Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں کالجوں کا قیام اور اُردو زبان کی حق تلفی؟

Updated: May 19, 2026, 12:37 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

بہار میںنئے کالجوں کا قیام ایک تاریخی قدم ثابت ہو سکتاہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان مجوزہ کالجوں میں اردو، سنسکرت، میتھلی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے شعبے یا اساتذہ کی پوسٹوں کو منظوری نہیں دی گئی۔

Students.Photo:INN
طلبہ۔ تصویر:آئی این این
حال ہی میں ریاستِ بہار کی حکومت نے اپنے مکتوب 15/P5-03/2026-637 ۳۰؍اپریل ۲۰۲۶ء کے ذریعہ  ریاست  کے ۲۰۸؍ بلاکوں میں نئے ڈگری کالج قائم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ اعلیٰ تعلیم کی توسیع، دیہی اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں تک تعلیمی سہولتوں کی رسائی، اور تعلیمی عدم مساوات کو کم کرنے کی یہ کوشش قابلِ ستائش ہے۔ بہار جیسے کثیرآبادی والے اور تعلیمی اعتبار سے طرح طرح کی دشواریوں و مسائل کا سامنا کرنے والے صوبے میں نئے کالجوں کا قیام ایک مثبت پیش رفت ہے۔ بہار کے نئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری جو حلف برداری کے بعد ہی ریاست کی ترقی کیلئے مختلف طرح کے اقدام اٹھا رہے ہیں ان میںاعلیٰ تعلیمی ماحول سازی کیلئے ان نئے کالجوں کا قیام ایک تاریخی قدم ثابت ہو سکتاہے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان مجوزہ کالجوں میں اردو، سنسکرت، میتھلی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے شعبے یا اساتذہ کی پوسٹوں کو منظوری نہیں دی گئی۔ اردو کے ساتھ یہ رویہ اس لئے بھی ناانصافی ہے کہ بہار میں لاکھوں طلبہ اردو میڈیم یا اردو بطور مضمون پڑھتے ہیں۔ ہر سال سیکڑوں طلبہ اردو میں گریجویشن، پوسٹ گریجویشن اور تحقیقی کام کرتے ہیں۔ اس کے باوجود سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں اردو کی نشستوں میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ تضاد قابلِ غور ہے کہ ایک طرف حکومت اردو زبان کے فروغ کے نام پر سمینار، تقریبات اور اردو ڈائریکٹوریٹ قائم کرتی ہے، دوسری طرف عملی میدان میں اردو اساتذہ کی تقرری اور نئے شعبوں کے قیام سے گریز کیا جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ ہر کالج میں ایک موضوع کے لئے دو اساتذہ کی پوسٹیں منظور کی گئی ہیں اس لحاظ سے ۴۱۶؍ پوسٹیں اردو کے لئے منظور ہونی چاہئیں ۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہوگا کہ ۴۱۶؍  اردو زبان پڑھنے والے اساتذہ کی بحالی نہیں ہو سکے گی۔یہ مسئلہ صرف اردو تک محدود نہیں بلکہ سنسکرت، میتھلی، بھوجپوری اور دیگر علاقائی زبانوں کا بھی ہے۔ ہندوستان کے معروف ماہرِ تعلیم گاندھی جی نے مادری زبان میں تعلیم کو ذہنی آزادی کی بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ:’’کسی قوم کو اس کی زبان سے دور کر دینا دراصل اس کی روح کو کمزور کر دینا ہے۔‘‘اسی طرح رابندر ناتھ ٹیگور، مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے اکابرین نے بھی علاقائی زبانوں میں تعلیم کو تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لئے ضروری قرار دیا تھا۔ جدید لسانی ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ زیادہ بہتر فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔بہار میں اردو کی صورتحال پہلے ہی کئی مسائل سے دوچار ہے۔ سرکاری دفاتر میں اردو کا استعمال محدودہوتا جا رہا ہے لیکن اس کے لئے حکومت نہیں بلکہ اردو آبادی قصور وار ہے کہ وہ اردو زبان میں سرکاری دفاتر میں درخواستیں دینے سے گریز کرتی ہے۔
 
 
سوال یہ بھی ہے کہ اگر ان کالجوں میں اردو، سنسکرت یا میتھلی کے شعبے قائم نہیں ہوں گے تو ان زبانوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع کیسے پیدا ہوں گے؟ پھر حکومت یہ شکایت بھی کرتی ہے کہ نوجوان روزگار کے لئے تیار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب زبانوں اور علومِ انسانی کے شعبوں کو مسلسل کمزور کیا جائے گا تو معاشرہ فکری اور تہذیبی سطح پر بانجھ پن کا شکار ہو جائے گا۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان کا آئین لسانی اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۲۹؍  اور ۳۰؍ اقلیتی زبانوں اور ثقافت کے تحفظ کی بات کرتے ہیں۔ اسی طرح آرٹیکل۳۵۰؍  اے میں لسانی اقلیتوں کے بچوں کو مادری زبان میں تعلیم کی سہولت فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ایسے میں اردو کو نظر انداز کرنا آئینی روح سے انحراف کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بہار حکومت اپنے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور نئے کالجوں میں اردو، سنسکرت، میتھلی اور دیگر علاقائی زبانوں کی پوسٹیں منظور کرے۔ ہر ڈگری کالج میں کم از کم ایک مکمل شعبۂ اردو کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔بلکہ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی اور عربی کا شعبہ بھی مفید ہوگا۔اب اردو اساتذہ کی پوسٹوں کی منظوری کیلئے اردو کے تعلق سے سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، ادبی اداروں اور دانشوروں کو بھی سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ اردو بولنے والے طبقے کو بھی اپنے تعلیمی اور لسانی حقوق کیلئے آئینی اور جمہوری انداز میں آواز بلند کرنی ہوگی۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اردو ہندوستانی تہذیب کی مشترکہ میراث ہے۔ یہ صرف ایک مخصوص طبقے کی زبان نہیں بلکہ گنگا جمنی تہذیب کی نمائندہ زبان ہے۔
 
 
پریم چند، فراق گورکھپوری اور راجندر سنگھ بیدی جیسے غیر مسلم ادیبوں نے بھی اردو ادب کو عظیم سرمایہ عطا کیا۔ اس لئے اردو کو مذہبی یا سیاسی عینک سے دیکھنا ہندوستانی تہذیب کے وسیع تر تصور کیخلاف ہے۔ بہار میں اس وقت بھی کئی کالجوں میں غیر مسلم صدر شعبۂ اردو موجود ہیں۔مختصر یہ کہ بہار حکومت کا نئے ڈگری کالج قائم کرنا یقیناً ایک تاریخی قدم ہے، مگر اس خوش آئند فیصلے کو حقیقی معنوں میں جامع اور انصاف پر مبنی تبھی کہا جا سکتا ہے جب ان اداروں میں تمام اہم ہندوستانی زبانوں کو مناسب نمائندگی دی جائے۔ اردو چونکہ بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے، اس لئے اس کی حق تلفی کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہونی چاہئے۔ اگر واقعی نئی قومی تعلیمی پالیسی کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانا ہے تو زبانوں کے فروغ کو محض نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے میں ان کی باوقار شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ یہی ہندوستان کی لسانی جمہوریت، ثقافتی تنوع اور تعلیمی انصاف کا تقاضا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اعلانیہ کہتے ہیں کہ ان کی تعلیم کا آغاز اردو مدارس سے ہوا ہے اس لئے یہ بہتر موقع ہے کہ ان تک یہ عرضداشت پہنچنی چاہئے کہ نئے ڈگری کالجوں میں اردواساتذہ کیلئے پوسٹیں منظور نہیں کی گئی ہیں ، ممکن ہے کہ وہ فوری طورپر اس لسانی مسئلے کا ازالہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK