شملہ میں گزشتہ ۲۴؍ دنوںمیں ۶؍ لاکھ سے زائد گاڑیاں پہنچیں،میدانوں کی تپتی گرمی سے بچنے کیلئے ہزاروںلوگوں نے پہاڑی علاقوں کا رخ کیا ہے۔
یہ تصویر شملہ اور اطراف میں ٹریفک کی صورتحال بیان کرتی ہے- تصویر:آئی این این
:ملک بھر میں شدید گرمی اورلُو جیسے حالات نے لوگوں کو پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میدانوں میں بڑھتے درجۂ حرارت سے راحت پانے کے لئے بڑی تعداد میں سیاح ہماچل پردیش پہنچ رہے ہیں جس کے باعث شملہ سمیت کئی مشہور سیاحتی مقامات پر بھیڑ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیاہے۔ صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ ۷۲؍ گھنٹوں میں ۷۰؍ ہزار گاڑیاں شملہ پہنچی ہیں نتیجہ یہ ہے کہ وہاں کی سڑکیں بری طرح جام ہوگئی ہیں۔ گزشتہ۲۴؍دنوں میں شملہ پہنچنے والی گاڑیوں کی تعداد۶؍ لاکھ۳۱؍ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ عام طور پر مئی کے آخر یا جون میں شروع ہونے والا سیاحتی سیزن اس بار وقت سے پہلے ہی عروج پر پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ پنجاب، ہریانہ، دہلی، اتر پردیش،راجستھان اور مہاراشٹر جیسے علاقوں میں شدید گرمی کے سبب لوگ ٹھنڈے مقامات کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ اچانک بڑھی ہوئی سیاحوں کی تعداد نے شملہ میں پارکنگ، ٹریفک جام اور سڑکوں پر دباؤ جیسے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی اہم راستوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ کو ٹریفک کنٹرول کیلئے دردِ سر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے شہر کو مختلف زون میں تقسیم کر کے اضافی نفری تعینات کی ہے اور متبادل راستوں کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔
حکام کو خدشہ ہے کہ جون میں گرمی مزید بڑھنے کے ساتھ سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید چیلنجنگ بن سکتی ہے۔گزشتہ۲۴؍ دنوں کے دوران تقریباً۳؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار گاڑیاں چندی گڑھ-کالکا رُوٹ سے ریاستی دارالحکومت پہنچی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں گاڑیاں کنور، بلاس پور اور کلو کے راستے بھی شملہ پہنچی ہیں۔
سیاحوں کی اچانک بڑھتی تعداد کی وجہ سے شملہ میں پارکنگ کے دیرینہ مسئلے کے مزید سنگین ہوجانے کے سلسلے میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ابھیشیک نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’’گزشتہ ایک ہفتے میں ایک لاکھ۵۴؍ ہزار۴۵۰؍ گاڑیاں شملہ میں داخل ہوئیں، جن میں تقریباً۷۰؍ ہزار گاڑیاں صرف آخری۷۲؍ گھنٹوں میں پہنچی ہیں جس سے بلاشبہ ٹریفک نظام پر شدید دباؤ پڑا ہے۔‘‘انہوں نے بتایاکہ ’’ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر شہر بھر میں خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ شملہ کو پانچ زون میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زون میں ٹریفک سنبھالنے کی ذمہ داری ایک گزیٹیڈ افسر کو دی گئی ہے۔‘‘ اے ایس پی نے مزید بتایا کہ ’’ٹریفک کنٹرول میں مدد کیلئے رضاکاروں کی خدمات بھی لی جا رہی ہیں اور شہر کے اندر بھیڑ کم کرنے کیلئےمتبادل راستوں کےاستعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اسی کے تحت اپر شملہ جانے والی گاڑیوں کو شوگی-مہلی روٹ کی طرف موڑا جا رہا ہے۔‘‘