Inquilab Logo Happiest Places to Work

امسال مظفر پور کی شاہی لیچی کی پید اوار متاثر

Updated: June 07, 2020, 1:42 PM IST | SM Baqar | Muzaffarpur

معیاری لیچی پیدا نہ ہونے پر کسان پریشان، لیچی ریسرچ سینٹر کے سائنسدانوں سے برہم ،کسی بھی طرح کی رہنمائی نہ کرنے کاالزام عائد کیا ، کہا: جب لیچی جل رہی تھی تب بھی یہ سائنسداں اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے،کبھی کسی بھی باغ کا دورہ نہیں کیا

Lychee Tree - Pic : Inquilab
مظفر پور: ایک باغ میں لیچی توڑی جارہی ہے۔ تصویر : انقلاب

ری دنیا میں مظفرپور کی شاہی لیچی اپنے ذائقہ اور خوشبو کی وجہ سے  مقبول ہے، لیکن گزشتہ کچھ سال سے لیچی کی کاشت اور شاہی لیچی کے معیار  میںگراوٹ کسانوں کو پریشان کر رہی ہے۔ کسان لیچی ریسرچ سینٹرپر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ان کاکہناہےکہ ریسرچ  سینٹر میں  مامور سائنسداں کو کسانوں سے کوئی مطلب نہیں ہے وہ کھیتوں اور باغوں میں جاتے ہی نہیں  اوردفتر میں بیٹھ کر تحقیق نہیں ہوسکتی ۔ کسان حکومت کی غیر سنجیدگی اور عدم دلچسپی سے بھی  ناراض ہیں۔ کسانوں نے اس کےلئےمرکزی حکومت کے ساتھ ریاستی حکومت کو بھی پوری طرح ذمہ دارٹھہرایا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے لیچی جل رہی ہے ۔ اس کی وجہ سےابتداء ہی میں  جل کر گر جاتی ہے ۔ سائنسدانوں کو چاہئے کہ لیچی کو موسمیاتی تبدیلی سے کیسے محفوظ رکھا جاسکے؟ اس  سلسلے میں رہنمائی کریں  ۔ 
  کسان ادیان رتن سے نوازے گئے شہر کے معروف کسان بھولاناتھ جھا نے لیچی کی بربادی اور کسانوں کی حالت کا ذمہ دار مرکزی اور ریاستی حکومت کو قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے پوری لیچی جل کر گرگئی۔ اس پر کوئی تحقیق نہیں کی جارہی ہے ۔ یہاں پر لیچی ریسرچ  سینٹر ہے لیکن اس پر کوئی تحقیق نہیں کی جارہی ہے کہ کیوں لیچی جل کر گر رہی ہے؟ سائنسدانوں کو اس پرتحقیق کرکے کسانوں کو مشورہ دینا چاہئے کہ لیچی کو جلنے سے بچا نے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟ یہ لوگ صرف صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کو لیچی بھیجنے کے لئے ہی بے قرار رہتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیچی کسانوں کیلئے  انشورنس ہے اور نہ ہی  دیگر سہولیات، اس لئے حکومت لیچی کسانوں کے نقصان کا تخمینہ لگا کر معاوضہ دے ۔
 اس  سلسلے  میں مینا پور کے کسان راجیش کمار نے کہا کہ اس بار موسم بھی اتار چڑھائو والا رہا جس کی وجہ سے لیچی کی فصل  بری طرح سے متاثر ہوئی ۔ ان کا کہنا ہے کہ لیچی کی فصل کیلئے موسم کا ساتھ دینا بہت ضروری ہوتا ہے ۔  حکومت کی طرف سے بھی کسانوں کی ٹریننگ کا اہتمام کرنا چاہئے کہ موسم اگر ساتھ نہ دے تو پھر کسان کس طرح سے لیچی کے فصل کی حفاظت کریں ، تاکہ لیچی اسی معیار کی پیدا ہو جس کے لئے مظفرپور کی لیچی پہچانی جاتی رہی ہے۔
 کسان لیڈر ویرندر رائے نے بھی حکومت  ہی کو  ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہ لیچی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ  ہی سے خراب ہورہی ہے اور اس کی کوالٹی بھی متاثر ہورہی ہے ۔ لیچی کسان کوحکومت کی طرف سے کوئی مدد ملتی ہے اور نہ ہی کاشت کاری کےتعلق سے سائنسدانوں کی جانب سے کسانوں کو مشورہ دیا جارہا ہے ۔
  ان کا کہنا ہے کہ   سائنسداں   باغوں اور کھیتوں میں جائیںاورکسانوں کو مفید مشوروں سے نوازیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ لیچی  کی حفاظت کے لئے محکمہ باغبانی  ، لیچی ریسرچ سنٹر اور  پودا تحفظ محکمہ کوئی آگے نہیں آرہا ہے۔ کسانوں کو ان کےحال پر چھوڑ دیا جارہا ہے ۔ لیچی کاشت کاروں کو لئے کوئی بازار ہے  اورنہ کوئی فنڈ۔ ایسے میں کیسے لیچی کی کاشت کو بڑھایا جائےگا؟اس کے ساتھ ہی موسمیاتی تبدیلی لیچی کی کاشت میں رخنہ ڈال رہی ہے۔
 اس  سلسلے میں قومی لیچی ریسرچ  سینٹر کے ڈائریکٹر وشال ناتھ کا کہنا ہے کہ اس سال گرمی تاخیر سے آئی جس کا اثر لیچی پر ہے ۔ لیچی کی کاشت کرنے والے کسان جلد بازی میں رہتے ہیں ۔ وقت سے پہلے ہی لیچی توڑ لیتے ہیں جس کی وجہ سے لیچی کا  سائز بڑا ہوپاتا ہے اور نہ ہی اس میں  خوشبو اور شیرینی رہتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے باغوں کی صحیح طریقے سے دیکھ بھال نہیں کی جاتی اور لیچی وقت سے پہلے ہی توڑ لی جاتی ہے ۔ انکا کہنا ہے کہ انہوں نے ۳۰ مئی سے لیچی توڑنے کے لئے کہا تھا لیکن کسانوں نے ۲۰ ؍مئی ہی سے  لیچی توڑناشروع کردیا تھا جس کی وجہ سے لیچی میں اب  وہ بات نہیں ہے جو  اسکی پہچان تھی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK