ووٹوں کی تقسیم نے بی جے پی کو واضح طورپر فائدہ پہنچایا، ٹی ایم سی نے ای وی ایم کے ہیک کئے جانے کا اندیشہ ظاہر کیا۔
ممتا بنرجی ۔ تصویر:پی ٹی آئی
مغربی بنگال میں مسلم حلقوں کے نتائج حیران کن ہیں۔یہ نتائج اس قدر پریشان کن اور ناقابل یقین ہیں کہ ترنمول کانگریس نے مسلم حلقوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ہیک کئے جانے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔
ترنمول کانگریس روایتی طور پر مسلم ووٹوں پر بھروسہ کرتی رہی ہے، لیکن وہ کم ازکم ایسی ۹؍سیٹوں پر شکست سے دوچار ہورئی ہے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد ۵۰؍فیصد سے زیادہ ہے،ان میں سے ۵؍حلقوں میں بی جے پی جیتی ہے۔ گرچہ یہ تجزیہ کیا جارہاہے کہ مسلم ووٹوں میں تقسیم کی وجہ سے بی جے پی کو کامیابی ملی ،لیکن اس کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کی ضرورت ہے۔یہ بھی کہا جارہاہے کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم کیلئے بڑی تعداد میں پارٹیاں میدان میں تھیں۔ان میں کانگریس، انڈین سیکولر فرنٹ کے ساتھ اتحاد میں سی پی آئی ، ہمایوں کبیر کی جنتا اُنین پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین شامل ہیں۔ کئی حلقوں میں، ان پارٹیوں نے مسلم امیدوار کھڑے کئے اور اُن ووٹرس کو نشانہ بنایا جو روایتی طورپرترنمول کانگریس کو ووٹ کرتے تھے۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ ترکوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکے مگر ان کی موجودگی سخت مقابلے والے حلقوں میں ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے کافی رہی ۔الزام ہے کہ مسلم ووٹ کئی پارٹیوں میں تقسیم ہوگئے جس سے ترنمو ل کانگریس کے امیدواروں کی جیت کا مارجن بہت کم ہوگیااور کئی حلقوں میں بی جے پی نے اپنے مستحکم ووٹ کے ذریعہ ان امیدواروں کو شکست سے دوچار کردیا۔
مغربی بنگال میں اپوزیشن کا ووٹ تقسیم کا شکار رہاجبکہ بی جے پی نے غیر مسلم ووٹروں کو مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ ایک طرف تقسیم اور دوسری طرف استحکام کے اس امتزاج نے بی جے پی کے فائدے کو بڑھا دیا ہے۔ یہاں تک کہ جن حلقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، پارٹی اس انتخابی حساب سے فائدہ اٹھایا۔مسلمانوں کے ووٹوں کی یہ تقسیم خاص طور پر مالدہ، مرشد آباد اور شمالی دیناج پور میں واضح طورپر نظر آئی۔ جنوبی بنگال اور کوچ بہار میں، مسلمان اب بھی ٹی ایم سی کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتےہیںلیکن جس طرح سے ترنمول کانگریس کیلئے ووٹ پہلے مستحکم تھے ،وہ اب نہیں رہے۔مغربی بنگال میں دہائیوں تک مسلم اکثریتی نشستیں کانگریس اور بائیں بازو کے پاس تھیں۔ ۲۰۲۱ءکے اسمبلی انتخابات میں، ترنمول کانگریس نے ان مسلم اکثریتی نشستوں پر غلبہ حاصل کیا جس نے۱۳۵؍میں سے ۱۱۹؍پر کامیابی حاصل کی، جبکہ بی جے پی صرف ۲۱؍ کامیاب رہی تھی۔ دیگر جماعتوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسی طرح۲۰۱۶ء میں ترنمول کانگریس نے ۱۰۰؍سیٹیں حاصل کی تھیں۔