• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیس بک کی رازداری کے معاملے میں میٹا کو بڑا جھٹکا، ۴؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ خلاف ورزیاں

Updated: October 22, 2026, 7:02 PM IST | Washington

امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت کا تاریخی فیصلہ، صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق گمراہ کن بیانات پر کارروائی؛ میٹا نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کردیا۔

Mark Zuckerberg.Photo:INN
مارک زکربرگ۔ تصویر:آئی این این

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا، جو فیس بک، انسٹاگرام اور وہاٹس ایپ کی مالک ہے، کو صارفین کی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق ایک بڑے قانونی مقدمے میں شدید دھچکا لگا ہے۔ امریکی ریاست نیو میکسیکو کے ایک جج نے کمپنی کو ۲۵؍ ارب امریکی ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ستمبر  ۲۰۲۶ء میں جیوری نے قرار دیا کہ میٹا نے صارفین کو ان کی ذاتی معلومات تک رسائی، ڈیٹا کے تحفظ اور پلیٹ فارم پر نقصان دہ مواد سے متعلق معاملات میں گمراہ کیا۔ جیوری نے ریاست کے صارفین کے تحفظ کے قانون کی۴؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ سے زیادہ خلاف ورزیاں پائے جانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ جج فرانسس میتھیو نے ۲۱؍ اکتوبر کو جرمانے کی حتمی رقم مقرر کی، جو امریکی تاریخ میں کسی کمپنی پر عائد ہونے والی سب سے بڑی مالی سزاؤں میں سے ایک ہے۔ میٹا نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔  
عدالتی کارروائی کے دوران جیوری نے میٹا اور اس کی قیادت کے رازداری اور مواد کی نگرانی سے متعلق ۲۹؍ بیانات کا جائزہ لیا، جن میں سے ۲۶؍ کو گمراہ کن قرار دیا گیا۔ ریاست نیو میکسیکو کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے صارفین کو یہ تاثر دیا کہ ان کی ذاتی معلومات پر ان کا مکمل اختیار ہے جبکہ تیسرے فریق کی جانب سے ان معلومات تک رسائی اور پلیٹ فارم پر نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کی روک تھام کے بارے میں بھی صارفین کو گمراہ کیا گیا۔ ریاستی قانون کے تحت ہر خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ۵؍ ہزار ڈالر جرمانہ عائد کیا جاسکتا تھا۔ اسی بنیاد پر ممکنہ جرمانے کی رقم۵ء۲۱۹؍  ارب ڈالر سے بھی زیادہ بنتی تھی، تاہم جج نے اسے کم کرکے۲۵؍ ارب ڈالر مقرر کیا۔ ریاستی حکام نے اس سے قبل ۳۵؍ سے ۴۰؍ارب ڈالر جرمانے کی درخواست کی تھی، جبکہ میٹا نے عدالت سے رقم کو تقریباً ۴۵ء۳؍ ارب ڈالر تک محدود رکھنے کی استدعا کی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے:بیلن ڈی اور جیتنے والے بہترین سیزن کی رائے شماری میں کرسٹیانو رونالڈو سب سے آگے

 یہ مقدمہ ۲۰۱۸ء میں سامنے آنے والے مشہور کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے جڑا ہوا ہے۔ اس برطانوی سیاسی مشاورتی ادارے پر الزام تھا کہ اس نے ایک تھرڈ پارٹی ایپ کے ذریعے فیس بک کے تقریباً ۸؍ کروڑ ۷۰؍ لاکھ صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کیں اور انہیں سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کیا۔ اس معاملے نے دنیا بھر میں ڈجیٹل رازداری اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات کھڑے کردیے تھے۔
نیو میکسیکو نے  ۲۰۲۱ء میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ ریاست کا الزام تھا کہ کمپنی نے صارفین کو ان کی معلومات کے استعمال اور تحفظ کے بارے میں درست صورت حال سے آگاہ نہیں کیا۔ مقدمے میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ پلیٹ فارم پر نقصان دہ مواد کی روک تھام کے حوالے سے کمپنی کے بیانات اور طریقۂ کار میں تضاد تھا۔ تاہم میٹا نے ان الزامات سے اختلاف کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس نے صارفین کا ذاتی ڈیٹا فروخت نہیں کیا اور ریاست اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ 
میٹا کے چیف لیگل آفیسر سی جے مہونی نے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ وہ اپیل میں کامیابی حاصل کرے گی۔ کمپنی کے مطابق، ریاستی حکام کی جانب سے مقدمے میں اختیار کیا گیا طریقۂ کار نیو میکسیکو میں کاروبار کرنا انتہائی مشکل بنا سکتا ہے۔ میٹا نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ مقدمہ آن لائن اظہارِ رائے اور مواد کی نگرانی سے متعلق نئے اصول نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن کا سوشل میڈیا سے عارضی وقفہ، مداحوں سے جذباتی پیغام میں معذرت

دوسری جانب، نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز نے فیصلے کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے واضح پیغام قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صارفین کے حقوق اور ذاتی معلومات کے تحفظ کو نظرانداز کرنے والی کمپنیوں کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ ریاستی حکام کے مطابق، صارفین کے تحفظ کے قانون کے تحت وصول ہونے والی جرمانے کی رقم ریاست کے تعلیمی نظام کے لیے مختص کی جائے گی۔ میٹا کی اپیل کے باعث اس رقم کی حتمی وصولی میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ 
 یہ نیو میکسیکو میں میٹا کے خلاف چھ ماہ کے دوران دوسرا بڑا قانونی دھچکا ہے۔ رواں سال مارچ میں ایک اور جیوری نے کمپنی کو فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر نوجوانوں کی حفاظت سے متعلق صارفین کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور۳۷؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔ بعد کی کارروائی میں نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق ریاستی فنڈ میں مزید ۵۶؍ کروڑ ۷۰؍ لاکھ ڈالر جمع کرانے اور کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر ۲۵؍ ارب ڈالر کا تازہ فیصلہ اس بات کی اہم مثال ہے کہ دنیا بھر میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صارفین کی رازداری، ذاتی معلومات کے استعمال اور آن لائن مواد کی نگرانی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی قانونی جانچ کا سامنا ہے۔ تاہم میٹا کی مجوزہ اپیل کے بعد اس جرمانے کی رقم اور مقدمے کے حتمی نتائج میں تبدیلی کا امکان برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK