مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے منگل کو واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں زرعی اور ڈیری جیسے حساس شعبوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے اور اس معاہدے پر جلد ہی دونوں فریق مشترکہ بیان جاری کریں گے۔
EPAPER
Updated: February 03, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے منگل کو واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں زرعی اور ڈیری جیسے حساس شعبوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے اور اس معاہدے پر جلد ہی دونوں فریق مشترکہ بیان جاری کریں گے۔
مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے منگل کو واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں زرعی اور ڈیری جیسے حساس شعبوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے اور اس معاہدے پر جلد ہی دونوں فریق مشترکہ بیان جاری کریں گے۔ گوئل نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں ملکوں کے افسران معاہدے کی تکنیکی تفصیلات طے کر رہے ہیں اور جلد ہی اس پر مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے ملک کے ہر شعبے کو امریکی بازار میں مواقع حاصل ہوں گے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ اس میں زرعی اور ڈیری جیسے حساس شعبوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان پیر کی رات ٹیلی فونک گفتگو کے بعد دونوں ملکوں میں تجارتی مذاکرات پر اتفاق ہوا۔ ٹرمپ نے اطلاع دی تھی کہ ہندوستان روس سے خام تیل کی خرید بند کرنے پر راضی ہو گیا ہے اور اس کے بدلے میں امریکہ فوری طور پر ہندوستانی مصنوعات پر جوابی درآمدی محصول ۲۵؍ فیصد سے گھٹا کر ۱۸؍ فیصد کر دے گا۔ بدلے میں ہندوستان ’’امریکی مصنوعات پر درآمدی محصول اور درآمدی رکاوٹوں کو گھٹا کر صفر ‘‘ کر دے گا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ہندوستان توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت، کوئلہ اور دیگر شعبوں میں ۵۰۰؍ ارب ڈالر کے امریکی مصنوعات خریدنے کے علاوہ امریکہ سے درآمدات بڑھائے گا۔
گوئل نے واضح کیا کہ ۵۰۰؍ ارب ڈالر کے امریکی مصنوعات کی خرید پانچ سال میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر ہنگامے کے سبب صورتحال واضح کرنے کے لیے اس پریس کانفرنس کی ضرورت پیش آئی اور معاہدے کے بارے میں تفصیلی معلومات بعد میں دی جائیں گی۔
ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ ہندوستانی کسانوں کے خلاف ہے: ڈاکٹر نریش کمار
دہلی پردیش کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کو ہندوستانی کسانوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد امریکی کسانوں کی مصنوعات کو ہندوستانی منڈی میں فروخت کرکے امریکی دیہی معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کلیم کی شاندار اننگز کی بدولت عمان نے سری لنکا اے کو شکست دے دی
ڈاکٹر کمار نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی زرعی نظام چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کسانوں پر مبنی ہے جبکہ امریکی زراعت بڑے کارپوریٹ اداروں، بھاری سرکاری سبسڈی اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر قائم ہے۔ ایسی صورت میں اگر ہندوستانی زرعی منڈی کو امریکی مصنوعات کے لیے کھول دیا گیا، تو یہ ہندوستانی کسانوں کو غیر منصفانہ مسابقت میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:مائیکل جیکسن کی زندگی پر بنی فلم ’’مائیکل‘‘ کا ٹریلر جاری، ۲۴؍ اپریل کو ریلیز
انہوں نے کہا کہ سبسڈی یافتہ امریکی زرعی مصنوعات کی آمد سے ہندوستانی کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل سکے گی۔ سستے درآمدات سے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے نظام پر منفی اثر پڑے گا۔ چھوٹے اور حاشیہ پر موجود کسان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور پہلے ہی قرض اور بڑھتی لاگت سے دوچار کسانوں کے لیے یہ معاہدہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ کھیتی باڑی کو کسانوں کے ہاتھوں سے نکال کر بڑی کمپنیوں کے حوالے کر سکتا ہے۔