• Mon, 01 September, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منوج جرنگے کا مطالبات پورےہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم

Updated: August 30, 2025, 2:08 PM IST | Mumbai

شہر میںمراٹھا ریزرویشن حامیوں کا سیلاب ۔ سی ایس ایم ٹی اور ایسٹرن فری وے سے اٹل سیتوتک ٹریفک نظام درہم برہم۔ سڑکیں جام ہوگئیں ۔ مراٹھا لیڈر نے اپنے ساتھیوںسے صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی

Traffic is badly jammed in CSMT area due to Maratha Morcha
سی ایس ایم ٹی علاقے میں مراٹھامورچہ کے سبب سے ٹریفک بری طرح جام نظر آرہا ہے

مراٹھا لیڈر منوج جرنگے کی قیادت میں  ا ٓزادمیدان میں مراٹھا مورچہ میں مظاہرین کے سیلاب سے حکومت ، پولیس اور ٹریفک پولیس   بے بس نظر ا ٓئی اور نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ۔ ایک طرف مراٹھا لیڈر منوج جرنگے پاٹل ہزاروں حامیوں  کے ساتھ نہ صرف آزادمیدان میں داخل ہوکرایک بار پھر حکومت کو متنبہ کیا  اور مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنےاور بے مدت بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے  وہیںسروں پر بھگوا ٹوپی گلے میں بھگوا  اسکارف ا ورہاتھوں اور گاڑیوں پر بھگوا جھنڈا لہراتے ’ ایک مراٹھا، لاکھ مراٹھا‘ کا نعرہ لگاتے ، ہاتھوں میں تختیاں ، بینرس اورجرنگے پاٹل کی تصویر اٹھائے  سیکڑوں رضاکار ڈھول تاشا بجاتے ہوئے چھتر پتی شیواجی ٹرمنس ، آزاد میدان اور بی ایم سی ہیڈ کواٹرز کے اطراف کی  تمام سڑکوں پر قبضہ کرلیا ۔ 
  منوج جرنگے پاٹل نے آزاد میدان میں دھرنا  اور بے مدت بھوک ہڑتال کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی جہاں حکومت کو ایک بار پھر متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’چاہےمجھے گولی ماردو، میں اس وقت تک نہیں ہٹوں گا جب تک مطالبات پورے نہیں ہوجاتے۔‘‘تعلیم اور ملازمتوں میں مراٹھا سماج کیلئے ریزرویشن کی لڑائی لڑنے والی لیڈرمنوج جرنگے پاٹل کے آزاد میدان میں داخل ہوتے اور بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہی ۵۰؍ ہزار سے زائد کارکناننے چھتر پتی شیواجی مہاراج ٹرمنس سے فورٹ اور قلابہ جانے والے اور بی ایم سی ہیڈ کوارٹرز سے مرین لائنس اور مرین ڈرائیو ر جانے والی تمام سڑکوں کو جام کر دیا ۔ٹریفک کے سبب اور پولیس کے ساتھ لفظی تکرار ملنے کی خبر ملنے پرمنوج جرنگے    نے اپنے حامیوں سے کہا کہ’’ پر امن طریقہ سے احتجاج کریں ،شہریوں کو کسی بھی طرح کی پریشانی میں مبتلا نہ کریں   ساتھ ہی  پولیس  اور ٹریفک پولیس سے تعاون کریں۔‘‘
  بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے وقت مراٹھا لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’حکومت کو یا تو ہمارے مطالبات مان لینا چاہئے یا پھر ہمیں احتجاج کی اجازت دینا چاہئے   ۔ہم نے احتجاج کی اجازت طلب کی تھی ، ہمیں ممبئی اس لئے آنا پڑا کیونکہ حکومت نے ہمارے مطالبات کو نظر انداز کیا  ۔ یہی نہیں احتجاج کی اجازت مانگنے پر اجازت نہیں دی ، ہم احتجاج کی اجازت حکومت یا عدالت سے لے کر رہیں گے ۔  مطالبات تسلیم نہ کئے جانے تک ہم ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔‘‘
  جرنگے پاٹل نےایک بار پھر اپنے حامیوں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے ، نظم و ضبط کو برقرارر کھنے، تشدد نہ کرنے اور آگ لگانےیا پولیس کے ساتھ زور زبردستی کرنے سے منع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں نہ تو شہریوں کو ناراض کرنا ہے اور نہ ہی انہیں پریشان کرنا ہے ۔‘‘انہوں نے کارکنا ن کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’ہم نے پولیس سے احتجاج کو جار ی رکھنے کی اپیل کی ہےاور امید کرتے ہیں کہ وہ اس کی اجازت دے دیں گے لیکن میں سبھی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ شام کو اپنی منزل پر لوٹ جائیں ۔
 ڈپٹی کمشنر آف پولیس اکبر پٹھان نے بھی احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کئے جانے کی اطلاع دی ہے ۔
 دریں اثناء جرنگے پاٹل نے ریاستی وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ آپ کے لئے مراٹھوں کا دل جیتنے کا سنہرا موقع ہے ، ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے،    وہ ریزرویشن ہے ۔ ‘‘جرنگے پاٹل کے مطالبات کے مطابق مراٹھا سماج سے وابستہ سبھی کو کنبی سماج تسلیم کیا جائے ۔ اس کے علاوہ تعلیم اور ملازمت ریزرویشن دینے کی مانگ کی گئی  ہے ۔ تادم تحریر پولیس کو احتجاج کو جاری رکھنے کے سلسلہ میں بھیجے گئے مکتوب پر اب تک پولیس نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK