بی جے پی پر الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر ۱۰۰؍ سیٹیں لُوٹنے کا الزام دہرایا، بتایا کہ ’’جب ہمارے تمام ایجنٹس کو مار کر باہر نکالاگیا تب میں ۳۰؍ ہزار ووٹ سے آگے تھی‘‘
بنگال کی رخصت پزیر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کولکاتا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی
اسمبلی انتخابا ت کے نتائج کے ایک دن بعد منگل کو مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا کہ وہ ’’الیکشن نہیں ہاری ‘‘ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم عوامی فیصلے سے نہیں ہارے بلکہ سازش کے تحت ہمیں ہرایاگیاہے۔‘‘ الیکشن کمیشن کو ’’جمہوریت کا ویلن‘‘ قراردیتے ہوئے ممتا نے الزام لگایا کہ اس نے بی جےپی کے ساتھ مل کر ۱۰۰؍ سیٹیں لوٹی ہیں۔ ممتابنرجی نے اس کے ساتھ ہی سڑک پر اتر کر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب میرے پاس کوئی کرسی نہیں ہے، آزاد پنچھی ہوں، کہیں سے بھی الیکشن لڑ سکتی ہوں، وزیراعلیٰ تھی اس لئے بہت کچھ سہہ رہی تھی ، اب سڑک پر اتر کر مقابلہ کروں گی۔‘‘
اخلاقی طورپر الیکشن جیتنے کا دعویٰ
منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رخصت پزیر وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی نے الیکشن میں اخلاقی طور پر جیت حاصل کی ہے۔ٹی ایم سی رہنما نے کہاکہ’’میں استعفیٰ نہیں دوں گی، میں ہاری نہیں ہوں، (استعفیٰ دینے کیلئے) راج بھون جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں نہیں جاؤں گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ اب میں یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ ہم الیکشن نہیں ہارے۔ سرکاری طور پر الیکشن کمیشن کے ذریعے وہ ہمیں ہرا سکتے ہیںلیکن اخلاقی طور پر ہم نے الیکشن جیتا ہے۔‘‘
گیانیش کمار ’’الیکشن کے ویلن‘‘
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی نے انہیں’’اس الیکشن کا ویلن‘‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ انہوں نے ای وی ایم اور عوام کے جمہوری حقوق کو’’لوٹ‘‘لیا۔ وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی کہ ’’الیکشن سے ۲؍ دن پہلے انہوں نے ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔ ہر جگہ چھاپے مارے گئے۔ تمام آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کو بدل دیا گیا۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے لوگوں کو تعینات کیا اور بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر کھیل کھیلا۔ یہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت ہے۔‘‘
انتخابی نتائج میں ایس آئی آرکا رول
ایس آئی آر جس میں بنگال کے تقریباً۹۱؍ لاکھ ووٹرس کے نام کٹ گئے، کا حوالہ دیتے ہوئے ممتا نے کہاکہ’’ہم نے تمام سرکاری مشینری کے خلاف لڑائی لڑی۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ بھی اس میں شامل تھے،(اُن کی) براہِ راست مداخلت تھی.. . انہوں نے گندااور شرمناک کھیل کھیلا۔ میں نے ایسا الیکشن کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
اپنے ساتھ مار پیٹ کا الزام
ممتا نے یہ الزام بھی لگایا کہ پیر کو ووٹوں کی گنتی کے دوران جب وہ بھوانی پور اسمبلی حلقے میں گنتی کے مرکز میں گئیں تو ان پر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ’’میں چند منٹ کیلئے اندر گئی تھی۔ انہوں نے میرے پیٹ اور کمر پر مارا،مجھے دھکا دیا اور بدسلوکی کی۔ اس وقت سی سی ٹی وی بند تھا۔‘‘
گنتی میں بھی دھاندلی
ٹی ایم سی سربراہ نے ووٹوں کی گنتی کے عمل میں بھی دھاندلی اور بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’’گنتی کے پہلے مرحلے کے بعد ہی یہ کہنا شروع کردیاگیا کہ بی جے پی کو۱۹۵؍ سے ۲۰۰؍ نشستیں مل رہی ہیں۔ آپ نےپانچویں اور چھٹے راؤنڈتک کا بھی انتظار نہیں کیا۔ میڈیا کی مدد سے یہ مہم چلانے کے بعد بی جے پی پولنگ اسٹیشن کے اندر گھس گئی اوراس نے کاؤنٹنگ ایجنٹوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ ’’جس وقت مجھے یہ معلوم ہوا کہ (ہمارے)تمام کاؤنٹنگ ایجنٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے، اس وقت میں تقریباً ۳۰؍ ہزار ووٹوں سے آگے تھی اور تقریباً۵؍راؤنڈ باقی تھے۔ ہمیں ۳۲؍ ہزار سے زیادہ کی برتری ملنی چاہیے تھی۔‘‘
ممتا نے استعفیٰ نہ دیا تو کیا ہوگا؟
آئینی اصولوں کے مطابق الیکشن ہارنے پر اگر رخصت پزیر وزیراعلیٰ استعفیٰ نہیں دیتا تو گورنر اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سمیت پوری کابینہ کو برطرف کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ غیر معمولی واقعہ ہوگا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مغربی بنگال میں اقتدار کی منتقلی کس طرح انجام پاتی ہے۔