لاتور، بیڑ، پربھنی اور عثمان آباد سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہیں،یہاںجون سے ابتک۴۲۴؍ایم ایم بارش ہوئی۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 3:44 PM IST | Agency | Mumbai
لاتور، بیڑ، پربھنی اور عثمان آباد سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہیں،یہاںجون سے ابتک۴۲۴؍ایم ایم بارش ہوئی۔
ریاست میں مراٹھواڑہ کے ۳؍ اضلاع لاتور، بیڑ اور عثمان آباد (دھارا شیو) کے آس پاس کے علاقوں میں بارش نہیں ہونے کی وجہ سے۸۰؍ فیصد فصلیں خشک ہو چکی ہیں۔ فصل کی اس تباہی کی وجہ سے کسانوں کو سخت بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاتور، بیڑ، پربھنی اور عثمان آباد سب سے زیادہ قحط متاثرہ اضلاع ہیں، جہاں جون سے ستمبر کے دوران معمول کی ۶۷۹ء۵؍ ملی میٹر بارش کے مقابلے میں صرف ۴۲۴ء۵؍ ملی میٹر بارش ہوئی۔ قحط کا یہ بحران صرف کھیتوں تک محدود نہیں ہے۔ اسکا اثر مویشیوں کے چارے، دیہی مزدوری، گھریلو آمدنی اور اگلی فصل کیلئے سرمایہ پر بھی نظر آنے لگا ہے۔
لاتور ضلع کے دیوکارہ گاؤں سے ایک دردناک تصویر سامنے آئی ہے۔ جہاں پہلی بار۲؍ ایکڑ زمین کے کاشتکار تکارام گٹے نے خودکشی کی۔ سویا بین، کپاس، ارہر کی فصلیں مرجھا گئی ہیں۔ ہنگن گاؤں کے کسان تکارام امباجی۴۰؍ ایکڑ کے مالک ہیں۔ انہوں نے فی ایکڑ ۳۰؍ ہزار ۳۵؍ ہزار روپے خرچ کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے اخراجات بھی نہیں نکل سکیں گے۔ ہگدل گاؤں کے بالاجی منڈے بتاتے ہیں کہ گنا عام طور پر ۲۰؍ سے۲۵؍ فٹ تک ہوتا ہے، لیکن اس بار یہ۱۰؍ سے۱۲؍ فٹ پر ہی رک گیا ہے اور سوکھ رہا ہے۔ بالاجی منڈے کہتے ہیں کہ۲۰۲۵ء میں بہت زیادہ بارش نے پریشان کیا اور اس بار کم بارش نے بحران پیدا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جلگاؤں: اجنٹا چوپھلی کے بھنگار بازارمیں میونسپل انتظامیہ کی انہدامی کارروائی
ساورگاؤں روکڑے کے رام بیلاڈے سویابین، ارہر اور جوار اگاتے ہیں۔۸؍ ایکڑ کی ان کی فصل میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں، اب کھیت صاف کرنے کے لیے بھی فی ایکڑ۵؍ ہزار روپے خرچ کرنا پڑے گا۔ فصل میں کچھ رہ جائے گا تو وہ صرف مویشیوں کے چارے کے لیے کام آئے گا۔ لاتور اور بیڑ ضلع کے تالابوں میں پانی بہت کم ہے۔ ماجرا ندی لاتور کی لائف لائن ہے۔ لاتور شہر سے تقریباً۷۰؍ کلو میٹر دورعثمان آباد اور بیڑ کی سرحد کے قریب واقع ماجرا ڈیم کی آبی سطح بہت زیادہ نیچے پہنچ چکی ہے۔ لاتور ضلع کے۱۵۸؍ آبی ذخائر میں اوسط ذخیرہ۱۲ء۵؍ فیصد رہ گیا ہے۔یہاں کا سائی ڈیم بھی اسی آبی تاریخ کا حصہ ہے۔ ’امر اجالا‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں مقامی صحافی ششی کانت پاٹل کے حوالہ سے بتایا کہ کبھی سائی ڈیم کے پانی سے لاتور کی پیاس بجھتی تھی۔ لیکن اب یہ استعمال میں نہیں ہے۔ ششی کانت کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے رساؤ اور پانی کے انتظام پر مناسب توجہ دی جاتی تو بحران کی شدت کو کم کیا جا سکتا تھا۔ سابق ضلع پریشد رکن تریامبک نارائن گٹے موجودہ حالات کو۱۹۷۲ء کے بعد کی سب سے سنگین خشک سالی کی صورتحال میں سے ایک مانتے ہیں۔ بحران کے آثار مانسون کے ابتدائی مہینوں میں ہی نظر آنے لگے تھے۔ اب بحران کے۳؍ مرحلے سامنے ہیں۔ پہلے بوائی کا بحران، پھر فصل بچانے کا بحران اور اب کسانوں کے سامنے فصل ہٹانے اور اگلی فصل کے لیے سرمایہ جمع کرنے کا بحران درپیش ہے۔
مہاراشٹر حکومت نے قحط زدہ علاقوں میں راحت رسانی کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ ستمبر کے آخر میں ریاست کے۲۶۵؍ تعلقوں کے بعد۴۳؍ تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ وہیں فصلوں کے نقصان کے پنچ نامے، پانی اور چارے کے انتظامات جیسے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ خشک سالی سے نجات پانے کے لیے سرکاری خزانے پر۵۰؍ ہزار کروڑ کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ لیکن فصلوں کے نقصان کے معاوضے اور پانی اور چارے کے انتظام جیسے اقدامات کے علاوہ کسانوں کو اگلی فصل تک اپنے کنبے کو چلانے کے لیے انکم سپورٹ کی اشد ضرورت ہے۔
~گنا عام طور پر ۲۰؍ سے۲۵؍ فٹ تک ہوتا ہے، لیکن اس بار بارش کم ہونے کی وجہ سے یہ۱۰؍ سے۱۲؍ فٹ پر ہی رک گیا ہے اور سوکھ رہا ہے۔
- بالاجی منڈے،ہگدل گاؤں کےکسان