کوٹک مہندرا بینک کے بانی ڈائریکٹر اُدے کوٹک کی حالیہ تقریر، جو انہوں نے فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس (فکی ّ)کے اجلاس میں کی، اس قابل ہے کہ اس پر دردمندانہ غور کیا جائے۔
اُدے کوٹک۔ تصویر:آئی این این
کوٹک مہندرا بینک کے بانی ڈائریکٹر اُدے کوٹک کی حالیہ تقریر، جو انہوں نے فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس (فکی ّ)کے اجلاس میں کی، اس قابل ہے کہ اس پر دردمندانہ غور کیا جائے۔ یہ، نہ صرف عام پڑھے لکھے انسان کیلئے ہے بلکہ صنعتکار، بینک کار اور کاروبار سے وابستہ شخصیات حتیٰ کہ ملک کے پالیسی ساز بھی اس سے صرفِ نظر نہ کریں اور اس کو تنقید نہ سمجھتے ہوئے اس سے ٹھوس حکمت عملی نکالیں تو یہ ہمارے ہی حق میں بہتر ہوگا۔ اِس تقریر کو قومی میڈیا نے اپنے انداز میں پیش کیا، وہ اِس طرح کہ اسے وزیر اعظم کے کفایت شعاری کے گیارہ (۱۱) نکاتی ایجنڈا کی تائید قرار دیا ہے مگر یہ آدھا سچ ہے ۔ اُدے کوٹک کے بقول ایران جنگ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں انہیں برف کے بڑے تودے کا محض ایک سرا سمجھنا چاہئے کیونکہ ان حالات کا حقیقی اثر ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔ جب تیل کمپنیوں کے پاس ذخیرہ شدہ تیل ختم ہوجائیگا تب ناگفتہ بہ حالات پیدا ہونگے اور کم آمدنی والے افراد اور خاندان اس کا خمیازہ بھگتیں گے۔ یہ انتباہ ضرور وزیر اعظم کی اپیل سے جڑتا ہے مگر اس کے علاوہ بھی انہوں نے بہت کچھ کہا ہے۔ مثلاً اُن کا یہ کہنا کہ وطن عزیز کو اپنی اندرونی طاقت (Domestic Strength) مجتمع کرنی ہوگی بہت اہم ہے۔اندرونی طاقت کیا ہے؟ اس کا معنی اگر خالص معاشی نقطۂ نظر سے سمجھا جائے تو اس میں ملک کے تمام معاشی زمرے شمار ہونگے یعنی بڑی کمپنیوں کے علاوہ متوسط کمپنیاں اور چھوٹی صنعتی اکائیاں یا چھوٹے کاروباری ادارے۔ یہ اس لئے ہماری طاقت ہیں کہ روزگار پیدا کرتے ہیں اُن کیلئے بھی جو ہنرمند اور تعلیم یافتہ ہیں اور اُن کیلئے بھی جو غیر ہنرمند او ر کم تعلیم یافتہ ہیں۔ موجودہ حکومت کی پالیسی کارپوریٹس پر عنایت اور نچلے یا متوسط درجہ کی صنعتوں اور کاروباری اکائیوں سے چشم پوشی کی ہے جس میں غیر منظم زمرہ (اِنفارمل سیکٹر) بھی شامل ہے۔ ۲۰۱۶ء کی نوٹ بندی سے یہ ادارے اور اکائیاں آج تک اُبھر نہیں پائی ہیں۔ بچی کھچی کسر عجلت میں نافذ کئے گئے جی ایس ٹی نے پوری کردی۔ آج ان اکائیوں کا جائز ہ لیجئے تو افسوسناک تصویر سامنے آئیگی۔ بے روزگاری ۴۵؍ سال کی بلند ترین سطح پر کیسے پہنچ گئی؟ اسی لئے کہ ان اکائیوں کی راہ مشکل بنا دی گئی، نتیجتاً، ان اکائیوں میں موجود روزگار کے مواقع ختم ہوگئے۔ اس پس منظر میں کیا حکومت کوٹک کا ’’مڈل مینوفیکچرنگ‘‘ کا مشورہ قبول کریگی؟
اُدے کوٹک نے یہ کہتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غبارے کی ہوا بھی نکال دی کہ اس شعبے میں کچھ کر دکھانے کیلئے غیر معمولی سرمائے کی ضرورت ہے اور چونکہ اتنا سرمایہ بہت بڑے عالمی اداروں ہی کے پاس ہے اس لئے مصنوعی ذہانت انہی اداروں کی جاگیر بن جائیگی اور دُنیا کے امیروں کی امارت ہی نہیں بڑھے گی نئی قسم کی اجاردہ داری بھی وجود میں آئیگی۔بقول اُدے کوٹک : ’’ہم عالمی نوآبادیاتی نظام کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں‘‘ جس میںآپ سے ہمارا مفاد ہے اور آپ ہمارے احکام بجا لاتے ہیں تو آپ دوست ہیں ورنہ دشمن، اور اگر آپ دشمن ہیں تو آپ کی خیر نہیں، آپ کے وسائل پر قبضہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
یہ ساری باتیں چونکاتی ہی نہیں ڈراتی بھی ہیں کیونکہ ان کی ایک جھلک ایران جنگ یا صدرِ وینزویلا کی راتوں رات گرفتاری ہے (وسائل پر قبضہ) جبکہ دوسری جھلک اے آئی کی ۵؍ میں سے ۴؍ ٹاپ کمپنیوں کا امریکی ہونا ہے (اجارہ داری) ۔