Updated: October 22, 2026, 8:02 PM IST
| Mumbai
مرکزی حکومت کی نئی ایتھنول خرید پالیسی نے مہاراشٹر کی چینی ملوں اور ایتھنول تیار کرنے والی صنعتوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کے تازہ فیصلے سے ریاست میں ایتھنول کے شعبے میں کی گئی تقریباً ۴۰؍ ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔
گنے کا کھیت۔ تصویر:آئی این این
مرکزی حکومت کی نئی ایتھنول خرید پالیسی نے مہاراشٹر کی چینی ملوں اور ایتھنول تیار کرنے والی صنعتوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کے تازہ فیصلے سے ریاست میں ایتھنول کے شعبے میں کی گئی تقریباً ۴۰؍ ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق، حکومت نے پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش بڑھانے اور خام تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے مقصد سے گزشتہ برسوں میں چینی ملوں اور ڈسٹلریوں کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ترغیب دی تھی، لیکن اب خریداری کے ضوابط میں تبدیلی سے ان منصوبوں کی معاشی افادیت پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ صنعت کاروں کو خدشہ ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف چینی ملوں بلکہ کسانوں، بینکوں اور ایتھنول کی تیاری کے لیے قائم کیے گئے صنعتی منصوبوں پر بھی منفی اثر پڑسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش کو باہر کرکے افغانستان سہ فریقی سیریز کے فائنل میں
مرکزی حکومت کی جانب سے ۱۶؍ اکتوبر کو جاری کردہ نئی ہدایات کے مطابق، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے آئندہ ایتھنول سپلائی سال، یعنی یکم نومبر سے ۳۱؍اکتوبر تک کے عرصے کے لیے خریداری کی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت گنے کے رس، چینی کے شیرے اور بی ہیوی مولاسس سے براہِ راست تیار کیے جانے والے ایتھنول کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔حکومت نے ایتھنول کی مجموعی خریداری کے لیے ۱۱۰۰؍ کروڑ لیٹر کا ہدف مقرر کیا ہے، لیکن اس مرتبہ اس میں گنے سے تیار ہونے والے ایتھنول کو شامل نہیں کیا گیا۔ نئی پالیسی کے تحت صرف سی ہیوی مولاسس سے تیار کردہ ایتھنول خریدنے کی اجازت ہوگی۔
شوگر انڈسٹری سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں پر صرف سی ہیوی مولاسس سے ایتھنول تیار کرنا معاشی طور پر فائدہ مند نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اگر گنے کے دیگر اجزا سے تیار کردہ ایتھنول کی خریداری محدود کردی گئی تو بہت سی ڈسٹلریوں کے لیے اپنی پیداواری صلاحیت کا مکمل استعمال کرنا مشکل ہوجائے گا۔ صنعتی ذرائع کے مطابق، پیٹرول میں ۲۰؍ فیصد ایتھنول ملانے کے قومی ہدف کو حاصل کرنے اور ایندھن کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے گزشتہ برسوں میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ چینی ملوں اور ڈسٹلریوں نے حکومت کی ترغیبات کے تحت اپنی پیداواری صلاحیت بڑھائی اور نئی صنعتیں قائم کیں۔
یہ بھی پڑھئے:’ ’رامائن‘‘ او ٹی ٹی پر بھی مفت نہیں دیکھی جا سکے گی، فلم کیلئے الگ سے رقم ادا کرنا ہوگی
مہاراشٹر کی ایک بڑی کوآپریٹیو چینی مل کے صدر کے مطابق، ملک میں ایتھنول تیار کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت تقریباً ۲؍ہزار کروڑ لیٹر بتائی گئی ہے، جس میں اناج پر مبنی کارخانوں کی صلاحیت ۸۴۸؍ کروڑ لیٹر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ایتھنول کے شعبے میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹر میں ۱۶؍ آزاد اور اناج پر مبنی ڈسٹلریاں قائم ہیں، جن کی مجموعی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً ۵۶؍ کروڑ لیٹر ہے۔ روزانہ ۶۰؍ ہزار لیٹر ایتھنول تیار کرنے والی اناج پر مبنی ڈسٹلری قائم کرنے پر ۱۲۰؍ سے ۱۳۵؍ کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ روزانہ ۳۰؍ ہزار لیٹر کی صلاحیت والے چھوٹے کارخانے کے قیام کے لیے ۵۰؍ سے۶۰؍ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے بعد خریداری کی پالیسی میں اچانک تبدیلی سے کارخانوں کی آمدنی اور قرضوں کی ادائیگی متاثر ہوسکتی ہے۔
مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹیو شوگر فیکٹریز فیڈریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، ریاست کی چینی ملوں کی ایتھنول تیار کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت تقریباً ۳۷۵۰؍ملین لیٹر ہے۔ ۲۶۔۲۰۲۵ءکے سیزن میں ان ملوں نے تقریباً۱۲۵۰؍ ملین لیٹر ایتھنول فراہم کیا، جو ان کی مجموعی پیداواری صلاحیت کا تقریباً ۳۰؍ فیصد ہے۔ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی صدارت میں قائم اعلیٰ سطحی وزارتی کمیٹی کے تخمینے کے مطابق۲۷۔۲۰۲۶ءکے چینی سیزن میں مہاراشٹر میں تقریباً ۹ء۹؍ کروڑ ٹن گنے کی پِرائی کے لیے دستیابی متوقع ہے۔ اس دوران ۱۵؍ لاکھ ٹن چینی کو ایتھنول کی پیداوار کی جانب منتقل کرنے کے بعد ریاست میں چینی کی پیداوار تقریباً ۹۶؍ لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ صنعتی نمائندوں کے مطابق، گنے سے تیار ہونے والے ایتھنول کی خریداری محدود ہونے سے چینی ملوں کے لیے چینی اور ایتھنول کی پیداوار کے درمیان توازن قائم رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے اثرات کا جائزہ لیتے وقت گنے کی دستیابی، چینی کی طلب اور ایتھنول کے کارخانوں میں کی گئی سرمایہ کاری کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش کو باہر کرکے افغانستان سہ فریقی سیریز کے فائنل میں
نیشنل فیڈریشن آف کوآپریٹیو شوگر فیکٹریز کے صدر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر تعاون ہرش وردھن پاٹل نے نئی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق، مرکزی حکومت کی ترغیب پر ملک بھر کی چینی ملوں نے اپنی ڈسٹلریوں کو وسعت دی اور ایتھنول کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی، جس سے اس شعبے میں تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی۔ پاٹل کا کہنا ہے کہ ایتھنول کی آمیزش کے پروگرام نے ملک کو تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کے زرمبادلہ کی بچت میں مدد دی، جبکہ کسانوں کو تقریباً۷۵ء۱؍ لاکھ کروڑ روپے کا فائدہ پہنچا۔ ان کے مطابق، نئی پالیسی سے ایتھنول پر مبنی معیشت متاثر ہوسکتی ہے اور بینکوں کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے تک کے غیر فعال قرضوں کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار صنعتی نمائندوں کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈسٹلریوں کی آمدنی میں کمی آتی ہے تو ان کے لیے قرضوں کی اصل رقم اور سود کی ادائیگی مشکل ہوسکتی ہے۔ اس صورت حال کے اثرات چینی ملوں، کسانوں اور قرض فراہم کرنے والے مالیاتی اداروں تک پہنچ سکتے ہیں۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کے صدر بی بی تھومبرے نے کہا کہ مرکزی وزیر نتن گڈکری گزشتہ ۲۵؍ برسوں سے ایتھنول پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایتھنول پروگرام نے ایندھن کی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور زرمبادلہ بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تھومبرے کا کہنا ہے کہ خشک سالی یا چینی کی قلت جیسے حالات عارضی ہوسکتے ہیں، اس لیے حکومت کو ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جو ایتھنول کے شعبے میں پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرے۔ ان کے مطابق، صنعت کو صرف پابندیوں کا سامنا کرانے کے بجائے تعاون اور ترغیبات پر مبنی نظام کے ذریعے طویل مدتی استحکام دینا زیادہ مناسب ہوگا۔