• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’کتب خانہ ماضی کے ورثے، حال کی تشکیل اور مستقبل کی تعمیر کا امین ہے‘‘

Updated: September 30, 2026, 11:02 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

جامعہ ملیہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے صدر جنید حارث کا ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری کے دورہ پر طلبہ سے خطاب، یہ جامعہ کی مرکزی لائبریری ہے، جو ۱۹۲۰ء میں قائم ہوئی تھی۔

Students, teachers, and library staff during a visit to the Dr. Zakir Husain Library. Photo: INN
ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری کی وزٹ کے موقع پر طلبہ، اساتذہ اور لائبریری اسٹاف۔ تصویر: آئی این این

’’موجودہ دور میں جدید ڈیجیٹل دنیا کے علمی و معلوماتی امکانات سے بہرہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ قدیم کتب بینی کی روایت سے وابستگی بھی ہماری فکری زندگی کا ناگزیر تقاضا ہے۔ کتب خانے محض کتابوں کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ تہذیبی حافظے اور انسانی دانش کے امین ہیں، جو ہمیں ماضی کے فکری و تہذیبی ورثے سے جوڑتے ہیں، حال کی تشکیل میں بصیرت فراہم کرتے ہیں اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک گراں قدر علمی سرمایہ محفوظ رکھنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔‘‘

ان خیالات کا اظہار صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ جنید حارث نے ’’بزمِ طلبہ‘‘ کے زیر اہتمام ’’ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری‘‘ کے دورہ کے موقع پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس امرپر زور دیا کہ طلبہ اپنے علمی سفر کو جامعہ تک محدود رکھنے کے بجائے قومی و بین الاقوامی کتب خانوں اور عالمی علمی مراکز کے دروازوں تک رسائی پیدا کریں، تاکہ ان کے مطالعے اور تحقیق میں وسعت ِ نظر، گہرائی اور تنوع پیدا ہو۔ اسی سلسلے میں انہوں نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی لائبریری کو ایک معیاری حوالہ جاتی لائبریری کے طور پر فروغ دینے اور اسے ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی علمی و تحقیقی ضروریات کیلئے مزید موثر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ’’ ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری‘‘ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مرکزی لائبریری ہے، جس کا قیام ۱۹۲۰ء میں عمل میں آیا تھا۔ یہ لائبریری معروف ادیب، ماہر تعلیم، سابق صدرِ جمہوریہ ہند اور جامعہ کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین سے موسوم ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:۷؍ سال بعد بھی آسام حکومت قومی شناختی کارڈ جاری کرنے میں ناکام

اس کی موجودہ نئی عمارت کی منصوبہ بندی ۲۰۰۳ء میں کی گئی اور ۲۰۰۹ء میں اسے مکمل کرکے زیر استعمال لایا گیا۔ ایک لاکھ مربع فٹ سے زائد رقبے پر مشتمل چار منزلہ یہ عمارت جدید سہولیات سے آراستہ ہے، جبکہ قدیم عمارت بھی لائبریری کے مطالعاتی نظام کا حصہ ہے۔ لائبریری تقریباً چار لاکھ مطبوعہ کتب، نادر کتب، مخطوطات، رسائل وجرائد اور دیگر علمی ذخائر پر مشتمل ہے، جبکہ اس کے ڈیجیٹل وسائل میں ہزاروں ای کتب، ای جرائد اور تحقیقی ڈیٹا بیس بھی شامل ہے۔ لائبریری کے نمایاں شعبوں اور ذخائر میں درسی کتب، حوالہ جاتی کتب، نادر کتب، مخطوطات، تحقیقی مقالہ جات ، پرانے اخبارات و رسائل، جامعہ کے مصنفین کا مجموعہ، ڈیجیٹل ریسورس سینٹر، ریڈنگ ہال اور مختلف علمی وسائل شامل ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتب خانہ کتنا قیمتی ہے۔ 

ڈاکٹر جمیل احمد، معاون لائبریرین نے طلبہ کو لائبریری سے متعارف کیا اور بتایا کہ یہاں چار لاکھ سے زائد کتب، ۷۵۸۱؍ حوالہ جاتی مواد، ۶؍ ہزار نادر کتب، ۲۲۴۳؍ عربی، فارسی اور اردو مخطوطات، ۵۲۷۶؍ مقالہ جات، ۷؍ ہزار ای جرائد، ۳۱۱۷؍ ای کتب اور ۳۲؍ برقی ڈیٹا بیس موجود ہیں۔ آن لائن کیٹلاگ اور ریموٹ رسائی کی سہولت اساتذہ،ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کو علمی وسائل تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ طلبہ کی وزٹ کے دوران شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ڈاکٹر خورشید آفاق، ڈاکٹر جاوید اختر اور ڈاکٹر محمد اسامہ کے علاوہ ایم اے اور بی اے کے طلبہ بھی موجود تھے۔ اس دورہ کی کامیابی میں بزم طلبہ کے مشیر ڈاکٹر خورشید آفاق، نائب صدر محمد گلفام، سیکریٹری محمد عمر، معاون سکریٹری احسن اعجاز، صبیحہ علی بھٹو اور دیگر نمائندگان آمنہ خاتون، محمد شاداب ہاشمی، ادیبہ ، ثمن کوثر، محمد تابش ابراہیم اور تسمیہ حیدر کا اہم کردار رہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK