مالیگاؤں اُردو کتاب میلہ کامیابی کی جانب گامزن،فرمائش پر میلے کے متعینہ وقت میں ۲؍ گھنٹے کااضافہ

Updated: December 21, 2021, 8:14 AM IST | Mumbai

سرکاری انتظامیہ کے فیصلے سے محبان اُردو میں خوشی کی لہر،اب شام ۷؍ بجے کے بجائے ۹؍ بجے تک میلہ جاری رکھ سکیں گے، کتاب میلے میں طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری

Book lovers turn the pages at the book stall at Malegaon Urdu Book Fair
مالیگاؤں اردو کتاب میلے میں بک اسٹال پر ورق گردانی کرتے ہوئے کتب شائقین

مالیگاؤں:محبان اُردو کے اصرار اور کتاب میلے میں شائقین کتب کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر مقامی سرکاری انتظامیہ نے میلے کیلئے ۲؍گھنٹے زائد وقت متعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ۱۸؍ دسمبر کو رسمی تقریب کے ذریعے کتابی میلے کا افتتاح عمل میں آیا۔ اتوار  ۱۹؍دسمبر کوتعطیل کے باعث کتاب میلے میں خریداروں کا جم غفیر اُمڈ آیا ۔اسی طرح ۲۰؍دسمبر کی صبح سے رات ۹؍بجے تک میلے میں ہزاروں افراد نہ صر ف شریک ہوئے بلکہ اپنے ذوق کے مطابق کتابیں خریدنے میں بھی مصروف رہے۔ کتاب میلے میں طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ اہم شخصیات کی آمد کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ متعینہ وقت میں اضافے کی وجہ سے شائقین کتب میں خوشی کی لہر پائی جارہی ہے۔
  پیر کو کتاب میلے کا آغازہوتے ہی تھوڑی دیر میں شائقین کتب سے گراؤنڈ بھر گیا۔ ان میں شہراور بیرون شہر کی اہم شخصیات بھی تھیں۔  مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی (سیکریٹری ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)، حضرت سید محمد امین القادری (نگراں سنّی دعوت اسلامی ،مالیگائوں)،ڈاکٹر اشفاق انجم (سابق صدر شعبہ اُردو ایم ایس جی کالج ،مالیگائوں)،شبیر آصف (شاعر ومعلم)، سلیم جہانگیر (شاعر وصحافی )اورممبئی سے شکیل رشید اورفرحان حنیف وارثی (ممبئی اُردو نیوز)نے اُردو کتاب میلے کا دورہ کیا۔ انہوں نے منتظمین کی حوصلہ افزائی بھی کی نیز کتابوں کی خریداری کیلئے بھی پہل کی اور  ماحو ل کو خوشگوار بنانے میں مددگار ہوئے ۔
 اجمل سعید (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر برائے این سی پی یو ایل ،نئی دہلی)نے کہا کہ ’’مالیگائوں کے سب ڈیویژنل مجسٹریٹ وجئے ننداشرما سے کتاب میلے کا وقت بڑھانے کی گزارش کی گئی تھی۔ اس سے قبل سرکاری انتظامیہ نے شام ۷؍ بجے تک میلہ جاری رکھنے کے احکامات دیئے تھے تاہم شرکاء کی تعداد کے پیش نظر زائد وقت تک میلہ جاری رکھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ۔‘‘
 رحمانی سلیم احمد (رکن ا نجمن محبان کتب فروش )نے انقلاب سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’’وجئے نندا شرماسے ملاقات کرکے صورتحال کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی۔انہوں نے احتیاطی تدابیر کے ساتھ کتاب میلہ جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔کتب فروشوں اور خریداروں کے علاوہ شرکائے میلہ کیلئے ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا ہے جس کی پابندی میلہ کے مقامی منتظمین کی جانب سے بھی کی جارہی ہے۔‘‘
 وجئے نندا شرما (ایس ڈی ایم ،مالیگائوں )نے کہا کہ ’’روز اول سے سرکاری انتظامیہ کتابی میلے کیلئے ہر ممکن تعاون پیش کر رہی ہے۔کتاب میلے کے مقامی منتظمین نے وقت میں اضافے کی جانب توجہ مبذول کروائی تھی۔اس مطالبے کی تسلیم کرتے ہوئے پہلے سے طے شدہ وقت میں ۲؍گھنٹے کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اب شام ۷؍ کے بجائے رات ۹؍بجے تک کتاب میلہ جاری رہے گا۔‘‘امتیاز خلیل (رابطہ کار )نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’۲؍گھنٹے زائد وقت متعین ہوئے ہیںلیکن احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھتے ہوئے رات میں ۸؍بجے کتاب میلہ بند کردیا جائے گا ۔اگلے روز معمول کے مطابق کتب فروشی کا سلسلہ پھر شروع  ہوگا۔تمام ہی پبلشرز اور کتب فروشوں نے اس سلسلے میں رضامندی دی ہے۔سرکاری انتظامیہ کی جانب سے بھرپور تعاون مل رہاہے تو کچھ اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے منتظمین نے ازخود مفاد عامہ کیلئے فیصلے کئے ہیں۔‘‘
 کتاب میلے کی افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے اے ٹی ٹی ہائی اسکول کےایک طالب علم خان صدیق سلیم نے بتایا کہ وہ بہت دنوں سے مشہور مورخ عرفان حبیب کی کتاب ’ مغل ہندوستان کا طریق زراعت‘ تلاش کررہے تھے، جو انہیں یہاں قومی کونسل کے بک اسٹال سے نہایت رعایتی شرح میں مل گئی۔ کتاب کی اصل قیمت ۱۱۹؍ روپے ہے لیکن انہیں محض ۳۰؍ روپے میں ملی۔ کتاب میلے میں شامل بیشتر شائقین کتب کے تاثرات کچھ اسی طرح کے ہیں۔
 واضح رہے کہ کتاب میلہ تاریخی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے گرچہ اس مرتبہ صرف کتاب فروختگی ونمائش کی اجازت دی گئی ہے اور تمام کلچرل پروگرام منسوخ کردیئے گئے ہیں، اس کے بعد بھی اُردو کے چاہنے والوں کا جم غفیر کتاب میلے کا رُخ کررہاہے اور کتابیں خرید کر اردو دوستی کا ثبوت پیش کررہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK