کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کر لے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ ۲۰۳۱ء تک ایک جامع منصوبے کے تحت فی گائے اوسط پیداوار میں ۵ء۱۲؍ فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ ڈیری شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ ہدف حاصل کرنے کے لیے حکومت جدید افزائشِ نسل کی ٹیکنالوجی اختیار کرے گی اور بہتر جینیاتی خصوصیات والے مویشی تیار کیے جائیں گے۔ جدید ٹیکنالوجی سے تیار کردہ سیکس سورتڈ سیمن کسانوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جائے گا، جس سے مویشیوں کی نسل بہتر ہوگی اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ ۲۰۲۶ء بافٹا ایوارڈز میں بطور پریزینٹر شامل

کیرالا کے وزیر نے بتایا کہ جانوروں کے بروقت علاج کے لیے ریاست کے تمام بلاکس میں ویٹرنری ایمبولینس قائم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ پورے صوبے میں ہیفر پارک قائم کیے جائیں گے تاکہ ڈیری کسان سبسڈی کے ساتھ اعلیٰ معیار کی گائیں خرید سکیں۔ کسانوں کو مالی نقصان سے بچانے کے لیے ایک جامع بیمہ اسکیم بھی نافذ کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کی تیار کردہ اینٹی میتھانوجینک فیڈ سپلیمنٹس، ڈیری فارمرز مناسب مقدار میں ڈیری کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ ماحول دوست مویشی پروری کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک تحقیقی مرکز۸۰؍ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں ۱۵؍ کروڑ روپے کے منصوبے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں اس مرکز میں تقریباً ۲۰۰؍ گائیں پالی جائیں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے:روہت پوار کا وزیر برائے ہوا بازی کو ہٹانے کا مطالبہ

وزیر  نے کہا کہ دودھ کے ساتھ ساتھ انڈے اور گوشت کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا جائے گا تاکہ مویشی پروری کے شعبے میں مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر کیرالا لائیواسٹاک ڈیولپمنٹ بورڈ اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کالی کٹ کے درمیان مٹوپیٹی یونٹ میں سینٹر فار ایڈوانسمنٹ اِن لائیواسٹاک پروڈکٹیویٹی اینڈ ریسرچ کے قیام کے لیے ایک ایم او یو پر دستخط بھی کیے گئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK