کمال مولیٰ مسجد کیس کے فیصلے پر سی پی ایم اور ایم ایم کے کی تنقید، ملک کے سیکولر آئینی نظام کیلئے سنگین خطرہ قراردیا، عدلیہ سے آئینی اخلاقیات اور سیکولرزم کی بالادستی قائم رکھنے کی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 1:00 PM IST | New Delhi
کمال مولیٰ مسجد کیس کے فیصلے پر سی پی ایم اور ایم ایم کے کی تنقید، ملک کے سیکولر آئینی نظام کیلئے سنگین خطرہ قراردیا، عدلیہ سے آئینی اخلاقیات اور سیکولرزم کی بالادستی قائم رکھنے کی اپیل کی۔
سی پی ایم اور تمل ناڈو کی منی تھانیا مکل کچی (ایم ایم کے) نے’’بھوج شالا‘‘ کمال مولیٰ مسجد تنازع میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ عدالتیں اب’’ثبوت کے بجائے عقیدہ‘‘ کی بنیاد پر فیصلے سنا رہی ہیں۔ انہوں نے اسے ہندوستان کے سیکولر آئینی نظام کے مستقبل کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
سی پی ایم نے کمال مولیٰ مسجد کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو ’’افسوسناک‘‘قراردیا۔ اس نے کہا کہ یہ فیصلہ بابری مسجد-رام جنم بھومی کیس میں اپنائی گئی منطق سے مشابہت رکھتا ہے جس میں عقیدے کو قانونی اور تاریخی اصولوں پر فوقیت دی گئی تھی۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ عدلیہ تاریخی اور مذہبی دعوؤں کو پلیس آف ورشپ ایکٹ ۹۱ء میں فراہم کردہ ضمانت پر ترجیح دے رہی ہے۔ یہ اہم قانون تاریخی عبادتگاہوں پر دعوؤں کے سلسلے پر قدغن لگانے کیلئے بناتھا۔ اس کے تحت بابری مسجد کے علاوہ کسی بھی عبادتگاہ کی مذہبی حیثیت جو۱۴؍ اگست ۱۹۹۴۷ء کو تھی اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ سی پی ایم نے تشویش کا اظہار کیا کہ ہائی کورٹ کافیصلہ مذکورہ قانون کی روح اور متن کے منافی ہے جو فرقہ واریت کو ہوا دے سکتا ہے۔ پارٹی نے فرقہ پرستی کو ’’جمہوری زندگی اور قومی یکجہتی کیلئے سنگین خطرہ‘‘ قرار دیا اور عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ آئینی اخلاقیات اور سیکولرزم کو برقرار رکھے نیزعقیدہ پر مبنی دعوؤں کو عدالتی فیصلوں کی بنیاد نہ بننے دے۔
یہ بھی پڑھئے: ’کمال مولیٰ مسجد پر ہائی کورٹ کا فیصلہ تاریخی حقائق کے خلاف‘
’ایم ایم کے‘ کے صدر اور رکن اسمبلی ایم ایچ جواہر اللہ نے بھی متنبہ کیا کہ اگر تاریخی اور آثارِ قدیمہ کی تشریحات کو منتخب انداز میں استعمال کر کے پرانی عبادت گاہوں کی حیثیت تبدیل کی جانے لگی تو تنازعات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بابری مسجد کیس کو دیگر تنازعات کے حل کیلئے ایک نمونے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان پر بھی فکرمندی کا اظہار کیا اور یاد دہانی کرائی کہ سپریم کورٹ نے خود اس مقدمہ کو ’’منفرد‘‘ اور’’غیر معمولی‘‘قرار دیا تھا۔ انہوں نے کمال مولیٰ مسجد کیلئے متبادل جگہ قبول کرنے کے امکانات کو مسترد کرتے کہا کہ آئینی حقوق اور طویل عرصے سے جاری مذہبی روایات کو زمین کے تبادلوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں جماعتوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے فیصلے سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ آئینی سیکولرزم اور عبادت گاہوں کے قانون کی بالادستی کو بحال کرے۔