مالیگاؤں بم دھماکہ ۲۰۰۸ء:ملزم سمیر کلکرنی کوشنوائی میں ہونے والی تاخیر پر اعتراض

Updated: January 25, 2022, 8:52 AM IST | malegaon

:مالیگاؤں بم دھماکہ ۲۰۰۸ء کی شنوائی میں بھگوا کلیدی ملزمین کے مسلسل خلل پیدا کرنےکے خلاف مذکورہ بالا کیس کے ہی ایک ملزم سمیر کلکرنی نے ایک پریس کانفرنس لے کر نہ صرف مرکزی حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا

Samir Kulkarni addressing a press conference.
سمیر کلکرنی پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے۔

رپورٹر):مالیگاؤں بم دھماکہ ۲۰۰۸ء کی شنوائی میں بھگوا کلیدی ملزمین کے مسلسل خلل پیدا کرنےکے خلاف مذکورہ بالا کیس کے ہی ایک ملزم سمیر کلکرنی نے ایک پریس کانفرنس لے کر نہ صرف مرکزی حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا بلکہ سابقہ اور موجودہ ایجنسیوں کے کیس کی پیروی کے طریقۂ کار پر بھی اعتراض کیا ہے ۔مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کے ملزم سمیر کلکرنی، جو بے قصور ملزم ہونے کا دعویٰ بھی کررہے ہیں ،کا کہنا ہے کہ دھماکہ میں ہلاک  اور متاثرین بھی ۱۳؍ سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ملزمین کو دی جانے والی چھوٹ اور ملزمین کے خلاف فیصلہ میں کی جانے والی تاخیر سے مایوس ہورہے ہیں ۔
 سمیر کلکرنی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ۱۳؍ سال سے اس کیس کے کلیدی ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت نے مقدمہ کو طول دینے کے لئے ہر قسم کے ہتکھنڈے اپنائے ہیں ۔ ضمانت ملنے کے بعد میں پونے سے روزانہ ہونے والی سماعت میں باقاعدگی سے شامل ہوتا ہوں جبکہ مذکورہ بالا کلیدی ملزمین ضمانت پر رہائی کے بعد کسی نہ کسی قسم کا بہانہ بنا کر شنوائی سے غیر حاضر رہتے ہیں اور کبھی ان کے وکیل جھوٹے جواز پیش کرکے مقدمہ کو طول دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔
  بھگوا ملزم کلکرنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذکورہ بالا کیس  کے طویل ہونے کی ایک وجہ مرکزی حکومت ہے تو دوسری طرف اس کیس کی تفتیش کرنے والی ایجنسیاں مہاراشٹر اے ٹی ایس اور این آئی اے دونوں ہی ذمہ دار ہے ۔ این آئی اے جس ٹھوس طریقہ سے مقدمہ کی پیروی کرنا چاہئے وہ نہیں کررہی ہے اور نہ ہی گواہوں کے اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہونے کی ضمن میں کوئی ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے ۔ دوسری جانب اے ٹی ایس نے بھی مذکورہ بالا مقدمہ کی پیروی میں شامل ہونے کا ڈھول پیٹا تھا لیکن وہ بھی ایک مرتبہ بھی مقدمہ کی شنوائی میں حاضر نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے انصاف کے منتظر متاثرین کے ساتھ اس کیس کے بے قصور ملزمین بھی کیس کی طوالت سے مایوس ہورہے ہیں ۔میری مرکزی اور ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ عدلیہ سے بھی درخواست ہے کہ وہ ملزمین کو دی جانے والی چھوٹ میں سختی برتیں اور مقدمہ کی سماعت کو جلد سے جلد مکمل کرنے کا ٹھوس فیصلہ کریں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK