Inquilab Logo

میں مسلم اور یادو طبقے کیلئے کام نہیں کروں گا: جے ڈی یو متحدہ لیڈر دیوش چندر ٹھاکر

Updated: June 18, 2024, 2:14 PM IST | New Delhi

جے ڈی یو (متحدہ) کے نئے منتخب کردہ رکن پارلیمان دیویش ٹھاکر نے پیر کو کہا تھا کہ وہ مسلمان یا یادو طبقے کیلئے کوئی بھی کام نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔ ان کے ردعمل کو جے ڈی یو متحدہ اور راجشٹریہ جنتا دل کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

JDU United Member of Parliament Devesh Thakur. Photo: X
جےڈی یو متحدہ کے رکن پارلیمان دیوش ٹھاکر۔ تصویر: ایکس

دی انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا ہے کہ جے ڈی یو (متحدہ) کے نئےمنتخب کردہ رکن پارلیمان دیویش چندر ٹھاکرنے پیر کو کہا تھا کہ وہ مسلمان اور یادو طبقے کیلئے کام نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے انہیں لوک سبھا انتخابات میں ووٹ نہیں دیا تھا۔ ٹھاکرنے امسال لوک سبھا انتخابات میں راجشٹریہ جنتا دل کے امیدوار ارجن رائے سے ۵۱؍ ہزار ۳۵۵۶؍ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔
خیال رہے کہ امسال لوک سبھا انتخابات کے رزلٹ جاری ہونے کے بعد بی جےپی اکثریت حاصل کرنے کے بعد این ڈے اے نے جے ڈی یو کے ساتھ متحدہ طور پرحکومت قائم کی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا الیکشن میں جیتنے والے ۹۳؍ فیصد امیدوار کروڑ پتی ہیں: ای ڈی آر کی رپورٹ

پیر کو ایک تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’یادو اور مسلم طبقے سے جو بھی میرے پاس آتا ہے اس کا استقبال کیا جائےگا۔ انہیں چائے اور میٹھا بھی کھلایا جائے گالیکن میں ان کیلئے کوئی بھی کام نہیں کروں گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں کسی بھی طبقے کیلئے کوئی بھی کام کروں گا لیکن ان دو طبقوں کیلئے میں کوئی بھی ذاتی کام نہیں کروں گا۔‘‘ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ’’ان کے اس ردعمل کو پارٹی اور راجشٹریہ جنتا دل میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حج ۲۰۲۴ء: امسال کئی مشہور شخصیات کو حج کی سعادت نصیب ہوئی

جے ڈی یو (متحدہ) کے رکن پارلیمان گری دھاری یادو نے کاہ کہ وہ ٹھاکر کے اس ردعمل کی مذمت کرتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر معافی مانگیں۔راجشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان میسا بھارتی نے کہا کہ اس تفرقہ انگیز بیان کے ذریعے جے ڈی یو کے رکن پارلیمان کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: جرمنی: ۲۱؍ فیصد شہری قومی فٹبال ٹیم میں سفید فام کھلاڑیوں کو دیکھنا چاہتے ہیں

سیتامڑھی کے رکن پارلیمان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نےگزشتہ ۲۵؍ برسوں میں بغیر کسی امتیاز کیلئے لوگوں کیلئے کام کیا۔ تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے ایسا کس بناء پر کہا کہ مسلم اور یادو طبقے کیلئے ان کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ ۷؍ جون کو جنتا دل (متحدہ) کے ترجمان کے سی تیاگی نے کہاتھا کہ پارٹی مرکز میں موجودہ حکومت کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ مسلمانوں اور اقلیتی طبقوں کے خلاف کوئی مہم چلائیں۔ جب تک ہم بی جے پی کے ساتھ مرکز میں حکومت بنائے ہوئے ہیں کوئی بھی مسلم یا اقلیتی مخالف مہم نہیں چلائی جائیں گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK