Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران:امریکی۔اسرائیلی حملوں میں خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق،۴۰؍ روزہ سوگ کا اعلان

Updated: March 01, 2026, 9:56 AM IST | Tehran

ایران کے سپریم لیڈ ر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت سے متعلق ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم اور امریکی و اسرائیلی قیادت کے دعووں نے مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایران میں سوگ اور ممکنہ جوابی کارروائی کے اعلانات کے بعد خطے میں ایک نئی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

Ayatollah Ali Khamenei. Photo: INN
آیت اللہ علی خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکومت نے ملک بھر میں ۴۰؍ روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سیکوریٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملہ کی مذمت، مشرقی وسطیٰ کیلئے پروازیں منسوخ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسی روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ۸۶؍ سالہ خامنہ ای سنیچر کی صبح سویرے شروع ہونے والے مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔ ٹرمپ نے لکھا:
’’وہ ہماری انٹیلیجنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے نتیجے میں وہ، یا ان کے ساتھ مارے جانے والے دیگر رہنما، کچھ بھی نہ کر سکے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’یہ ایرانی عوام کیلئے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔ امید ہے کہ آئی آر جی سی(اسلامی انقلابی گارڈ کور) اور پولیس پُرامن طریقے سے ایرانی محبِ وطنوں کے ساتھ ضم ہو جائیں گے۔‘‘
اگرچہ ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صورت میں خامنہ ای کی ممکنہ ہلاکت کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی، تاہم، ان کے قتل نے جاری تنازع میں ایک نئی غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے بارے میں پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ لڑائی مزید بڑھ اور پھیل سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ پر آواز اٹھانے پر امریکی اداکارہ سوزن سارینڈن کو کام سے محرومی کا سامنا

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے بھی اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے ’’بڑھتے ہوئے آثار‘‘ موجود ہیں۔ مزید برآں، خبر رساں ادارے’رائٹرز‘نے ایک نامعلوم سینئر اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ خامنہ ای کی لاش مل گئی ہے۔ خامنہ ای۱۹۸۹ءسے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ انہوں نے شاہ کے بعد کے ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خامنہ ای کی جگہ سنبھالی، جنہوں نے۱۹۷۹ء کے ایرانی انقلاب کی قیادت کی تھی۔ سپریم لیڈر کو حکومت کی تمام شاخوں، فوج اور عدلیہ پر حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے، جبکہ وہ ملک کے روحانی پیشوا بھی ہوتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم سٹمسن سنٹرکی ممتاز فیلو باربرا سلاون نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگر خامنہ ای کی موت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ایران کے پاس ’’ایک منصوبہ‘‘ موجود ہے۔ انہوں نے کہا:’’ممکنہ طور پر ایک کونسل قائم کی جائے گی جو ملک کو چلائے گی۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے، شاید وہ پہلے ہی ملک کا نظم و نسق سنبھال رہی ہو۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK