مظاہرین نے علامتی گٹکھا اور ڈرگس نذرِ آتش کیا۔ شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے۔
این سی پی (اجیت پوار) کے مقامی لیڈر اور کارکنان منشیات کے کاروبار کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این
شہر اور مضافاتی علاقوں میں منشیات کے تیزی سے پھیلتے کاروبار کے خلاف نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار) نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے منگل کوزبردست احتجاج کیا۔ پارٹی کے مقامی صدر پروین پاٹل کی قیادت میں متعدد کارکنوں نے پارٹی دفتر کے باہر جمع ہو کر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ گٹکھا، کوکین، چرس اور دیگر نشہ آور اشیاء کی علامتی ہولی جلا کر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار بھی کیا۔
احتجاج کے دوران پروین پاٹل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھیونڈی اور اطراف کے علاقے تیزی سے منشیات کا گڑھ بنتے جا رہے ہیں جو نہ صرف نوجوان نسل کے مستقبل کیلئے خطرہ ہے بلکہ سماجی امن و امان کیلئے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دیگر ریاستوں اور شہروں کی پولیس یہاں کارروائیاں کر کے کروڑوں روپے مالیت کی ممنوعہ اشیاء ضبط کر رہی ہے مگر مقامی پولیس کی کارکردگی سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔انہوں نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ عدالت کے حکم پر ڈمپنگ گراؤنڈ میں تلف کیا گیا گٹکھا مافیا نے رات کی تاریکی میں دوبارہ نکال کر فروخت کرنے کی کوشش کی جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ اسی طرح رہنال گاؤں میں بھاری مقدار میں کوکین کی برآمدگی اور ندی ناکہ علاقے میں گجرات اے ٹی ایس کی بڑی کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھیونڈی میں منشیات کا جال کس قدر وسیع ہو چکا ہے۔پروین پاٹل نے انتظامیہ سے پُرزور مطالبہ کیا کہ بھیونڈی کو منشیات کے ناسور سے نجات دلانےکیلئے فوری اور سخت اقدامات کئے جائیں اور مقامی پولیس کے کردار کی شفاف اور غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔
اس احتجاج میں نائب صدر امیر فاروقی، فہاد انجم، مہیش اور شمیم انصاری سمیت بڑی تعداد میں کارکنان جن میں خواتین بھی تھیں، نے شرکت کی۔