اتر پردیش کا ضلع سہارنپور جہاں لکڑی کی خوبصورت نقاشی کے لیے مشہور ہے وہیں یہاں کے ذائقے دار اور خوشبودار آم دشہری، چوسہ، لنگڑا اور رام کیلا دنیا بھر میں اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 10:01 PM IST | Lucknow
اتر پردیش کا ضلع سہارنپور جہاں لکڑی کی خوبصورت نقاشی کے لیے مشہور ہے وہیں یہاں کے ذائقے دار اور خوشبودار آم دشہری، چوسہ، لنگڑا اور رام کیلا دنیا بھر میں اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔
اتر پردیش کا ضلع سہارنپور جہاں لکڑی کی خوبصورت نقاشی کے لیے مشہور ہے وہیں یہاں کے ذائقے دار اور خوشبودار آم دشہری، چوسہ، لنگڑا اور رام کیلا دنیا بھر میں اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ جاپان، یورپ اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں ان آموں کی بھاری قیمت پر برآمد کی جاتی ہے لیکن اس سال موسمی تبدیلیوں، بے موسم بارش اور ژالہ باری کے باعث آم کی پیداوار میں تقریباً ۴۰؍ فیصد کمی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ضلع باغبانی افسر گم پال سنگھ نے پیر کے روز بتایا کہ گزشتہ سال ضلع سہارنپور میں تقریباً ۴؍ لاکھ ۷۸؍ ہزار ۸۰۰؍ میٹرک ٹن آم کی پیداوار ہوئی تھی۔ ضلع میں بہیٹ کی فروٹ بیلٹ سمیت تقریباً ۲۷؍ ہزار ہیکٹیئر رقبے پر آم کی کاشت کی جاتی ہے، تاہم اس سال صرف ۵۵؍ فی صد پیداوار ہونے کی امید ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پری میٹ گالا تقریب میں ایشا امبانی کا لباس توجہ کا مرکز، ۲۶؍ ریاستوں کی نمائندگی
انہوں نے کہا کہ بے موسم بارش، آندھی، طوفان اور ژالہ باری کے سبب آم کے باغات کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ کسانوں کے نقصان کا سروے کرایا جائے گا اور جن کسانوں نے اپنی فصل کا بیمہ کرایا ہے، انہیں بیمہ کمپنی کی جانب سے معاوضہ دلایا جائے گا، جب کہ دیگر متاثرہ کسانوں کو حکومت کی طرف سے امدادی رقم فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:شمالی کوریا کے کھلاڑی ۱۲؍ سال بعد پہلی بار جنوبی کوریا میں مقابلہ کریں گے
گم پال سنگھ کے مطابق آم کی فصل جون کے مہینے میں تیار ہ و جائے گی۔ اس وقت آم کے پھل کا سائز بڑھنے کے مرحلے میں ہے، لیکن گزشتہ برس کے مقابلے میں اس بار پیداوار تقریباً نصف رہنے کا امکان ہے، جس سے آم پیدا کرنے والے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔