چار ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے برہمی کااظہار کیا، کہا: اس کے بعدعدالت حتمی بحث کا آغاز کردے گی۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 10:59 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
چار ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے برہمی کااظہار کیا، کہا: اس کے بعدعدالت حتمی بحث کا آغاز کردے گی۔
آسام میں حتمی این آرسی کے نفاذ اور اس میں شامل شہریوں کو نیشنل شناختی کارڈ جاری کرنےمیں آسام اور مرکز کی بی جے پی حکومتیں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں۔گزشتہ سماعت میں عدالت کے ذریعہ دی گئی مہلت ختم ہونے کے باوجود نہ تو مرکز اور نہ ہی آسام حکومت نے اپنا جواب داخل کیا۔ پیر کو سپریم کورٹ میں ایک بار پھر جمعیت علماء ہند اور آمسو (آل آسام مائناریٹیز اسٹوڈنٹس یونین)کی عرضی پر جسٹس ایم نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی بنچ میں سماعت ہوئی جس میںحکومت نے مزید مہلت کی درخواست کی۔
یہ بھی پڑھئے:سرخ وارننگ لیبل صارفین کو الجھا سکتے ہیں: سپریم کورٹ
حکومت کے اس مطالبے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جمعیت علماء کے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود مرکزی اور ریاستی حکومت نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ۔دونوں حکومتیں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں، اب انہیں اپنا اعتراض اور جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے عدالت کی توجہ اس اہم حقیقت کی طرف بھی مبذول کرائی کہ حتمی این آرسی کے اشاعت کے ۷؍ سال گزر جانے کے باوجود اس میں شامل افراد کو اب تک نیشنل شناختی کارڈ جاری نہیں کیے گئے۔ اس پر عدالت نے مزیدچار ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس مدت میں جواب داخل نہیں کیا گیا تو عدالت اس معاملے میں حتمی بحث کا آغاز کردے گی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی داخلی سلامتی تاریخی پستی پر پہنچ گئی: اپوزیشن لیڈر آئزن کوٹ
آج کی عدالتی کاروائی پر صدر جمعیت علماء ہند مولانا ارشد مدنی نےبرہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور آسام حکومتوں کو بار بار نوٹس کے باوجود جواب داخل نہ کرنا اور حتمی این آرسی کے۷؍سال بعد بھی قانونی عمل کو مکمل نہ کرنا اس شبہ کو تقویت دیتا ہے کہ شہریت کے اس حساس مسئلے کو سیاسی فائدے کیلئے دانستہ طور پر زندہ رکھا جا رہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ’’ایک طرف ایس آئی آر کے نام پر ووٹر فہرستوں کی جانچ اور نظر ثانی کے عمل میں غیر معمولی عجلت دکھائی جارہی ہے، لیکن دوسری طرف آسام میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں مکمل ہونے والے این آر سی میں شامل تین کروڑ ۱۱؍لاکھ لوگوںکو ۷؍سال بعد بھی قومی شناختی کارڈ نہیں دیے جارہے ہیں۔