امریکی ریاست لوزیانا کے شہر شریو پورٹ میں ایک ہولناک فائرنگ میں ایک شخص نے اپنے سات بچوں سمیت آٹھ بچوں کو قتل کر دیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق واقعہ گھریلو تنازع سے جڑا ہوا تھا، جبکہ حملہ آور کو پولیس نے تعاقب کے بعد ہلاک کر دیا۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 3:03 PM IST | ِShreveport
امریکی ریاست لوزیانا کے شہر شریو پورٹ میں ایک ہولناک فائرنگ میں ایک شخص نے اپنے سات بچوں سمیت آٹھ بچوں کو قتل کر دیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق واقعہ گھریلو تنازع سے جڑا ہوا تھا، جبکہ حملہ آور کو پولیس نے تعاقب کے بعد ہلاک کر دیا۔
امریکی ریاست لوزیانا کے شہر شریوپورٹ میں پیش آنے والے حالیہ فائرنگ کے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، جنہوں نے اس سانحے کو اور بھی ہولناک بنا دیا ہے۔ تازہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، حملہ آور کی شناخت ۳۱؍ سالہ شامر الکینس کے طور پر ہوئی ہے، جس نے اپنے ہی سات بچوں سمیت مجموعی طور پر آٹھ بچوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ حکام کے مطابق بچوں کی عمریں تقریباً ایک سے ۱۴؍ سال کے درمیان تھیں، جبکہ ایک بچہ گھر کی چھت سے بھاگنے کی کوشش کے دوران مارا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان پر وحشیانہ حملہ، ۴؍قصبوں کے کئی گھروں کو تباہ کر دیا
یہ واقعہ محض ایک جگہ تک محدود نہیں تھا بلکہ کم از کم تین سے چار مختلف مقامات پر پیش آیا، جن میں دو رہائشی گھر اور بعد میں کار جیکنگ کی جگہ شامل ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فائرنگ سے پہلے ملزم نے ایک خاتون کو گولی ماری، جو ممکنہ طور پر اس کی بیوی یا ساتھی تھی۔ دو خواتین شدید زخمی ہوئیں، جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد ملزم نے ایک گاڑی چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے بوسیئر سٹی کے قریب تعاقب کے دوران اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ ایک گھریلو تنازع سے جڑا ہوا ہے، اور بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل، ممکنہ علیحدگی اور عدالت کے معاملے سے گزر رہا تھا۔ مقامی حکام نے اس سانحے کو ’’خاندانی قتلِ عام‘‘ قرار دیا ہے، جو امریکہ میں گھریلو تشدد کے انتہائی خطرناک رخ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس ضمن میں شہر کے میئر ٹام ارسینئکس نے کہا کہ ’’یہ ایک المناک صورتحال ہے، شاید ہمارے شہر کی تاریخ کا بدترین سانحہ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بدھ کو ایران امریکہ جنگ بندی کا آخری دن، تلخیوں کے باوجود اسلام آباد میں گفتگو
دوسری جانب، امریکی قانون سازوں اور مقامی لیڈروں نے اس واقعے کے بعد گھریلو تشدد سے نمٹنے کے لیے مزید وسائل اور اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء میں امریکہ میں ۱۱۰؍ سے زائد بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات ہو چکے ہیں، جبکہ اس سانحے کو حالیہ برسوں کے مہلک ترین واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف امریکہ میں بندوق کے تشدد کے بڑھتے ہوئے بحران کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ گھریلو تنازعات کس حد تک مہلک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔