Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان: یسوع کے مجسمے کی توڑ پھوڑ، اسرائیلی فوج نے کارروائی کا یقین دلایا

Updated: April 20, 2026, 10:07 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک فوجی کی جانب سے یسوع مسیح کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کی وائرل تصویر مستند ہے۔ واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جبکہ فوج نے تحقیقات اور کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر، جس میں ایک اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں یسوع مسیح کے مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑتا دکھائی دے رہا ہے، حقیقی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد فوج نے کہا کہ ’’یہ طے پایا کہ تصویر میں ایک آئی ڈی ایف فوجی جنوبی لبنان میں سرگرم دکھایا گیا ہے… سپاہی کا طرز عمل ہمارے معیار اور اقدار کے خلاف ہے۔‘‘ یہ واقعہ دیبل کے قریب پیش آیا، جہاں ایک فوجی کو ہتھوڑے  کے ذریعے مجسمے کا سر توڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو اور تصاویر کے سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر شدید غم و غصہ پھیل گیا۔

فوج نے وضاحت کی کہ اس واقعے کی تحقیقات اس کی ’’نارتھ کمان‘‘ کر رہی ہے اور کہا کہ ’’نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘‘ تاہم، اب تک فوجی کی شناخت یا ممکنہ سزا کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ آئی ڈی ایف نے یہ بھی کہا کہ وہ مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر مجسمے کی بحالی میں مدد کرے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ ’’اس کا مذہبی عمارتوں یا مذہبی علامات کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں حزب اللہ کے خلاف آپریشنز شامل ہیں۔

دوسری جانب، بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی۔ امریکی سیاست دان مارجوری ٹیلر گرین نے کہا کہ ایسے اقدامات ’’ہمارے اتحادی کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں۔‘‘ صحافی ریان گریم نے تبصرہ کیا کہ ’’ایسے واقعات اور تصاویر طویل عرصے سے بغیر کسی روک ٹوک کے سامنے آ رہے ہیں۔‘‘ جبکہ میٹ گیٹز نے اسے ’’خوفناک‘‘ قرار دیا۔ لبنانی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا کہ اسی علاقے میں دیگر عیسائی مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا ہے، جس سے مذہبی تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لوزیانا فائرنگ: باپ نے ۸؍ بچوں کاقتل کردیا، پولیس کے اقدام میں ملزم ہلاک

یاد رہے کہ لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ متعدد مذہبی اور شہری مقامات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسی تناظر میں، گزشتہ ماہ ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا تھا جب پیئربٹیسٹا پیزابلا کو چرچ آف دی ہولی سیپلچر میں داخلے سے روک دیا گیا تھا، جس پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی۔ بعد ازاں بین الاقوامی دباؤ کے بعد اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔

یہ واقعہ مذہبی آزادی، جنگی اخلاقیات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں مذہبی شناخت اور تاریخی مقامات انتہائی حساس نوعیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK