راجستھان بلدیاتی الیکشن : زعفرانی پارٹی نے ۱۰؍ میں سے ۴؍ کارپوریشن جیتے مگر کانگریس سے صرف۹۴ء۰؍ فیصد زیادہ ووٹ پائے، وزیراعلیٰ اور وسندھرا کے قلعے ڈھے گئے۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 10:10 AM IST | Agency | Jaipur
راجستھان بلدیاتی الیکشن : زعفرانی پارٹی نے ۱۰؍ میں سے ۴؍ کارپوریشن جیتے مگر کانگریس سے صرف۹۴ء۰؍ فیصد زیادہ ووٹ پائے، وزیراعلیٰ اور وسندھرا کے قلعے ڈھے گئے۔
راجستھان کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج میں ۱۰؍ میں سے ۴؍میونسپل کارپوریشنوں پر قبضہ کرنے کے باوجود بی جےپی کی صفوں میں بے چینی پھیل گئی ہے کیوں کہ حاصل شدہ ووٹوں کے معاملےمیں کانگریس اس کی برابری پر ہے۔ جےپور، اُدئے پور ،بھلواڑہ اور کوٹہ جیسی اہم میونسپل کارپوریشنوں پرواضح اکثریت حاصل کرنے کے باوجود بی جے پی کو مجموعی طو رپر ۳۵ء۱۸؍ فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ کانگریس نے بھی ۲۴ء۳۴؍ فیصد مجموعی ووٹ حاصل کرکے زعفرانی پارٹی کیلئے خطرہ کی گھنٹی بجادی ہے۔ کانگریس نے بیکانیر کارپوریشن پر قبضہ کیا ہے جبکہ اجمیر اور پالی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔الوَر میں بھی کسی کو واضح اکثریت نہیں ملی ، یہاں یہاں بی جےپی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ ان کارپوریشنوں پر کنٹرول کیلئے آزاد امیدواروں کی حمایت درکار ہوگی اسلئے کارپوریٹرس کی خریدوفروخت کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھجن لال شرما اور وسندھرا راجےکو شرمندگی کا سامنا
شہری علاقوں میں مضبوط سمجھی جانے والی بی جے پی بلدیاتی انتخابات میں روایتی طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے تاہم اس بار کے نتائج پرپارٹی سے نوجوان نسل کی(جین زی ) ناراضگی کا واضح اثر نظر آیا ۔ جے پور جیسے مضبوط قلعے میں، جہاں ۱۵۰؍وارڈ ہیں، بی جے پی صرف۷۸؍وارڈ جیت کر معمولی اکثریت حاصل کرسکی۔ بھرت پور میں آزاد امیدواروں کی کامیابی وزیر اعلیٰ بھجن لال شرماکیلئے شرمندرگی کا باعث ہے۔۶۵؍ رکنی کارپوریشن میں آزاد امیدواروں نے۳۶، بی جے پی نے۲۰؍ اور کانگریس نے۷؍ وارڈ جیتے ہیں۔ باقی صفحہ ۵؍ پر
بی جےپی امیدوار کو صرف ایک ووٹ ملا
ڈڈوانا کچھ مان ضلع کی پربت سرمیونسپلٹی کے وارڈ نمبر ۱۳؍ میں بی جےپی کے امیدوار کیلاش چند کو صرف ایک ووٹ ملا ہے۔یہ سیٹ کانگریس کی حنا خانم نے ۳۷۶؍ ووٹوں کے ساتھ جیت لی ہے۔کیلاش چند نے اپنی خفت مٹاتے ہوئے کہا کہ’’ میں خود اُس وارڈ کا ووٹر نہیں ہوں، پارٹی نے مجھے وہاں سے ٹکٹ دیا تھا۔اُس وارڈ کے کسی ایک شخص نے تومجھے ووٹ دیا ہے۔‘‘
کانگریس کے مجید محمد کو بھی ایک ہی ووٹ
اسی طرح ناگور ضلع کی ریان باڑی میونسپلٹی میں وارڈ نمبر ۱۵؍ سے کانگریس کے امیدوار مجید محمد کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔انہیں بھی ایک ہی ووٹ ملا ہے۔ اس سیٹ پر بی جےپی کےسنیل کمار چوہان نے کامیابی حاصل کی ہے۔ نتائج پر مجید محمد کا کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
آر ایل پی امیدوارکو ایک بھی ووٹ نہیں ملا
رکن پارلیمنٹ ہنومان بینی وال کی پارٹی ’راشٹریہ لوک تانترک پارٹی کے اوم پرکاش جو سندھی نگر پالیکا کے وارڈ نمبر ۳؍ سے امیدوار تھے، کو حیرت انگیز طورپر ایک بھی ووٹ نہیں ملا۔ اوم پرکاش نے گڑبڑی کی شکایت کی اور کہا کہ ’’میں نے اورمیرے خاندان کے ۱۰؍ افراد نے مجھے ووٹ دیا، میرا ووٹ کہاں گیا؟‘‘ انہوں نے ’’ووٹ چوری‘‘ کا الزام لگایا اور الیکشن کمیشن سے شکایت کا اعلان کیا۔
۲۱؍ سال کے ’جین زی‘ فیض حسن کی شاندار کامیابی
فیض حسن۱۲؍ویں کے طالبعلم ہیں
جے پور میونسپل کارپوریشن میں وارڈ نمبر ۷۱؍ سے محض ۲۱؍ سال کے نوجوان’جین زی‘ اور ۱۲؍ ویں کے طالب علم فیض حسن نے کانگریس کے ٹکٹ پر شاندار کامیابی حاصل کر کے پوری ریاست کی توجہ حاصل کرلی ہے۔۲؍ مہینے قبل جنتر منتر پر جین زی کے احتجاج کے بعد فیض نے سیاست میں قدم رکھنے کافیصلہ کیا اور پہلی ہی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔ ان کےمطابق انہیں جین زی ہونے کا فائدہ پہنچا، پارٹی نے انہیں جین زی ہونے کی بنا پر ٹکٹ دیااور ان کےو ارڈ ’کھو ناگوریان‘ کے عوام نے ان پربھروسہ کر کے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ فیض حسن اپنے وارڈ کو نشہ سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔