اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک فوجی کی جانب سے یسوع مسیح کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کی وائرل تصویر مستند ہے۔ واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جبکہ فوج نے تحقیقات اور کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 10:07 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک فوجی کی جانب سے یسوع مسیح کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کی وائرل تصویر مستند ہے۔ واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جبکہ فوج نے تحقیقات اور کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر، جس میں ایک اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں یسوع مسیح کے مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑتا دکھائی دے رہا ہے، حقیقی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد فوج نے کہا کہ ’’یہ طے پایا کہ تصویر میں ایک آئی ڈی ایف فوجی جنوبی لبنان میں سرگرم دکھایا گیا ہے… سپاہی کا طرز عمل ہمارے معیار اور اقدار کے خلاف ہے۔‘‘ یہ واقعہ دیبل کے قریب پیش آیا، جہاں ایک فوجی کو ہتھوڑے کے ذریعے مجسمے کا سر توڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو اور تصاویر کے سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
South Lebanon muslims smashed a statue of Jesus on dec 16, 2025. This is the truth.
— Nath-K (@KaanNathalie) April 19, 2026
Do not trust these fkng liars. @mtgreenee @ytirawi #jesus #cross #lebanon pic.twitter.com/NorI6ZNHx3
فوج نے وضاحت کی کہ اس واقعے کی تحقیقات اس کی ’’نارتھ کمان‘‘ کر رہی ہے اور کہا کہ ’’نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘‘ تاہم، اب تک فوجی کی شناخت یا ممکنہ سزا کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ آئی ڈی ایف نے یہ بھی کہا کہ وہ مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر مجسمے کی بحالی میں مدد کرے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ ’’اس کا مذہبی عمارتوں یا مذہبی علامات کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں حزب اللہ کے خلاف آپریشنز شامل ہیں۔
دوسری جانب، بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی۔ امریکی سیاست دان مارجوری ٹیلر گرین نے کہا کہ ایسے اقدامات ’’ہمارے اتحادی کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں۔‘‘ صحافی ریان گریم نے تبصرہ کیا کہ ’’ایسے واقعات اور تصاویر طویل عرصے سے بغیر کسی روک ٹوک کے سامنے آ رہے ہیں۔‘‘ جبکہ میٹ گیٹز نے اسے ’’خوفناک‘‘ قرار دیا۔ لبنانی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا کہ اسی علاقے میں دیگر عیسائی مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا ہے، جس سے مذہبی تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لوزیانا فائرنگ: باپ نے ۸؍ بچوں کاقتل کردیا، پولیس کے اقدام میں ملزم ہلاک
یاد رہے کہ لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ متعدد مذہبی اور شہری مقامات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسی تناظر میں، گزشتہ ماہ ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا تھا جب پیئربٹیسٹا پیزابلا کو چرچ آف دی ہولی سیپلچر میں داخلے سے روک دیا گیا تھا، جس پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی۔ بعد ازاں بین الاقوامی دباؤ کے بعد اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔
یہ واقعہ مذہبی آزادی، جنگی اخلاقیات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں مذہبی شناخت اور تاریخی مقامات انتہائی حساس نوعیت رکھتے ہیں۔