Inquilab Logo Happiest Places to Work

جس الیکشن میں تقریباً۳۰؍لاکھ افراد ووٹ دینے سے محروم ہوں،اسے پُرامن کیسے کہا جاسکتاہے

Updated: May 05, 2026, 2:03 PM IST | Debraj Mitra.Photo:INN | Kolkata

بہت سےلوگ بنگال اسمبلی الیکشن۲۶ء کو تشدد سے پاک قرار دیتے ہوئے اس کیلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو مبارکباد دیتے ہیں اور اسے ’پلیئر آف دی میچ‘ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم کچھ لوگ اس بیانیے پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔

Trinamool Congress Supporters Were Left In Shock After Seeing The Results.Photo:INN
نتائج دیکھ کر ترنمول کانگریس کے حامیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔تصویر:آئی این این
 بہت سےلوگ بنگال اسمبلی الیکشن۲۶ء کو تشدد سے پاک قرار دیتے ہوئے اس کیلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو مبارکباد دیتے ہیں اور اسے ’پلیئر آف دی میچ‘ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم کچھ لوگ اس بیانیے پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔ایس آئی آر میں نام کٹ جانے  کی وجہ سے ووٹ دینے محروم رہ جانے والے افراد کا سوال ہے کہ جس الیکشن میں تقریباً ۳۰؍لاکھ افراد کو حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا ہو،  اس الیکشن کو پُرامن کہنا کیسے ممکن  ہے؟  ان کا کہنا  ہے کہ اگرچہ خون خرابہ نہیں ہوا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تشددنہیں  ہوا۔سیاسی مبصرین اور سماجیات کے ماہرین نے بھی اس بات کو تسلیم کیا  ہے کہ اگرچہ کسی کی جان نہیں گئی، لیکن تشدد صرف جسمانی نقصان تک محدود نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق حقوق کی خلاف ورزی اور ہراسانی بھی فلسفیانہ اور قانونی دونوں معنوں میں تشدد کی شکلیں ہیں۔سیاسیات کے ماہر معید الاسلام  کے مطابق ’’سپریم کورٹ نے ووٹ کے حق کو بنیادی حق تسلیم نہیں کیا، لیکن میری تشریح مختلف ہے۔ ووٹ دینا اظہارِ رائے کی ایک شکل ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی بنیادی حق ہے، اور اس حق کی خلاف ورزی بھی  میری نظر میں تشدد کی ایک شکل ہے۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ ۳۰؍ لاکھ سے زائد افراد کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا، جبکہ اپیلیٹ ٹریبونل نے جتنے معاملوں کی  سماعت کی ان میں سے ۹۹؍فیصد افراد کے ووٹنگ حقوق بحال کر دیئے۔ انہوں نے کہاکہ’’اس کےبعد الیکشن کمیشن کے پاس کیا جواز باقی رہ جاتا ہے ہے؟  اسی وجہ سے  الیکشن کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھتے ہیں۔‘‘
کلکتہ کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز میں درس و تدریس کی خدمت انجام دینے والے اسلام کا کہنا ہے کہ ۲۸؍فروری کو الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے بعد ’’ابتدائی حتمی‘‘ فہرست جاری کی تھی۔ اس میں۵؍ لاکھ سے زائد نام حذف  کئے  گئے جبکہ۶۰؍لاکھ نام جانچ کیلئے رکھے گئے۔ جانچ کیلئے رکھے گئے ان ۶۰؍ لاکھ ناموں میں سے۲۷؍ لاکھ ناموں کو’’ منطقی تضاد‘‘کی   بنیاد پر  ووٹنگ لسٹ سے خارج کر دیاگیا۔ ان ۲۷؍ لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ ۶۲۱؍  ووٹروں کے معاملات ٹریبونلس میں سنے گئے، جو مجموعی تعداد کا محض۰ء۰۶؍ فیصد ہے اور ان میں سے ایک ہزار ۶۰۷؍ افراد کے نام   ٹربیونل نے بحال کر دیئے یعنی  ٹربیونل میں اپیل کے بعد ’’منطقی تضاد‘‘ کے نام پر کاٹے گئے ۹۹؍ فیصد نام صحیح قرار پائےا ور بحال کئے گئے۔ 
ایس آئی آر کو ووٹر لسٹ میں اصلاح کے طور پر پیش کیاگیا تھا  مگر یہ  بڑی تعداد میں  نام کاٹنے کا سبب بنا۔  اس  نے  لوگوں کو غیر معمولی مشکلات میں مبتلا کیا اور  سماج پر اثرات مرتب کئےجس سے خصوصاً حاشئے پر رہنے والے شہریوں  میں شہریت  کے کھوجانے کا احساس پیدا ہوا۔ مٹیابرج کے۲۵؍ سالہ درزی ایس کے مہتاب حسین کا ووٹ بھی کٹ گیا ہے،  وہ  خوفزدہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ ’’مجھے نہیں معلوم کاٹے گئے  ووٹروں کا کیا ہوگا۔ میں آسام کے حراستی کیمپوں کے بارے میں سنتا رہتا ہوں۔ اگر ہماری اپیلیں مسترد ہو گئیں تو کیا ہمیں بھی ایسے کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا؟‘‘شہری علاقوں میں حق رائے دہی سے محروم ہونےوالے  شہری اور خوشحال طبقے کے افراد بھی الگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ۵۸؍  سالہ تاجر اور سماجی کارکن عمران ذکی، جو اپنے  ہندوستانی   پاسپورٹ پر۵۰؍ سے زائد ممالک کا سفر کر چکے ہیں، اپنے معمر والد کے ساتھ ووٹنگ کے حق سے محروم ہو گئے ہیں۔ عمران ذکی کےمطابق ’’میری بیٹی نے بدھ کو پہلی بار ووٹ ڈالا۔  یہ  دن ہمارے لئے یادگار ہونا چاہیے تھا مگرمیرے والد اور میرے لئے یہ غم کا دن بن گیا۔ یہ صرف ذاتی مایوسی کا سبب نہیں ہے بلکہ جمہوری حقوق اور شفافیت کے حوالے سے ایک سنگین مسئلہ ہے۔‘‘
 
 
آئی آئی ایم کلکتہ کی ٹیچرنندیتا رائے بھی ان لوگوں میں شامل  ہیں  جن کے نام ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے کٹ گئے۔وہ بھی اسے انتخابی تشدد قرار دیتے ہیں اور کہتی ہیں کہ’’تشدد کی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔ ریاست نے لاکھوں شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا ہے۔ یہ بھی تشدد کی ایک شکل ہے۔‘‘پریزیڈنسی یونیورسٹی میں سماجیات کے اسوسی ایٹ پروفیسر اُپل چکرورتی نے کہا کہ صرف پولنگ کے دن پر توجہ دینا مسخ شدہ تصویر پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’پولنگ کے دن کا انتظام بہت مؤثر تھا لیکن انتخابی عمل کو مکمل اور مجموعی  طور پر دیکھنا چاہیے، صرف ووٹ ڈالنے  کے عمل تک اسے محدود نہیں رہنا چاہیے۔‘‘ 
 
 
چکرورتی کے مطابق  انتخابی عمل میں کئی  خلاف ورزیاں شامل تھیں۔ ووٹنگ کے حق سے محرومی، شہریت کھودینے کا خطرہ ، وابستگی اور تحفظ کا احساس اس میں شامل ہے۔   انہوں نے کہا ایس آئی اور اس کے بعد الیکشن نے ’’لاکھوں افراد کے سکون کو غارت کیا ہے۔‘‘
(بشکریہ: دی ٹیلی گراف)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK