کانگریس صدر نے کہا کہ ۲۰۲۳ء کے بعدکے تمام الیکشن غیر قانونی ہیں، وزیر اعظم کو بھی استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
EPAPER
Updated: October 04, 2026, 10:59 AM IST | New Delhi
کانگریس صدر نے کہا کہ ۲۰۲۳ء کے بعدکے تمام الیکشن غیر قانونی ہیں، وزیر اعظم کو بھی استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کر کے ایک نئی ہلچل شروع کر دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ۲۰۲۳ء کے بعد ہونے والےتمام انتخابات غیر قانونی ہیں اور اس بنیاد پر وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی غیرقانونی ہیں۔ کانگریس صدر کھرگے نے واضح لفظوں میں کہا کہ تمام ایوانوں کو تحلیل کر کے نئے سرے سے انتخابات کرائے جائیں اور ان انتخابات میں ای وی ایم کی جگہ بیلٹ پیپر کا استعمال ہو۔ یہ مطالبہ کھرگے نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے، جس کا ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگومیں کھڑگے نے کہا کہ ’’آج پورا ملک غیر قانونی انتخابات کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ مودی ایک غیر قانونی وزیر اعظم ہیں، شاہ ایک غیر قانونی وزیر داخلہ ہیں اور جہاں بھی وزرائے اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں وہ سب غیرقانونی ہیں۔ ان سب کو تحلیل کر دیا جانا چاہئے، نئے انتخابات ہونے چاہئیں اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔ ‘‘ بات چیت کے دوران کھرگے نے ای وی ایم کے غلط استعمال کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ’ان کے اپنے لوگ‘ بھی بات کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پریس کانفرنس کھرگے نے کرناٹک میں کی جہاں انہوں نے ملک کی کئی ریاستوں میں جاری ایس آئی آر پر سنگین سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل میں کئی گڑبڑیاں ہیں اور حکومت کی جانب سے مسلسل غلطیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر جمہوری عمل پر پڑ رہا ہے اور جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔ صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کیخلاف پورے ملک میں اپنی تحریک جاری رکھے گا۔ اس گفتگو میں کانگریس صدر نے ایس آئی آر سے متعلق انڈیا اتحاد کی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ میں ۲۰؍ سیاسی پارٹیوں کے اراکین اور ان کے قانونی سیل کے نمائندے شامل ہوئے تھے۔ کھرگے کے مطابق میٹنگ میں تمام پارٹیاں اس بات پر متفق تھیں کہ ایس آئی آر ملک کے لیے نقصاندہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا سب سے زیادہ اثر غریبوں، کم پڑھے لکھے لوگوں، مزدوروں اور خاص طور پر اقلیتوں پر پڑ رہا ہے۔ کھرگے نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ایک بوتھ کی ووٹر لسٹ سے ۵۰۰؍ ووٹ ہٹا دیے جائیں تو اسے غیر جانبدارانہ انتخاب کیسے کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف ووٹرس کے نام ہٹانے کی کوشش ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف اب نام شامل کرنے کی کوششیں بھی چل رہی ہیں۔ کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق ۲۰۲۳ء کے قانون پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے خاص طور پر قانون کی دفعہ ۱۶؍ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کو عہدے پر رہتے ہوئے کئے گئے فیصلوں کے لیے قانونی کارروائی سے چھوٹ دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۱۹۷۲ء کے بعد ابتک کا سنگین قحط،۸۰؍ فیصد فصلیں تباہ
کھرگے نے کہا کہ پہلے الیکشن کمشنرز کی تقرری والی کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا، اپوزیشن کے لیڈر اور وزیر اعظم شامل ہوتے تھے، لیکن ۲۰۲۳ء کے قانون میں چیف جسٹس کو کمیٹی سے ہٹا کر ان کی جگہ ایک مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا۔ کھرگے کا کہنا ہے کہ پرانے قانون کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی ایماندار چیف جسٹس حکومت سے متفق نہیں ہوا تو حکومت کے لیے اپنی پسند کا چیف الیکشن کمشنر مقرر کرنا مشکل ہو سکتا تھا۔ نئے قانون پر حملہ کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر کوئی غلطی کرتے ہیں تو ان کے خلاف جانچ کا راستہ بھی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے اسے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا۔ کھرگے نے ’ انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ۲؍ اراکین کے خطوط کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ان دونوں اراکین نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھے، لیکن ان کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ کھڑگے نے کہا کہ وہ اراکین باہر کھل کر نہیں بول سکتے، لیکن انہوں نے اپنی بات خطوط کے ذریعے رکھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگر اسی طرح کی صورت حال برقرار رہی تو انتخابات من مانے طریقے سے کرائے جا سکتے ہیں۔ کھرگے نے موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک کو طے کرنا ہوگا کہ جمہوریت کو بچانا ہے یا اسے ختم ہونے دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی معاملے پر آل پارٹی میٹنگ بلائی گئی تھی اور تمام پارٹیوں سے تحریک شروع کرنے کو کہا گیا ہے۔ ان کے مطابق دہلی میں تحریک شروع ہو چکی ہے۰ ۶؍ اکتوبر کو اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ الیکشن کمیشن تک مارچ کریں گے۔ کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے مسلسل تحریک چلاتی رہے گی۔
’’ماضی میں کسی بھی لیڈر نے ایسی حرکت نہیں کی جیسی بی جے پی لیڈران کررہے ہیں‘‘
کانگریس صدرکھرگے نے کہاکہ ملک کے سابق لیڈروں نے کبھی ایسی حرکت نہیں کی۔ انہوں نے جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، لال بہادر شاستری، نرسمہا راؤ اور راجیو گاندھی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کسی لیڈر نے اس طرح کا کوئی کام انجام نہیں دیا جس سے جمہوریت پر ضرب پڑتی ہو یا ووٹرس کا حق مارا جاتا ہو لیکن بی جے پی کی موجودہ حکومت اور اس کے لیڈر اپنی مطلق العنانی میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ اب انہیں کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ انہیں صرف کرسی دکھائی دے رہی ہے اور اس پر کسی بھی طرح قبضہ برقرار رکھنے کا پاگل پن نظر آرہا ہے۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ جس طرح ایس آئی آر کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے نوجوانوں، غریبوں، دلتوں اور محروم طبقات کو نقصان ہو رہا ہے۔