مظاہرین میں خالصتانی گھس آئے ہیں

Updated: January 13, 2021, 9:48 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

مودی سرکار کا سپریم کورٹ میں دعویٰ، آج حلف نامہ داخل کریگی، اُس مداخلت کار کی تائید کی جس نے مظاہرہ میں ممنوعہ تنظیموں کی موجودگی کی شکایت کی

Farmers Protest - Pic : PTI
کسانوں کا احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

سینئر ایڈوکیٹ پی ایس نرسمہا کے ذریعہ داخل کی گئی  اس پٹیشن کی مودی سرکار نے بھی سپریم کورٹ میں تائید کی ہے کہ کسانوں  کے مظاہرہ میں خالصتانی گھس آئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مرکزکو اس پر حلف نامہ داخل کرنے کیلئے کہا ہے۔ اٹارنی جنرل وینو گوپال نے  انٹیلی جنس سے ضروری معلومات حاصل کرکے بدھ کو حلف نامہ داخل کرنے کاوعدہ کیا ہے
 کسانوں کے احتجاج اور زرعی قوانین سے متعلق پٹیشنوں پر شنوائی کے دوران کنسورٹیم آف انڈین فارمرس اسوسی ایشن  کی جانب سے مداخلت کار کی حیثیت سے  داخل کی گئی پٹیشن میں  الزام لگایاگیاہے کہ’’سکھ فار جسٹس‘‘ جیسی تنظیمیں  مظاہرہ میں شامل ہیں۔  مداخلت کار کے مطابق  کئی ممنوعہ تنظیمیں مظاہرہ کا حصہ ہیں۔اس پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال سے پوچھا کہ کیا حکومت ان الزامات کی تصدیق کرتی ہے تو جواب  میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’’ہم کہہ چکے ہیں کہ مظاہرین میں خالصتانی گھس آئے ہیں۔‘‘ اس  پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’’اگر ممنوعہ تنظیموں کی جانب سے دراندازی ہوئی ہے اور کوئی آن ریکارڈ اس کا الزام عائد کررہا ہے تو آپ کو اس کی تصدیق کرنی ہوگی،آپ کل تک حلف نامہ داخل کریں۔‘‘شنوائی کے آخر میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی کہا کہ مظاہرہ میں کچھ ایسے عناصر بھی ہیں جو کسان نہیں ہیںوہ کسانوں کو گمراہ کرنے کیلئے غلط معلومات عام کررہے ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پیر کو جو حلف نامہ داخل کیا گیاہے اس میں اس کا ذکر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK