لاک ڈائون کی افواہ سےکاروبارمتاثر،مزدور پریشان

Updated: January 10, 2022, 10:59 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

پریشانی کے باوجود متعدد مزدور یہیں رہ کر حالات کا مقابلہ کرنے پر آمادہ،مزدوروں کا کہنا ہے کہ گائوں میں بھی کاروبار نہیں ہے تو جاکر کیا فائدہ

The working class is worried about the possible death toll, but some workers are willing to face the situation..Picture:INN
ممکنہ لاک ڈائون سے مزدور طبقہ پر تشویش میں مبتلا ہے لیکن کچھ مزدور حالات کا مقابلہ کرنے پر آمادہ ہیں۔ تصویر: آئی این این

 کوروناکےمعاملات میں اضافہ اور لاک ڈائون نافذ کئے جانےکی افواہ سےایک بار پھر کاروبار اور رو زگار پر اثر پڑتادکھائی دے رہاہے۔گزشتہ ۱۵؍دنوںسے کوروناوائرس کے نئے ویئرینٹ اومیکرون کے کیسز میں اضافے سے عوا م میں خوف کا ماحول ہے۔ کورونا کی شکایت میں متواتر اضافہ ہونے سے دوبارہ لاک ڈائون نافذکئے جانےکی افواہ گشت کرنے سے بالخصوص پسماندہ طبقے کے کاریگر اور مزدوروںکی پریشانی بڑھ گئی ہے ۔ اس کی وجہ سے کاروبار او ر کام کاج کے کم ہونے سے ایک بار پھر مزدوروں میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا ہورہاہے۔ کام نہ ہونے سے متعدد مزدور پریشان ہیں لیکن ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اس بار آبائی وطن جانے کے بجائے یہیں رہ کر حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ ان کا کہناہےکہ ہمارےلئے دونو ں ہی جگہ ایک جیسی مصیبت ہے۔ ابھی ۲؍سال کورونا کی مارجھیل کر اُبھرےبھی نہیں تھے کہ کوروناکی تیسری لہر نے پھر مالی تنگی میں مبتلا کردیاہے ۔لہٰذا گائوں جاکر بھی کیاکریں گے۔ اس کے باوجود لاک ڈائون کی افواہ سے ۵؍ تا ۱۰؍ فیصد کاریگر اور مزدور کام نہ ہونے سے گائوں جانا چاہتے ہیں۔   گھڑپ دیو کےسماجی کارکن بشیر احمد نے بتایاکہ ’’کورونا کے معاملات بڑھنے اور لاک ڈائون کی افواہ سے بالخصو ص بیرون ِمہاراشٹر سے آنےوالے غریب مزدو رو ں اور کاریگروں میں ڈرپیدا ہو رہا ہے ۔اگر کام کاج بندہو گیاتو بنیاد ی ضرورتیں کیسے پوری ہوںگی؟ ان کے سامنے ایک بڑا سوال ہے۔ لیکن اس بار بیشتر مزدور گائوں نہیں جاناچاہتےہیں ۔وہ یہیں رہ کر حالات کا مقابلہ کرنےکیلئے آمادہ ہیں۔‘‘  مودی کمپائونڈ، رے روڈ میں رہنےوالے اُترپردیش ، بلرام پور کے کیشو رام ، ہاتھ گاڑی چلا کر اپنی روزی روٹی کاانتظام کرتے ہیں، نے کہا کہ ابھی ایک مہینے پہلے گائوں سے آیاہوں۔ گائوں سے آتے ہی کورونا کا معاملہ بڑھ گیاہے ۔سمجھ میں نہیں آرہاہےکہ کیسے گزاراہوگا۔ دوبارہ گائوں جانے کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔ وہاں بھی بے روزگار ی ہے۔ ہم جیسے مزدوروں کیلئے تو دونوں ہی جگہ مصیبت ہے۔ وہاں جاکر کیاکریں گے۔ اس سے بہتر ہےکہ ممبئی میں ہی رہ کر زندگی گزاری جائے کم ازکم خیرخواہ کھانے پینے کا تو انتظام کردیں گے۔ گائوںمیں تو ایسی سہولت بھی نہیں ہے۔‘‘  بائیکلہ کے ٹیکسی ڈرائیو ر محمد کلیم نے کہاکہ ’’ ڈھائی مہینے ہو ئے ہیں گائو ں سے آئے ہوئے ۔ کورونا کی وجہ سے گزشتہ ۲؍سال سے گائوںمیں تھا ،ابھی ۲؍سال کورونا کی مارجھیل کر اُبھرےبھی نہیں تھے کہ تیسری لہر نے پھر مالی تنگی میں مبتلا کردیاہے لہٰذا گائوں جاکر بھی کیاکریں گے۔اگر گائوںمیں روزی روٹی کا سہارا ہوتا تو یہاں کیوں آتے۔ اب جیسی بھی گزرے رہنا یہیں ہے۔ ‘‘اعظم گڑھ ،اُترپردیش کے پنا لال نے  بتایا کہ’’جب سے لاک ڈائون نافذکئے جانے کی افواہ گشت کررہی ہے ۔ عام انسان کی پریشانی بڑھ گئی ہے ۔ افواہ سے کاروبار متاثرہواہے ۔ میں فٹ پاتھ پر فروٹ فروخت کرتاہوں۔ لاک ڈائون کے افواہ سے لوگوں نے فروٹ خریدنا کم کردیاہے ۔ روزکا خرچ نکالنا مشکل ہوگیا ہے۔ مال کی خریداری کرنےمیں ڈر لگ رہاہے ۔ اگر لاک ڈائون نافذ ہوگیاتو مال خراب ہوجائے گا۔ اس طرح کے مسائل ہیں۔ گائوں جانےسے بہتر ہے کہ یہیں پر رہاجائے کیونکہ وہاں تو اور مالی پریشانی ہوتی ہے۔ اس لئے گائوںنہیں جائوں گا بلکہ یہیں کسی طرح وقت گزرجائے گا۔‘‘ریلوے ٹکٹ کا کام کرنےوالے مدنپورہ کے فاروق انصاری نےبتایاکہ ’’کورونا اور لاک ڈائون کے تعلق سے آنےوالی خبرو ں سے عوا م بالخصوص بیرونِ ریاست کے لوگو ں میں دہشت بڑھ رہی ہے۔ لاک ڈائون کے نافذہونےکی افواہ سے کاروبار پھر سے متاثرہورہے ہیں ۔ کام کم ہونے سے  ۵؍ تا ۱۰؍فیصد کاریگر اور مزدور دوبارہ وطن لوٹ رہےہیں۔‘‘ ایک اور ریلوے ٹکٹ ایجنٹ نے یہی بات کہی کہ ’’ لاک ڈائون کی افواہ سے سب سے بڑا نقصان کاروبار کاہورہاہے ۔ جس کی وجہ سے کام کم ہوگیاہے۔ کام نہیں ہونے سے مزدوروںمیں بے روزگاری بڑھ رہی ہےلیکن کم  ہی لوگ اس کی وجہ سے گائوں جاناچاہتےہیں ۔ ‘‘  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK