وزیر اعلیٰ کا اپوزیشن کو بحث کا چیلنج، مہایوتی آج’ جن آکروش مورچہ‘ نکالے گی، خواتین میں دستخطی مہم مہاوکاس اگھاڑی کو بحث کا چیلنج منظور ، کانگریس اور این سی پی کی اراکین پارلیمان کا فرنویس کو جواب
EPAPER
Updated: April 21, 2026, 12:22 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
وزیر اعلیٰ کا اپوزیشن کو بحث کا چیلنج، مہایوتی آج’ جن آکروش مورچہ‘ نکالے گی، خواتین میں دستخطی مہم مہاوکاس اگھاڑی کو بحث کا چیلنج منظور ، کانگریس اور این سی پی کی اراکین پارلیمان کا فرنویس کو جواب
ایوان پارلیمان میں خواتین کو ۳۳ فیصد ریزرویشن دینے کے بہانے پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندی کا بل مودی حکومت نے گزشتہ دنوں پیش کیا جو نا منظور ہو گیا۔ اس کی وجہ سے بی جے پی میں شدید ناراضگی ہے۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ نے بھی اس پر برہمی ظاہر کی ہے اور اپوزیشن کے خلاف ریاست بھر میں مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ دیویندر فرنویس نے پیر کو ممبئی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور بل کی مخالفت کرنے پر کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کو خواتین مخالف قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس ، شیو سینا (ادھو)، این سی پی (شرد) اورسماجوادی پارٹی خواتین کو سیاست میں حصہ داری دینے کے خلاف ہیں۔
دیویندر فرنویس نے اعلان کیا کہ ۲۰۲۹ء میں یا اس سے پہلے خواتین ریزرویشن بل منظور کر لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اس کیلئے خواتین کو بیدار کیا جائے گا جس کی شروعات مہاراشٹر میں منگل ہی سے کر دی جائے گی۔ منگل کو ( آج) مہایوتی کی جانب سے ایک جن آکروش ریلی نکالی جائے گی۔ ساتھ ہی ایک دستخطی مہم شروع کیا جائے گی جس کے تحت اس بل کی حمایت میں ریاست کی ایک کروڑ خواتین کے دستخط جمع کرکے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجے جائیں گے۔
دیویندر فرنویس نے کہاکہ’’ ہم ادھو سینا، این سی پی شرد پوار گروپ اور کانگریس کے خواتین مخالف چہرے کو بے نقاب کریں گے۔ ہم خواتین کو متحد کریں گے۔ جب انہیں جمہوریت میں رائے عامہ کی اہمیت کا احساس ہو گا تو وہ خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کریں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ’’ خواتین کو منظم کرنے کیلئے کام کرنے کے ساتھ ساتھ ہم ریاست سے ایک کروڑ خواتین کے دستخط جمع کریں گے اور سماج میں خاص کر خواتین کے درمیان اس بل کے تعلق سے بیداری پیدا کریں گے ۔ ہم ریلی میں اپنی حمایتی پارٹیوں کو مدعو کریں گے۔ ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک خواتین کو ریزرویشن نہیں مل جاتا۔‘‘دیویندر فرنویس کے مطابق ممبئی کے ورلی علاقے میں واقع جمبوری میدان سے ورلی ٹومب تک جن آکروش ریلی نکالی جائے گی جس میں بڑی تعداد میں خواتین شریک ہوں گی۔ دیویندر فرنویس نے خاص طور پر کانگریس کو خواتین ریزرویشن بل پر کھلی بحث کرنے کا چیلنج دیا ہے کہ وہ کیوں اس کے خلاف ہے؟
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی جانب سے اپوزیشن کو دیئے گئے خواتین ریزرو یشن بل پر کھلی بحث کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے این سی پی (شرد)کی کارگزار صدر سپریا سلے نےکہا ہے کہ وہ دیویندر فرنویس سے خواتین ریزرویشن بل پر بحث کیلئے تیار ہیں۔ ان کے علاوہ کانگریس کی ۲؍ خواتین رکن پارلیمان شوبھا بچھائو اور پرنیتی شندے نے بھی وزیر اعلیٰ کے الزامات کا جواب دیا ہے۔ ان تینوں خواتین نے وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس منعقد کی تھی۔
سپریہ سلے کا کہنا تھا ’’ بی جے پی اپوزیشن کے ذریعے خواتین بل کی مخالفت کا واویلا مچایا رہی ہے۔ جبکہ’ ناری شکتی بل‘ تو ۲۰۲۳ء ہی میں اتفاق رائے سے منظور ہوچکا ہے ، اگر واقعی بی جے پی کو خواتین کی اتنی ہی فکر ہے تو پھر ڈھائی سال بعد بھی اس بل پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا ہے؟وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے سپریہ سلے نے کہا کہ دیویندر فرنویس نے جو پریس کانفرنس میںکہا وہ دہلی سے دی گئی اسکرپٹ تھی۔ انہوں نے سوال کیاڈھائی تین سال بعد بھی خواتین کو۳۳؍فیصد ریزرویشن کیوں نہیں ملا؟ حکومت نے ذات پات کی مردم شماری کیلئے فنڈکیوںنہیں مہیا کروائے۔ جب پارلیمانی حلقوں کی حد بندی اور خوتین ریزرویشن کا کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر دنوں کو کیوں جوڑا جارہا ہے؟ اور خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی کو کیوں منظور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی موقع پر دیویندر فرنویس سے خواتین ریزرویشن بل پر بحث کرنے کیلئے تیار ہوں۔
اس دوران ممبئی ہی میں کانگریس کی اراکین پارلیمان پرنیتی شندے(شولاپور) اور شوبھا بچھائو ( دھولیہ مالیگائوں) نے پریس کانفرنس منعقد کی اور الزام لگایا کہ بی جے پی خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی کابل منظور کروانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ناکام رہی۔ وہ عین( بنگال) الیکشن کے موقع پر اس طرح خواتین کا استعمال کر کے نچلے درجہ کی سیاست کر رہی ہے۔ ان اراکین پارلیمان نے چیلنج کیا کہ وہ خواتین بل کے معاملے پر مودی اور فرنویس سمیت بی جے پی کے سبھی لیڈروں کے ساتھ کھلا مباحثہ کرنے کیلئے بھی تیارہیں ، بس فرنویس دن اور وقت بتائیں، وہ ثابت کر دیں گی کہ بی جے پی کس طرح خواتین مخالف پارٹی ہے اور ہمیشہ خواتین کو اپنے پیر کی جوتی ہی بنا کر رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بھی سوال کیا ۲۰۲۳ء میں منظور ہوئے بل کونافذ کیوں نہیں کیا گیا ؟