اکائونٹ ڈپارٹمنٹ نے بجٹ میونسپل کمشنر کے حوالے کیا، جلد اسے منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا جائے گا، اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 11:15 AM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
اکائونٹ ڈپارٹمنٹ نے بجٹ میونسپل کمشنر کے حوالے کیا، جلد اسے منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا جائے گا، اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے۔
آئندہ مالیاتی سال کیلئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کا سالانہ بجٹ تیار ہوگیا ہے۔ بجٹ کا مسودہ شہری انتظامیہ کے اکاؤنٹ ڈپارٹمنٹ نے میونسپل کمشنر رویندر جادھو کے سپرد کردیا ہے۔ امکان ہے کہ روایتی طور پر ہونے والی ترمیمات اور اضافے کے بعد بجٹ کو میونسپل ایوان میں منظوری ملے گی۔
میونسپل کمشنر کے دعوے
میونسپل کمشنر جادھو نے بجٹ کا مسودہ قبول کرنے بعد کہا کہ ’’ فی الحال سالانہ بجٹ ایک ہزار ایک سَو۱۱؍ کروڑ روپوں پر مشتمل ہے جو کہ شہری انتظامیہ کا اب تک کا سب سے بڑا بجٹ ہوگا۔ اس میں ۵۹۹؍ کروڑروپے آمدنی اور ۵۱۲؍ کروڑ روپے اخراجات کے ابواب میں رکھے گئے ہیں۔ ‘‘ جادھو نے مزید کہا کہ ’’ شہری انتظامیہ نے محکمہ جاتی سطح پر بجٹ میں نئے ٹیکسوں کا اندراج کا نہیں کیا ہے۔ شہریوں پر نئے محصول عائد نہیں کئے ہیں۔ جمع کئے جانے والے محصول کی شرحوں اور تناسب کو بھی بڑھایا نہیں گیا۔ ‘‘
بجٹ براہِ راست میئر کے سپرد ہوگا
شیوسینا (شندے)کی نومنتخب کارپوریٹرلتا بائی کے خاوند اور مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے سابق نائب میئر سکھارام بھیکا گھوڑکے نے کہا کہ میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمن کا انتخاب نہیں ہوا ہے۔ ضابطے کے مطابق بجٹ کی پہلی منظوری اسٹینڈنگ کمیٹی میں ہوتی ہے۔ کمیٹی کا چیئرمن ندارد ہے تو بجٹ براہِ راست میئرنسرین خالد شیخ کے سپرد ہوگا اور وہ اپنے خصوصی اختیارات سے میونسپل ایوان میں اسے پیش کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ لاڈلی بہن اسکیم دیگر محکموں کیساتھ نا انصافی کرتی ہے ‘‘
۲۵۵/کروڑروپے جی ایس ٹی گرانٹ
بجٹ ایکسپرٹس اور شہری بلدیہ کی سیاست کے رموز و اوقاف پر گہری نگاہ رکھنے والے ماہرین کے مطابق مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی ذاتی آمدنی سے ۲۵۵/ کروڑروپے جی ایس ٹی گرانٹ ریاستی حکومت سے حاصل ہوگی۔ اس میں کم وبیش ۵۰؍ کروڑروپے پانی پٹّی (واٹر ٹیکس ) اور ۴۰؍ کروڑروپے پراپرٹی ٹیکس کے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں دیگر محکمہ جاتی سطح کے ذرائع آمدنی سے کُل ۱۱۵؍ کروڑ ملیں گے۔ اس طرح ۲۵۵/ کروڑروپے جی ایس ٹی گرانٹ شہری انتظامیہ کے خزانے میں آنے والی ہے۔
نومنتخب ارکانِ بلدیہ اور بجٹ
اپنے اپنے حلقوں میں کام کاج کیلئے درکار سرکاری فنڈ اور گرانٹ کی حصولیابی کیلئے نومنتخب ارکانِ بلدیہ کے درمیان چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے کارپوریٹروں کی حالت قابل دید ہے۔ حزبِ اختلاف کے ارکان بجٹ لینے کیلئے حکمتِ عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ سینئراراکین اِس مرتبہ بھی بازی مارنے کیلئے پیشگی ادائیگی اور لبوں پر گہری مسکراہٹ سجائے رکھنے کے نسخے پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ خاتون کارپوریٹروں کے محرم برسراقتدار، اپوزیشن اور نوکر شاہوں کے تکون میں گردش کررہے ہیں۔ بجٹ جلد ایوان میں پیش ہوگا۔