راہل گاندھی کا انتباہ، عوام کو اپنے حقوق کیلئے بیدار کرنے کی کوشش کی، ملک میں ’’لالچ کی وبا‘‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’ہماراسماج اس لئے مر رہا ہے کہ ہم نے اسے معمول مان لیا ہے‘‘
EPAPER
Updated: January 21, 2026, 11:25 PM IST | New Delhi
راہل گاندھی کا انتباہ، عوام کو اپنے حقوق کیلئے بیدار کرنے کی کوشش کی، ملک میں ’’لالچ کی وبا‘‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’ہماراسماج اس لئے مر رہا ہے کہ ہم نے اسے معمول مان لیا ہے‘‘
راہل گاندھی نے بدھ کو پھر عوام کو اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی تلقین کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ ’’جواب دہی کی مانگ کرو ، ورنہ یہ سڑن ہر دروازے تک پہنچے گی۔‘‘ انہوں نے یہ بات دہلی کے کراڑی اسمبلی حلقہ میں مبارکپور ڈباس علاقے کے شرما انکلیو کا ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہی ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ لوگوں کو اپنے گھروں تک پہنچنے کیلئے سڑک پر گھٹنے تک بھرے ہوئے گندے پانی سے گزر کر جانا پڑ رہاہے۔
یہ ویڈیو کانگریس نے بھی منگل کو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیاتھا۔ اس میں مقامی لوگ اپنی پریشانی ایک میڈیا اہلکار کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔ میڈیا اہلکار گندے پانی میں گھٹنے تک ربڑ کا جوتا پہنے داخل ہوتا ہے اور گھروں میں داخل ہو کر کیمرے سے دکھاتا ہے کہ گندہ پانی صرف گلیوں میں ہی نہیں، گھروں میں بھی پہنچ گیا ہے۔ ایک مقامی خاتون نے بتایاکہ نہانے اور رفع حاجت کرنے والا گندہ پانی گلیوں میں جمع رہتا ہے۔ کئی بار انتظامیہ سے اس کی شکایت کی گئی، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ ایک خاتون نے تو یہاں تک کہا کہ اب تک کتنے لوگوں کے سامنے ماتھا ٹیک چکے ہیں لیکن اس پریشانی پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ اس نے اپنا گھر ہی بدل دیا ہے، کیونکہ یہاں رہنا دشوار ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً۸؍ ماہ سے کالونی کی یہ حالت ہے، لیکن انتظامیہ بالکل بے پروائی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
ویڈیو کو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’ہر عام ہندوستانی شہری کیلئے زندگی اسی طرح عذاب بن گئی ہے۔ سسٹم اقتدار کے سامنے فروخت ہو چکا ہے۔ سب ایک دوسرے کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور مل کر عوام کو روندتے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی نے اسے بدعنوانی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ’’ملک میں لالچ کی وبا پھیل چکی ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے متنبہ کیا کہ لالچ کی اس وبا کا سب سے ڈراؤنا چہرہ شہروں میں نظر آتاہے۔ان کےمطابق ’’شہری سڑن اس کا سب سے بھیانک چہرہ ہے۔‘‘ملک کے موجودہ حالات کیلئے عوام کی خاموشی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا ہے کہ ’’ہمارا سماج اس لئے مر رہا ہے کیوں کہ ہم نے اس سڑن کو ’نیو نارمل‘ مان لیا ہے۔ ‘‘ عوام کی رویے کو ’’سُن، بے آواز اور لاپروا‘‘ قرار دیتے ہوئے راہل گاندھی نےآگاہ کیا ہے کہ’’جوابدہی کی مانگ کرو ورنہ یہ سڑن ہر دروازے تک پہنچے گی۔ منگل کو بھی راہل گاندھ نے دہلی سے ہی متصل نوئیڈا کے سیکٹر۱۵۰؍ میںیووراج نامی ایک انجینئر کی موت کے معاملے کو جوابدہی کے فقدان کا نتیجہ قراردیا تھا۔ انہوں نے تنقید کی کہا کہ ’’سڑکیں، پل، آگ، پانی، آلودگی، بدعنوانی اور بے حسی سب جان لیتی ہیں۔ ہندوستان کے شہروںکے زوال کی وجہ پیسوں کی کمی، ٹیکنالوجی یا حل کی کمی نہیں بلکہ جوابدہی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔‘‘راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’سڑکیں جان لے رہی ہیں، پل جان لے رہے ہیں، آگ جان لے رہی ہے، پانی جان لے رہا ہے، آلودگی جان لے رہی ہے، بدعنوانی جان لے رہی ہے اور بے حسی جان لے رہی ہے۔ ہندوستان کے شہری نظام کا زوال پیسے، ٹیکنالوجی یا حل کی کمی کے سبب نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ جوابدہی کا فقدان ہے۔ ‘‘ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کیا جس میں عینی شاہد مونندر سنگھ اور متوفی نوجوان کے والد کے بیانات شامل ہیں۔