• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کولکاتا: ۴۶؍ دن بعد بھی مسلم اکثریتی بستی جیوتی نگر کالونی میں نلوں سے پانی غائب

Updated: September 15, 2026, 10:21 PM IST | Kolkata

کولکاتا کی مسلم اکثریتی بستی جیوتی نگر کالونی میں ۴۶؍ دن بعد بھی نلوں سے پانی غائب ہے، مقامی افراد کا الزام ہے کہ ایم ایل اے رتیش تیواری نے عہد کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کیلئے کچھ نہیں کرے گا،ساتھ عوام کا کہنا ہے کہ پانی پر پابندی انہیں بستی سے نکالنے کی کوشش کا ایک حصہ ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصے سے، شمالی کولکاتا کے کاسی پور میں چت پور جیوتی نگر کالونی کے رہائشی علاقے میں پائپ لائن کے کام کے بعد کالونی کے عوام  باقاعدہ پانی کی فراہمی سے محروم ہیں۔ تقریباً ۵۰۰۰؍افراد پر مشتمل یہ۲۰۰؍ میٹر طویل حصہ بڑی حد تک مسلم برادری اور کم آمدنی والے پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے جان بوجھ کر ان کی شناخت کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنانے اور انہیں جھونپڑی سے باہر نکالنے کے لیے پانی کی فراہمی منقطع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ڈی جے کے خلاف شہریوں کا خاموش مارچ

قابل ذکر ہے کہ انتخابی نتائج کے اعلان کے چند دن بعد مقامی بی جے پی ایم ایل اے رتیش تیواری نے اپنے حلقے میں مسلمانوں کے لیے کچھ نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ اس نے کہا تھا، ’’آج، بابا بھولے ناتھ کے سامنے، میں قسم کھاتا ہوں، میں اگلے پانچ سالوں میں ان (مسلمانوں) کے لیے ایک کام بھی نہیں کروں گا۔ ان کے لیے کوئی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کروں گا۔ میں یہ لائیو کہہ رہا ہوں۔ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ کوئی اور کیا کہتا یا سوچتا ہے۔‘‘واضح رہے کہ جیوتی نگر کالونی کے رہائشی، جن میں سے تقریباً۹۵؍ فیصد مسلمان ہیں، اپنی روزی روٹی کے لیے غیر رسمی ملازمتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جہاں خواتین دوپہر میں قریبی فیکٹریوں میں کام کرنے سے پہلے صبح گھر کے کام کاج سنبھالتی ہیں، جہاں وہ شیشے کی بوتلیں صاف کرتی ہیں اور شیشے کے پینلز کو ٹکڑوں میں توڑتی ہیں، وہیں زیادہ تر مرد یومیہ اجرت پر مزدور، مستری، ڈرائیور، رکشہ چلانے والے یا فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں۔
پانی کی فراہمی کیوں بند ہوئی؟
آلٹ نیوز نے پانی سے محروم علاقے کا دورہ کیا، جو۲۰۰؍ سال سے زیادہ پرانی کاسی پور گن اینڈ شیل فیکٹری سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کالونی میں پانچ نل ہیں، جو روزانہ صبح۵؍ بجے سے رات ۱۱؍ بجے تک پانی فراہم کرتے تھے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ۲۹؍ جولائی سے پانی کی فراہمی منقطع ہونے کے بعد سے تمام پانچ نل خشک ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پانی کی فراہمی بالکل معمول کے مطابق تھی اور پڑوس کی جانب سے مقامی شہری ادارے یا کسی اتھارٹی کو کوئی شکایت نہیں کی گئی تھی، اور پھر بھی کولکاتا میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے۲۶؍ سے۲۸؍ جولائی تک علاقے میں پائپ لائن کا کام کیا۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: اسلامی کلمات کہنے پر مسلم خاتون آئی پی ایس افسر کا تبادلہ

ایک رہائشی محی الدین شیخ نے کہا، ’’پائپ لائن کا کام ہو رہا تھا، انہوں نے دو گڑھے کھودے تھے، ایک جھونپڑی کے شروع میں اور دوسرا آخر میں، جھونپڑی کو نشان زد کرتے ہوئے۔۲۸؍ جولائی کو رات تقریباً۱۱؍ بجے پانی کی فراہمی بند ہوگئی۔ اگلی صبح ہم پانی کی فراہمی واپس آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ تب سے یہ بحال نہیں ہوئی۔‘‘شیخ نے دیگر رہائشیوں کے ساتھ الزام لگایا کہ سڑکوں کی مرمت کے دوران رات کے وقت پائپ لائنیں بند کر دی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، "انہوں نے پائپ لائنوں کو بند کرنے اور سڑکوں کی مرمت کے لیے آدھی رات کا سہارا لیا۔ صبح سے ہمارے پاس پانی نہیں تھا۔‘‘
انہوں نے بجلی بھی چھین لی
رہائشیوں نے کہا کہ پانی کے بحران کے ساتھ بجلی کی فراہمی میں بھی خلل پڑا۔ ایک نوجوان نے کہا، ’’انہوں نے پانی اور بجلی دونوں چھین لیے۔‘‘ایک رہائشی پنکی بی بی نے کہا، ’’انہوں نے سوچا کہ ہم مین لائن سے غیر قانونی طور پر بجلی لے رہے ہیں، اس لیے انہوں نے سپلائی بند کر دی۔ ہمارے تمام گھروں میں الگ بجلی کے کنکشن ہیں اور ہمیں الگ بل ملتے ہیں۔ پھر وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم غیر قانونی طور پر بجلی لے رہے ہیں؟‘‘مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ کلکتہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (سی ای ایس سی) نے کہا کہ غیر قانونی بجلی ٹیپنگ کے الزامات کی تصدیق کے لیے مین روڈ کنکشن بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم مین روڈ سے نکلنے والی گلیوں میں بجلی کی فراہمی دستیاب رہی۔ سات دن بعد سی ای ایس سی اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہوئی کہ کوئی غیر قانونی ٹیپنگ نہیں ہو رہی ہے اور کنکشن بحال کر دی۔ 
وہ ہمیں بے دخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
رہائشیوں نے الزام لگایا کہ ان ضروری خدمات میں خلل جھونپڑی کے مکینوں کو بے دخل کرنے کی ایک ٹھوس کوشش کا حصہ تھا۔ عالمگیر نے الزام لگایا،’’منصوبہ یہ تھا کہ پانی اور بجلی کی بنیادی ضروریات کو منقطع کر دیا جائے تاکہ ہم علاقہ چھوڑ دیں۔ اس علاقے میں مکمل فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہے۔ ہندو اور مسلمان ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ تاہم، یہ حکومت ہمارے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘۶۰؍ سالہ ہندو رہائشی سرسوتی بسواس نے الزام لگایا کہ نومنتخب ایم ایل اے تیواری نے رہائشیوں کو ’’بنگلہ دیشی اور قابضین‘‘ کہا تھا۔
بعد ازاں پانی کی فراہمی میں طویل خلل کی ممکنہ وجہ کی تحقیقات کے دوران، آلٹ نیوز نے کالونی کے رہائشیوں اور کولکاتا بندرگاہ کے حکام کے درمیان ایک پیچیدہ قانونی رکاوٹ پائی۔

یہ بھی پڑھئے: جلگاؤں کارپوریشن الیکشن کے اخراجات کا گوشوارہ پیش نہ کرنے پر۱۵؍امیدواروں پر ۳؍ سال کی پابندی

قانونی ریکارڈ کے مطابق، پوری کالونی تقریباً۳۴۷۸؍ مربع میٹر زمین کے ایک ٹکڑے پر بنی ہے جو سرکاری طور پر شاما پرساد مکھرجی پورٹ، کولکاتا کی ملکیت ہے۔۲۳؍ فروری کو بندرگاہ کے اسٹیٹ آفیسر نے کالونی کے لیے بے دخلی کا حکم جاری کیا۔آلٹ نیوز نے حکم تک رسائی حاصل کی، اور پایا کہ یہ پبلک پریمائزز (غیر مجاز قابضین کی بے دخلی) ایکٹ،۱۹۷۱ء کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا۔ نوٹس میں جیوتی نگر کالونی کے رہائشیوں کو پورٹ پراپرٹی پر غیر مجاز قابض اور/یا تجاوز کرنے والے قرار دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ آفیسر نے رہائشیوں کو اس نوٹس کی اشاعت کی تاریخ سے 15 دن کے اندر زمین خالی کرنے کا حکم دیا۔ بے دخلی کا حکم جاری ہونے سے پہلے سماعت ہوئی، جس میں بندرگاہ حکام نے پیش کیا کہ کالونی کے وجود کی وجہ سے فرقہ وارانہ بدامنی کا ممکنہ خطرہ ہے۔آلٹ نیوز کے ذریعہ حاصل کردہ قانونی دستاویزات کے مطابق، کالونی کے رہائشیوں کو اس بے دخلی کے حکم کے بارے میں ۹؍ جون کو معلوم ہوا۔ رہائشیوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں حکومت کی تبدیلی کے بعد، مقامی بی جے پی حامیوں نے جھونپڑی کو مسمار کرنے کی مہم شروع کر دی۔ مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کالونی کو’’ غیر قانونی بنگلہ دیشی دراندازوں کا اڈہ‘‘ قرار دینا شروع کر دیا۔
جبکہ بے دخلی مہم سے قانونی تحفظ حاصل کرنے کے لیے، رہائشیوں نے کلکتہ کے سٹی سول کورٹ کے چیف جج کے سامنے اپیل کی، تاہم،۱۸؍ اگست کو عدالت نے انہیں بے دخلی سے کوئی استثنیٰ دینے سے انکار کر دیا۔مزید برآں بندرگاہ حکام نے سٹی سول کورٹ کے سامنے اپنی پیشکش میں ذکر کیا تھا کہ کالونی میں غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں۔ انہوں نے احاطے کو بھیڑ بھرا اور انسانی رہائش کے لیے غیر محفوظ قرار دیا، جس میں آتش گیر مواد اور کئی غیر موصل بجلی کی تاروں کی موجودگی کا حوالہ دیا جو ممکنہ طور پر آگ کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے۹؍ ستمبر۲۰۲۰ء اور۲۵؍ جولائی۲۰۲۲ء کو نارتھ پورٹ پولیس اسٹیشن میں دو پولیس شکایات بھی درج کرائیں۔
۱۹؍اگست کو علاقے کے مکین بے دخلی سے تحفظ مانگتے ہوئےکلکتہ ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوئے، ۔ عدالت نے بے دخلی کے عمل پر۱۸؍ ستمبر تک عبوری حکم امتناعی جاری کیا۔ اس دوران پانی اور بجلی میں خلل پڑا، جس کے بارے میں رہائشیوں کا خیال ہے کہ جان بوجھ کر ان کی زندگیوں میں خلل ڈالنے کے لیے بے دخلی کو تیز کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: چھتیس گڑھ: آوارہ بیل کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

کئی رہائشیوں نے مقامی پولیس اسٹیشن، کونسلر اور ایم ایل اے تیواری سے رابطہ کیا تھا، ان کی مداخلت کی درخواست کی تھی، لیکن انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ابھی تک کسی اہلکار نے حقیقت کا معائنہ کرنے کے لیے کالونی کا دورہ نہیں کیا۔ رہائشیوں نے یہ بھی کہا کہ جب خواتین کے ایک گروپ نے تیواری سے رابطہ کیا تو اس نے انہیں یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ پانی کی فراہمی میں خلل کا ذمہ دار نہیں ہے اور اسے بحال کرنے سے انکار کر دیا۔ساتھ ہی فرقہ وارانہ گالیاں دیں ، اور کالونی میں بھی مسجد کو مسمار کرنے کی دھمکی بھی دی۔
۹؍ستمبر کو، سی پی آئی (ایم) کی مرکزی کمیٹی کی رکن میناکشی مکھرجی نے دیگر کارکنوں اور لیڈروں کے ساتھ علاقے کا دورہ کیا، اور رہائشیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور بے دخلی مہم کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی کی پہل پر ہر دو سے تین دن میں پانی کا ایک ٹینکر کالونی کا دورہ کرتا ہے تاکہ رہائشیوں کو پانی کا متبادل ذریعہ فراہم کیا جا سکے۔
ایم ایل اے رتیش تیواری کا جواب
جب آلٹ نیوز نے تیواری سے ان کے حلقے کے لوگوں کی حالت زار کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے خود کو اس معاملے سے دور کرتے ہوئے کہا، ’’پلاٹ پورٹ کا ہے۔ لوگوں کا پورٹ سے جھگڑا ہے۔ پورٹ نے انہیں خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد میں ہائی کورٹ نے انہیں عارضی جبری کارروائی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ پانی کی فراہمی کے ایم سی فراہم کرتی ہے۔ تو یہاں میرا کیا کردار ہے؟ میں یہاں کیا کہہ سکتا ہوں؟ معاملہ زیر سماعت ہے، اور سیاسی لیڈروں کے لیے بہتر ہے کہ وہ کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کی پانی کی فراہمی بحال کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، تو انہوں نے کہا، ’’یہ میرا کام نہیں ہے... انہوں نے قائم سیاسی لیڈروں کی مدد مانگی ہے... تو انہیں ان لوگوں پر بھروسہ رکھنا چاہیے جنہیں انہوں نے بلایا ہے۔ کیا انہیں اتنی جلدی وہ اعتماد کھو دینا چاہیے؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK