Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیچرس بھرتی گھوٹالے میں بی جےپی کےاہم لیڈر کی گرفتاری ، این سی پی چھوڑ کر بی جےپی میں شامل ہوئے تھے

Updated: July 28, 2026, 11:50 PM IST | Satara

ناسک ایس آئی ٹی نے شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ( ٹیچرس بھرتی گھوٹالہ) معاملے میں پیر کی رات ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر سنجے گاروڑ کو کو گرفتار کیا ہے۔

Sanjay Garud`s joining BJP did not work out.
سنجے گاروڑکا بی جے پی میں ہونا کام نہ آ سکا

 ناسک ایس آئی ٹی نے شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ( ٹیچرس بھرتی گھوٹالہ) معاملے میں پیر کی رات ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر سنجے گاروڑ کو کو گرفتار کیا ہے۔ یاد رہے کہ گاروڑ کا تعلق  جلگاؤں ضلع کے جامنیر تعلقہ میں واقع شیندورنی سے ہے جہاں ان کاایک بڑا تعلیمی ادار ہ ہے لیکن ایس آئی  ٹی نے انہیں ستارہ ضلع کے پلٹن تعلقے سے حراست میں لیا ہے۔
  اہم بات یہ ہے کہ سنجے گاروڑ نے ۳۰؍ جنوری ۲۰۲۴ء کو وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی موجودگی میں این سی پی (شرد) چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن ان کا پارٹی تبدیل کرنا ان کے کام نہیں آ سکا اور مہاراشٹر بھر میں تہلکہ مچانے والے ٹیچرس گھوٹالے میں انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ سنجے گاروڑ ٹیچرس گھوٹالے کی بڑی مچھلیوں میں سےایک ہیں۔  ابھی اس میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ایس آئی ٹی سنجے گاروڑ کو لے کر منگل کی صبح ناسک پہنچی جہاں انہیں ناسک روڈ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
  ایس آئی ٹی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ کارروائی جلگاؤں ضلع پریشد کے اس وقت کے ایجوکیشن آفیسر ششی کانت ہنگونیکر کی گرفتاری کے بعد ان سے ملی اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔ ہنگونیکر نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ۲۵۹؍ اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی بھرتی کو غیر قانونی منظوری دی تھی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر اساتذہ جامنیر تعلقہ میں واقع گاروڑ کے تعلیمی ادارے سے ہیں۔ اس کی بنیاد پر پلٹن میں روپوش گاروڑ کو گرفتار کرلیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹیچرس گھوٹالے کے زیادہ تر ملزمین کا تعلق جلگاؤں ضلع سے ہے جنہوں نے فرضی شالارتھ آئی ڈی بنا کر ۱۶۰؍ کروڑ روپے کا مالی فراڈ کیا ہے۔ سنجے گاروڑ اس فراڈ ریکیٹ کا کلیدی ملزم ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس جرم میں ملوث کل ۴۸۱؍ اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین میں سے ۴۳۸؍ کا تعلق جلگاؤں ضلع سے ہے۔ ان لوگوں سے سوال جواب کے بعد ہی گاروڑ پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔ سنجے گاروڑ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ہی دن میں ۱۷۷؍ جعلی آئی ڈی بنوائیں جن کی بنا پر ٹیچرس کی (جعلی) بھرتیاں کروائی گئیں۔ 
 یاد رہے کہ سنجے گاروڑ جامنیر اسمبلی حلقے سے ۳؍ مرتبہ وزیر گریش مہاجن کے مقابلے میںالیکشن لڑ چکے ہیں اور تینوں ہی مرتبہ وہ دوسرے نمبر پر رہے۔ یعنی جامنیر میں ان کی خاصی مقبولیت ہے۔ ۲۰۰۴ء میں انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر گریش مہاجن کا مقابلہ کیا تھا جبکہ ۲۰۰۹ء میں انہیں کانگریس کے ٹکٹ پر میدان میں اتارا گیا۔ ۲۰۱۴ء میں انہوں نے الیکشن نہیں لڑا مگر ۲۰۱۹ء میں این سی پی ( اس وقت غیر منقسم)  نے انہیں ٹکٹ دیا ۔ ہر بار انہوں نے گریش مہاجن کو کڑی ٹکر دی۔ ۲۰۲۴ء میں وہ این سی پی ( شرد) چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئے ۔ چونکہ طلبہ کے احتجاج کےبعد حکومت پر دبائو ہے اور وہ تعلیمی شعبے میں کسی بھی معاملے پر سمجھوتہ کرنے کی حالت میں نہیں ہے ، غالباً اسی لئے سنجے گاروڑ کو بی جے پی میں ہونے کا فائدہ نہیں مل سکا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔  امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس معاملےمیں اور بھی بڑے نام سامنے آئیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK