Updated: November 08, 2026, 9:04 PM IST
| New Delhi
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے اطراف سمندری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر ملک کی سب سے بڑی تیل صاف کرنے والی سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی )نے اپنی توانائی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے اہم منصوبہ تیار کیا ہے۔
انڈین آئل۔ تصویر:آئی این این
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے اطراف سمندری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر ملک کی سب سے بڑی تیل صاف کرنے والی سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی )نے اپنی توانائی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے اہم منصوبہ تیار کیا ہے۔ کمپنی اب خام تیل اور مائع پیٹرولیم گیس کی نقل و حمل کے لیے اپنے جہاز خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات، مال برداری کے اخراجات اور جنگی حالات سے متعلق بیمہ کی مہنگی لاگت سے نمٹنا اور بیرونی جہازوں پر انحصار کم کرنا ہے۔
کمپنی کے ڈائریکٹر فنانس انوج جین نے مالی سال ۲۰۲۶-۲۷ ءکی دوسری سہ ماہی کے نتائج سے متعلق گفتگو کے دوران بتایا کہ انڈین آئل کے بورڈ نے چند جہاز خریدنے کی منظوری دے دی ہے اور اس سلسلے میں کئی ماہ قبل ٹینڈر بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ملک کی تیل کمپنیوں کے لیے صرف خام تیل کی خریداری ہی نہیں بلکہ اس کی محفوظ اور کم خرچ نقل و حمل کے انتظامات پر بھی توجہ دینا ضروری ہوگیا ہے۔ کمپنی اپنے جہاز خریدنے کے ساتھ ساتھ حکومت کی ’میک اِن انڈیا‘ مہم کے تحت ملک میں ہی جہاز تیار کروانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سری دیوی نے ان کی ناک کی سرجری کے بعد اداکاری کی صلاحیت تسلیم کی: جھانوی کپور
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ مغربی ایشیا میں جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کے باعث اس راستے سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہورہی ہے۔ اس صورتحال نے جہازوں کے کرایوں اور جنگی خطرات سے متعلق بیمہ کی لاگت میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔ ایسے حالات میں انڈین آئل کے لیے اپنے جہازوں کی ملکیت حاصل کرنا ایک اہم حکمت عملی ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ اس سے کمپنی کو تیل اور ایل پی جی کی ترسیل کے انتظامات پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا اور عالمی جہاز رانی کے بازار میں اچانک ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کم کیے جاسکیں گے۔
انوج جین کے مطابق انڈین آئل اس وقت تین خام تیل بردار اور نو ایل پی جی بردار جہاز وقت مقررہ کے معاہدوں کے تحت استعمال کررہی ہے۔ ان معاہدوں کی بدولت موجودہ بحران کے دوران کمپنی کو نقل و حمل کے اخراجات قابو میں رکھنے میں مدد ملی ہے۔ کمپنی کے وقت مقررہ کے معاہدوں کے تحت خام تیل کی نقل و حمل پر فی بیرل تقریباً ۲ ؍سے ڈھائی ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جبکہ فوری طور پر بازار سے جہاز حاصل کرنے کی صورت میں یہ لاگت ۸؍ سے ۱۰ ؍ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح ایل پی جی کی نقل و حمل کا جو کرایہ عام حالات میں تقریباً ۴۰ ؍ڈالر فی ٹن ہوتا ہے، وہ موجودہ حالات میں بڑھ کر ۱۶۰ ؍سے ۱۸۰ ؍ڈالر فی ٹن تک جاپہنچا ہے۔ اس فرق سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سمندری راستوں میں رکاوٹیں توانائی کمپنیوں کے اخراجات کو کس حد تک متاثر کررہی ہیں۔
انڈین آئل صرف جہاز رانی کے شعبے میں ہی تبدیلی نہیں کررہی بلکہ خام تیل کی خریداری کے ذرائع کو بھی متنوع بنارہی ہے تاکہ کسی ایک خطے یا سپلائی روٹ پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ رہے۔ کمپنی کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں اس کی خام تیل کی مجموعی ضرورت کا تقریباً ۵۵؍فیصد روس سے حاصل کیا گیا، جبکہ مشرق وسطیٰ کا حصہ تقریباً ۲۴؍فیصد رہا۔ افریقی ممالک سے تقریباً ۱۰؍فیصد، برازیل سے ۷ فیصد، امریکہ سے ۲؍سے ۵ ؍فیصد اور وینزویلا سے ۳ ؍سے ۴؍فیصد خام تیل حاصل کیا گیا۔ کمپنی نے فوری خریداری یعنی اسپاٹ مارکیٹ کے ذریعے خام تیل حاصل کرنے کا تناسب بھی بڑھایا ہے، جو رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں تقریباً ۸۷ ؍فیصد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ تناسب لگ بھگ ۵۰ ؍فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھئے:پیرس ماسٹرز کے فائنل میں الکاراز اور شیلٹن کے درمیان خطابی جنگ
سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے کمپنی نے اپنے خام تیل کے ذخیرے میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انڈین آئل کے پاس اب تقریباً ۳۹ ؍دن کی ضرورت کے برابر خام تیل کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ عام حالات میں یہ ذخیرہ ۳۳ ؍سے ۳۵ ؍دن کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے پاس تقریباً ۲۰؍ دن کا ایل پی جی اسٹاک اور ۲۳ ؍سے ۲۵ ؍دن کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی حالات میں غیر یقینی کے باوجود اس کی ریفائنریاں مناسب صلاحیت کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ انڈین آئل نے ستمبر ۲۰۲۶ ءکو ختم ہونے والی سہ ماہی میں ۲۱ ؍ہزار ۶۳۰ ؍کروڑ روپے کا خالص منافع درج کیا، جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں کمپنی کو ۲؍ہزار ۶۶۱؍ کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں کمپنی کا منافع ۷ ؍ہزار ۶۱۰ ؍کروڑ روپے تھا۔ کمپنی کے مطابق ذخیرے کی قیمتوں میں اضافے سے حاصل ہونے والے فائدے اور مختلف کاروباری شعبوں کی بہتر کارکردگی نے منافع میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سہ ماہی میں خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی کے اثرات کو الگ رکھنے کے بعد کمپنی کا مجموعی ریفائننگ مارجن ۱۸ء۵۲ ؍ڈالر فی بیرل رہا۔