Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کے خلاف وکیلوں کااحتجاج

Updated: May 19, 2026, 12:17 PM IST | Mohammad Aamir Nadvi | Lucknow

وکیلوں میں حکومت کے تئیں سخت برہمی، انہدام کو غیرقانونی بتایا،ڈی ایم، ایس ڈی ایم سمیت دیگر عدالت و رجسٹری دفتر میں کام کاج ٹھپ، وکلاءنے کلکٹریٹ جانے کا راستہ بند کیا، احاطہ کے دفتر بھی بند کرائے۔

Lawyers.Photo:INN
وکیل۔ تصویر:آئی این این
 کلکٹریٹ اور اس کے آس پاس بنائے گئے وکلاءکے چیمبروں پر انہدامی کارروائی سے ناراض وکلاءمجموعی طور پر چھٹی پر چلے گئے ہیں، جس سے کام کاج پر اثر پڑ رہا ہے۔ کلکٹریٹ میں جہاں ڈی ایم، اے ڈی ایم کے علاوہ ریونیو، اسٹامپ عدالت میں شنوائی نہیں ہوسکی، وہیں رجسٹری دفاتر میں بھی کام کاج پوری طرح سے ٹھپ رہا۔ وکلاءکی غیر حاضری کے سبب رجسٹری کام مکمل طور پر ٹھپ رہا۔ دن بھر میں تقریباً ساڑھے تین سو رجسٹریاں ہونی تھیں، لیکن ایک بھی نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب وکلاء نے صبح ہی کلکٹریٹ جانے کا راستہ بند کردیا اور کیمپس میں گھوم گھوم کر دفاتر کو بند کراتے ہوئے نظرآئے۔ اتوار کو ہائی کورٹ کے حکم کے بعد انتظامیہ نے وکلاءکےبنائے گئے چیمبروںکو منہدم کردیا تھا۔ انتظامیہ کی اس کارروائی سے ناراض وکلاءتین دن چھٹی پر چلے گئے اور کسی طرح کا کام نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صبح ہی  سے  وکلاءنے کلکٹریٹ میں نعرے بازی کرتے ہوئے کسی طرح کا کام نہ کرنے کا انتباہ دیا۔ کلکٹریٹ میں کسی بھی کورٹ پر آج مقدموں کی سماعت نہیں ہوسکی اور آئندہ تاریخ دے دی گئی۔ وہیں رجسٹری دفتر میں بھی وکلاءکے بائیکاٹ کا اثر نظر آیا۔ صدر رجسٹری دفتر کے علاوہ  دیگر دفاتر میں بھی رجسٹری نہیں ہوسکی۔ اے آئی جی دوم رمیش کمار نے بتایاکہ موہن لال گنج کو چھوڑ کر سبھی جگہ پر رجسٹری نہیں ہوسکی ہے۔  خیال رہے کہ اتوار کو انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے پر پولیس نے وکیلوں پر لاٹھی چارج کیا تھا، جس کی وجہ سے وکیلوں میں حکومت کے تئیں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔
 
 
لاٹھی چارج کے خلاف وکلاءنے پیر کو صبح ہی سے مظاہرہ شروع کردیا۔ وکلاءنے سواستھ بھون چوراہے سے کلکٹریٹ جانے کا راستہ بند کردیااور ڈی ایم دفتر پر پہنچنے والے راستے پر بیریکیڈنگ لگا دی گئی۔ حالات ایسے تھے کہ افسران اور ملازمین کی گاڑیوں کو بھی اندر نہیں جانے دیا گیا۔ عام لوگوں کی آمدورفت بھی متاثر رہی۔ دراصل اتوار کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ کے حکم پر نگر نگم اور پولیس انتظامیہ نے کچہری کیمپس کے آس پاس تعمیر تقریباً ۱۰۰؍ چیمبروں اور دکانوںپر انہدامی کارروائی کی تھی۔ اس کارروائی کے خلاف پیر کو وکلاءنے محاذ آرائی کی۔ صبح سے ہی کثیر تعداد میں وکلاءاپنے چیمبروں سے نکل کر کلکٹریٹ پہنچے۔ اس دوران لکھنؤ بار اسوسی ایشن کے جنر ل سکریٹری جتیندر یادو عرف جیتو یادو بھی موقع پر پہنچے۔ ان کے ساتھ مل کر وکلاءنے ڈی ایم دفتر کا راستہ بند کرا دیا۔ اس کے بعد وکلاء کلکٹریٹ کیمپس میں گھوم گھوم کر سرکاری دفاترکو بند کراتے ہوئے نظر آئے۔ سواستھ بھون چوراہے سے کلکٹریٹ تک ماحول کشیدہ رہا۔ سیکوریٹی کے پیش نظر پولیس فورس تعینات رہی اور بیریکیڈنگ کرکے راستوں کوکنٹرول کیاگیا۔ سنٹرل بار اسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری ہنی دیکشت نے الزام عائد کیا کہ اس کارروائی میں سینئر وکلاءاور بار اسوسی ایشن کے عہدیداران کےساتھ بدسلوکی کی گئی۔ ان کا کہناہے کہ انتظامیہ نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے چیمبر توڑ دیئے جبکہ رجسٹری دفتر کی جانب کارروائی مکمل نہیں کی گئی۔ اس سے انتظامیہ کے طریقہ کار پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔اس دوران وکلاءکے ایک وفد نے ایڈووکیٹ ایس پی سنگھ کی قیادت میں سماجوادی سربراہ اکھلیش یادو سے ملاقات کی۔ وکلاءنے چیمبروں پر انہدامی کارروائی اور ان پر بے رحمی سے کئے گئے لاٹھی چارج کی ان سے شکایت کی۔اکھلیش نے ان کے حقوق کی لڑائی میں ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK