Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: فلسطین کی حمایت میں ہزاروں شہری سڑکوں پر اترے

Updated: May 18, 2026, 1:51 PM IST | London

دوبڑے مظاہروں میں اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی، مظاہرین کےمطابق ہم نفرت نہیں بلکہ محبت، امید اور یکجہتی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔

A scene from a protest in support of the Palestinians in London, the capital of Britain. Photo: INN
بر طانیہ کے دارالحکومت لند ن میں  فلسطینیوں کی حمایت میں کئے جانے والے احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

برطانوی دارالحکومت لندن میں اتوار کو دو بڑے مظاہرے ہوئے جس کے باعث غیر معمولی سیکوریٹی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلا عظیم الشان مظاہرہ فلسطین کے حق میں بنام ’نکبہ ڈے مارچ‘ کیا گیا جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ 
مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں اسرائیلی بمباری کی مذمت اور فلسطینیوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے مطالبے درج تھے۔ واضح رہے کہ یہ مظاہرہ ’نکبہ ڈے‘کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا جو ہر سال فلسطینیوں کی۱۹۴۸ء میں بڑے پیمانے پر بے دخلی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: متحدہ عرب امارات کا دمشق میں مسجد بنو امیہ کی بحالی کا اعلان

اس موقع پر نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم نے بھی اپنی اینٹی فاشسٹ ریلی کو فلسطین مارچ کے ساتھ ملا دیا۔ فلسطین حامی مظاہرین نے غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی ریاست کے قیام اور برطانوی حکومت سے اسرائیل کی حمایت ختم کرنے کے مطالبات کئے۔ مظاہرہ کرنے والی شیرون ڈی وِٹ نے کہا کہ اسرائیل کا رویہ ناقابلِ یقین حد تک غیرمنصفانہ ہے۔ فلسطینیوں کو اپنی ریاست بنانے کا حق ملنا چاہئے۔ ایک اور شریک علی حیدر نے کہا کہ برطانوی معاشرہ تقسیم کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ہم نفرت نہیں بلکہ محبت، امید اور یکجہتی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ میٹروپولیٹن پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے ۴؍ ہزار سے زائد اہلکار مامور کئے تھے جن میں لندن سے باہر سے بلائے گئے اضافی پولیس افسران بھی شامل تھے۔ پولیس نے بکتر بند گاڑیاں، گھڑ سوار دستے، ڈرونز، کتوں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا۔ یہ حالیہ برسوں میں لندن کی سب سے بڑی پبلک آرڈر کارروائی تھی۔ پولیس نے پہلی بار احتجاجی مظاہروں میں ’لائیو فیشل ریکگنیشن‘ ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جبکہ منتظمین کو قانونی طور پر اس بات کا پابند بنایا گیا کہ مدعو مقررین نفرت انگیز تقاریر نہ کریں۔ واضح ہو کہ ان مظاہروں سے ایک روز قبل برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا تھا کہ سڑکوں پر بدامنی یا دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK